صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2010. (269) بَابُ الْأَذَانِ لِلْمَغْرِبِ وَالْإِقَامَةِ لِلْعِشَاءِ مِنْ غَيْرِ أَذَانٍ، إِذَا جُمِعَ بَيْنَهُمَا بِالْمُزْدَلِفَةِ
جب مزدلفہ میں نماز مغرب و عشاء کو جمع کریںگے تو مغرب کے لئے اذان اور اقامت جبکہ عشاء کے لئے صرف اقامت کہیں گے۔
حدیث نمبر: Q2850
خِلَافَ، قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ الصَّلَاتَيْنِ إِذَا جُمِعَ بَيْنَهُمَا فِي وَقْتِ الْآخِرَةِ مِنْهُمَا جُمِعَ بَيْنَهُمَا بِإِقَامَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ أَذَانٍ.
اس شخص کے قول کے برخلاف جو کہتا ہے کہ جب دو نمازوں کو دوسری نماز کے وقت میں جمع کیا جائے تو دونوں کے لئے صرف اقامت کہی جائیگی اور اذان نہیں دی جائیگی [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: Q2850]
حدیث نمبر: 2850
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: أَفَضْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ، فَلَمَّا بَلَغَ الشِّعْبَ الَّذِي يَنْزِلُ عِنْدَهُ الأُمَرَاءُ بَالَ، وَتَوَضَّأَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلاةَ , قَالَ: " الصَّلاةُ أَمَامَكَ"، فَلَمَّا انْتَهَى إِلَى الْجَمْعِ أَذَّنَ وَأَقَامَ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ آخِرُ النَّاسِ حَتَّى أَقَامَ، فَصَلَّى الْعِشَاءَ ، خَبَرُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ مِنْ هَذَا الْبَابِ
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں عرفات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ واپس آیا، جب آپ اس گھاٹی کے پاس پہنچے جہاں امراء اور حکمران اُترتے ہیں تو آپ نے وہاں اُتر کر پیشاب کیا اور وضو کیا۔ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول، نماز پڑھنا چاہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”نماز آگے جا کر ادا کریںگے“ پھر جب آپ مزدلفہ پہنچے تو آپ نے اذان کہلوائی اور اقامت ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز ادا کی، پھر ابھی سب لوگوں نے اپنی سواریوں کو کھولا بھی نہ تھا کہ اقامت ہوئی اور آپ نے عشاء کی نماز پڑھائی۔ جناب جعفر بن محمد کی روایت بھی اس مسئلے کے متعلق ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر أفعال اختلف الناس فى إباحته للمحرم، نصت سنة النبى صلى الله عليه وسلم أو دلت على إباحتها/حدیث: 2850]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 139، 181، 1666، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1280، ومالك فى (الموطأ) برقم: 1465، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 64، 973، 2824، 2844، 2845، 2847، 2850، 2851، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1594، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1715، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1921، 1923، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 3017، 3019، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 390، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1854»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أسامة بن زيد الكلبي، أبو حارثة، أبو يزيد، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو زيد | صحابي | |
👤←👥كريب بن أبي مسلم القرشي، أبو رشدين كريب بن أبي مسلم القرشي ← أسامة بن زيد الكلبي | ثقة | |
👤←👥إبراهيم بن عقبة الأسدي إبراهيم بن عقبة الأسدي ← كريب بن أبي مسلم القرشي | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← إبراهيم بن عقبة الأسدي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث | |
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى محمد بن المثنى العنزي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري | ثقة ثبت |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 2850 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 2850
فوائد:
➊ مزدلفہ میں مغرب و عشاء کے لیے ایک اذان کہنا اور ہر نماز کے لیے علیحدہ علیحدہ اقامت کہنا مسنون و مستحب ہے۔
➊ مزدلفہ میں مغرب و عشاء کے لیے ایک اذان کہنا اور ہر نماز کے لیے علیحدہ علیحدہ اقامت کہنا مسنون و مستحب ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 2850]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 2850 in Urdu
كريب بن أبي مسلم القرشي ← أسامة بن زيد الكلبي