صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
اس بات کی دلیل کا بیان کہ ہر مہینے تین روزے رکھنے کا حُکم استحبابی ہے، وجوبی نہیں
حدیث نمبر: 2124
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَخْبَرَنَا أَبِي ، وَشُعَيْبٌ ، قَالا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدَ، أَنَّ مُطَرِّفًا مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيَّ دَعَا لَهُ بِلَبَنٍ يَسْقِيهِ، فَقَالَ مُطَرِّفٌ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الصَّوْمُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ، كَجُنَّةِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْقِتَالِ"
امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث جس میں اعرابی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام کے بارے میں سوال کیا تھا، اُس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور رمضان کے روزے فرض ہیں، اُس نے عرض کیا کہ رمضان کے روزوں کے سوا کوئی اور روزے مجھ پر فرض ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں مگر یہ کہ تم نفلی روزے رکھو۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2124]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 46، 1891، 2678، 6956، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 11، ومالك فى (الموطأ) برقم: 604، وابن الجارود فى "المنتقى"، 161، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 306، 2124، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1724، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 457، وأبو داود فى (سننه) برقم: 391، 3252، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1619، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1720، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1407»
بنی عامر بن صعصعہ کے فرس جناب مطرف بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن ابی العاص ثقفی رضی اللہ عنہ نے انہیں پلانے کے لئے دودھ منگوایا تو جناب مطرف نے عرض کی کہ میں روزے سے ہوں۔ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ” روزہ جہنّم کی آگ سے بچاؤ کی ایسی ہی ڈھال ہے جیسی تم میں سے کسی شخص کی جنگ میں بچاؤ کی ڈھال ہوتی ہے۔“ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بہترین روزے ہر مہینے کے تین روزے ہیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2125]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1891، 2125، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3649، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2229، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1639، وأحمد فى (مسنده) برقم: 16531»