صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کی دلیل کا بیان کہ جب جماع کرنے والے پر دو ماہ کے مسلسل روزے واجب ہوں اور وہ ان کی ادائیگی میں کوتاہی برتے حتیٰ کہ اسے موت آجائے تو اُس کی طرف سے روزے کی قضا دی جائے گی جیسا کہ اس کا مالی قرض ادا کیا جاتا ہے۔ اس بات کی دلیل کے ساتھ کہ اللہ تعالی کا قرض بندوں کے قرض کی نسبت ادائیگی کا زیادہ مستحق ہے
حدیث نمبر: 1953
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، وَسَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، وَمُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، وَعَطَاءٍ ، وَمُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ: إِنَّ أُخْتِي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ , قَالَ:" لَوْ كَانَ عَلَى أُخْتِكَ دَيْنٌ , أَكُنْتِ تَقْضِينَهُ؟" قَالَتْ: نَعَمْ , قَالَ:" فَحَقُّ اللَّهِ أَحَقُّ"
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اُس نے عرض کیا کہ میر ی بہن فوت ہوگئی ہے اور اس پر مسلسل دو ماہ کے روزے واجب ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہاری بہن پر (مالی) قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں؟“ اُس نے جواب دیا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اللہ کا حق ادا ئیگی کا زیادہ حق دار ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1953]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1953، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1148، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1014، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1953، 2053، 2054، 2055، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3530، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3825، وأبو داود فى (سننه) برقم: 3308، 3310، والترمذي فى (جامعه) برقم: 716، 717، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1809، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1758، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8321، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2338، 2339، 2340، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1886»