صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
ہر مہینے تین روزے رکھنے کا حُکم استحباب کے لئے ہے وجوب کے لئے نہیں
حدیث نمبر: 2122
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ:" أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلاثٍ، لا أَدَعُهُنَّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَبَدًا، أَوْصَانِي بِصَلاةِ الضُّحَى، وَبِالْوَتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَبِصَوْمِ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ"
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل نے تین چیزوں کی وصیت فرمائی تھی، انہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا۔ ان شاء اللہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چاشت کی نماز پڑھنے، سونے سے پہلے وتر ادا کرنے اور ہر مہینے میں تین روزے رکھنے کی وصیت کی تھی۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2122]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1083، 1221، 2122، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3659، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2403، والترمذي فى (جامعه) برقم: 762، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1708، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8527، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7692»
حدیث نمبر: 2123
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلالٍ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْعنبري ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" أَوْصَانِي خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلاثٍ: صَوْمِ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَالْوَتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت فرمائی تھی، ہر مہینے میں تین روزے رکھنے، سونے سے پہلے وتر ادا کرنے اور چاشت کی دو رکعت ادا کرنے کی وصیت فرمائی تھی۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2123]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1178، 1981، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 721، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1222، 1223، 2123، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2536، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1676، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1432، والترمذي فى (جامعه) برقم: 455، 760، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2787، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7259»