🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2010. ‏(‏269‏)‏ بَابُ الْأَذَانِ لِلْمَغْرِبِ وَالْإِقَامَةِ لِلْعِشَاءِ مِنْ غَيْرِ أَذَانٍ، إِذَا جُمِعَ بَيْنَهُمَا بِالْمُزْدَلِفَةِ
جب مزدلفہ میں نماز مغرب و عشاء کو جمع کریںگے تو مغرب کے لئے اذان اور اقامت جبکہ عشاء کے لئے صرف اقامت کہیں گے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2850
خِلَافَ، قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ الصَّلَاتَيْنِ إِذَا جُمِعَ بَيْنَهُمَا فِي وَقْتِ الْآخِرَةِ مِنْهُمَا جُمِعَ بَيْنَهُمَا بِإِقَامَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ أَذَانٍ‏.‏
اس شخص کے قول کے برخلاف جو کہتا ہے کہ جب دو نمازوں کو دوسری نماز کے وقت میں جمع کیا جائے تو دونوں کے لئے صرف اقامت کہی جائیگی اور اذان نہیں دی جائیگی [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: Q2850]
تخریج الحدیث:

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2850
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: أَفَضْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ، فَلَمَّا بَلَغَ الشِّعْبَ الَّذِي يَنْزِلُ عِنْدَهُ الأُمَرَاءُ بَالَ، وَتَوَضَّأَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلاةَ , قَالَ: " الصَّلاةُ أَمَامَكَ"، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الْجَمْعِ أَذَّنَ وَأَقَامَ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ آخِرُ النَّاسِ حَتَّى أَقَامَ، فَصَلَّى الْعِشَاءَ ، خَبَرُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا الْبَابِ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں عرفات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ واپس آیا، جب آپ اس گھاٹی کے پاس پہنچے جہاں امراء اور حکمران اُترتے ہیں تو آپ نے وہاں اُتر کر پیشاب کیا اور وضو کیا۔ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، نماز پڑھنا چاہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: نماز آگے جا کر ادا کریںگے پھر جب آپ مزدلفہ پہنچے تو آپ نے اذان کہلوائی اور اقامت ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز ادا کی، پھر ابھی سب لوگوں نے اپنی سواریوں کو کھولا بھی نہ تھا کہ اقامت ہوئی اور آپ نے عشاء کی نماز پڑھائی۔ جناب جعفر بن محمد کی روایت بھی اس مسئلے کے متعلق ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أَبْوَابِ ذِكْرِ أَفْعَالٍ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي إِبَاحَتِهِ لِلْمُحْرِمِ، نَصَّتْ سُنَّةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَلَّتْ عَلَى إِبَاحَتِهَا/حدیث: 2850]
تخریج الحدیث: تقدم۔۔۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں