صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کی دلیل کا بیان کہ جمعہ کے دن غسل فضیلت کا باعث ہے فرض نہیں ہے
حدیث نمبر: 1757
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَبِهَا وَنِعْمَتْ , وَمَنِ اغْتَسَلَ فَذَاكَ أَفْضَلُ"
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے وضو کیا تو وہ بہت اچھا اور عمدہ ہے۔ اور جس نے غسل کیا تو غسل افضل و اعلیٰ ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1757]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 314، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1757، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1379، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1696، وأبو داود فى (سننه) برقم: 354، والترمذي فى (جامعه) برقم: 497، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1581، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1428، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20406»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1757 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1757
فوائد:
یہ حدیث جمہور علماء کے موقف کی دلیل ہے کہ غسل جمعہ مستحب ہے، واجب نہیں۔ [سبل السلام: 1/284]
یہ حدیث جمہور علماء کے موقف کی دلیل ہے کہ غسل جمعہ مستحب ہے، واجب نہیں۔ [سبل السلام: 1/284]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1757]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1757 in Urdu
الحسن البصري ← سمرة بن جندب الفزاري