صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
ہر مہینے تین روزے رکھنے کا حُکم استحباب کے لئے ہے وجوب کے لئے نہیں
حدیث نمبر: 2123
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلالٍ الصَّوَّافُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْعنبري ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ:" أَوْصَانِي خَلِيلِي أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلاثٍ: صَوْمِ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَالْوَتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میرے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت فرمائی تھی، ہر مہینے میں تین روزے رکھنے، سونے سے پہلے وتر ادا کرنے اور چاشت کی دو رکعت ادا کرنے کی وصیت فرمائی تھی۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 2123]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1178، 1981، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 721، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1222، 1223، 2123، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2536، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1676، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1432، والترمذي فى (جامعه) برقم: 455، 760، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2787، وأحمد فى (مسنده) برقم: 7259»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2123 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2123
فوائد:
➊ ان احادیث میں دو رکعت نمازِ چاشت، ہر مہینے کے تین روزوں اور سونے سے قبل وتر ادا کرنے کی ترغیب ہے اور اس شخص کے لیے اولِ رات میں وتر پڑھنا افضل ہے، جو رات کے پچھلے پہر بیدار نہ ہو سکتا ہو۔ [شرح النووي: 3/ 48]
➋ ہر مہینے کے تین روزے رکھنا واجب نہیں بلکہ مستحب فعل ہے۔
➊ ان احادیث میں دو رکعت نمازِ چاشت، ہر مہینے کے تین روزوں اور سونے سے قبل وتر ادا کرنے کی ترغیب ہے اور اس شخص کے لیے اولِ رات میں وتر پڑھنا افضل ہے، جو رات کے پچھلے پہر بیدار نہ ہو سکتا ہو۔ [شرح النووي: 3/ 48]
➋ ہر مہینے کے تین روزے رکھنا واجب نہیں بلکہ مستحب فعل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2123]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2123 in Urdu
أبو عثمان النهدي ← أبو هريرة الدوسي