صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1949. (208) بَابُ ذِكْرِ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ السَّعْيَ الَّذِي ذَكَرْتُ أَنَّهُ وَاجِبٌ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، وَسَعْيًا كَانَ أَوْ مَشْيًا بِسَكِينَةٍ وَتُؤَدَةٍ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ صفا اور مروہ کی سعی واجب ہے، خواہ دوڑ کر کی جائے یا عام رفتار سے آرام وسکون سے چل کر کی جائے
تخریج الحدیث:
حدیث نمبر: 2770
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُنْذِرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَمْشِي فِي الْمَسْعَى، فَقُلْتُ لَهُ: تَمْشِي فِي الْمَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ؟ فَقَالَ:" لَئِنْ سَعَيْتُ لَقَدْ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى، وَلَئِنْ مَشَيْتُ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي، وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ"
جناب کثیر بن جمہان سلمی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دوڑنے کی جگہ (صفا مروہ کے نشیبی علاقے) میں عام رفتار سے چلتے ہوئے دیکھا تو میں نے اُن سے عرض کیا کہ آپ صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنے کی جگہ پر عام چال (کیوں) چل رہے ہیں؟ تو اُنہوں نے فرمایا، اگر میں دوڑ لگاؤں تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دوڑتے ہوئے دیکھا ہے۔ اور اگر میں عام چال چلوں تو بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام چال چلتے ہوئے بھی دیکھا ہے، اور میں ایک بوڑھا شخص ہوں (اس لئے عام رفتار سے چل رہا ہوں)۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: 2770]
تخریج الحدیث: صحيح
حدیث نمبر: 2771
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَمْشِي بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: فَقَالَ:" إِنْ أَمْشِ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي، وَإِنْ أَسْعَ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى" .
جناب کثیر بن جمہان بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو صفا اور مروہ کے درمیان عام رفتار سے چلتے ہوئے دیکھا تو میں نے ان سے عرض کیا (کہ آپ اس دوڑنے کے مقام پر عام چال چل رہے ہیں) تو اُنہوں نے فرمایا کہ اگر میں عام چال چلوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام چال چلتے ہوئے دیکھا ہے۔ اور اگر میں دوڑ لگاؤں تو میں نے رسول اللہ کو دوڑ لگاتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: 2771]
تخریج الحدیث: انظر الحديث السابق
حدیث نمبر: 2772
وحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، ثنا فِي عَقِبِهِ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، نَحْوَهُ.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مذکورہ بالا کی طرح مروی ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: 2772]
تخریج الحدیث: اسناده صحيح
حدیث نمبر: 2773
وَرَوَى سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعَى عَامًا، وَمَشَى عَامًا" ، ثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سال (صفا مروہ کے درمیان) دوڑ لگائی اور ایک سال عام چال چلے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: 2773]
تخریج الحدیث: اسناده ضعيف