صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1602. (47) بَابُ ذِكْرِ مَبْلَغِ الْوَسْقِ إِنْ صَحَّ الْخَبَرُ،
ایک وسق کی مقدار کا بیان بشرطیکہ یہ روایت صحیح ہو، اس روایت میں مذکور اس کی مقدار کی وجہ سے علماء کرام میں اس کی مقدار کے متعلق کوئی اختلاف نہیں ہے لیکن میرے خیال میں ابوالبختری نے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت نہیں سنی ہے
حدیث نمبر: Q2310
وَلَا خِلَافَ بَيْنَ الْعُلَمَاءِ فِي مَبْلَغِهِ عَلَى مَا رُوِيَ فِي هَذَا الْخَبَرِ إِلَّا أَنَّ أَبَا الْبَخْتَرِيِّ لَا أَحْسَبُهُ سَمِعَ مِنْ أَبِي سَعِيدٍ
حدیث نمبر: 2310
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِدْرِيسَ الأَوْدِيَّ ، يَذْكُرُ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ إِدْرِيسَ الأَوْدِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، يَرْفَعُهُ قَالَ: " لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ زَكَاةٌ" ، وَالْوَسْقُ: سِتُّونَ مَخْتُومًا، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يُرِيدُ الْمَخْتُومُ، الصَّاعُ، وَلا خِلافَ بَيْنَ الْعُلَمَاءِ أَنَّ الْوَسْقَ سِتُّونَ صَاعًا، وَقَدْ بَيَّنْتُ مَبْلَغَ الصَّاعِ فِي كِتَابِ الأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ فِي ذِكْرِ كَفَّارَةِ الْيَمِينِ
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ وسق سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے اور ایک وسق ساٹھ صاع ہوتا ہے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ مختوم سے مراد صاع ہے۔ علمائے کرام کا اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ایک وسق ساٹھ صاع ہوتا ہے اور میں کتاب الایمان والنذور میں قسم کے کفارے کے بیان میں صاع کی مقدار بیان کرچکا ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ صَدَقَةِ الْحُبُوبِ وَالثِّمَارِ/حدیث: 2310]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف منقطع، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1405، 1447، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 979، ومالك فى (الموطأ) برقم: 832، وابن الجارود فى "المنتقى"، 375، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2263، 2293، 2294، 2295، 2301، 2302، 2303، 2305، 2310، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 3268، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2444، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1558، والترمذي فى (جامعه) برقم: 626، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1793، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 7343، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1899، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11187»