🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

60. باب بَيَانِ الْوَسْوَسَةِ فِي الإِيمَانِ وَمَا يَقُولُهُ مَنْ وَجَدَهَا:
باب: ایمان میں وسوسہ کا بیان اور وسوسہ آنے پر کیا کہنا چاہیے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 132 ترقیم شاملہ: -- 340
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوهُ: إِنَّا نَجِدُ فِي أَنْفُسِنَا مَا يَتَعَاظَمُ أَحَدُنَا أَنْ يَتَكَلَّمَ بِهِ، قَالَ: وَقَدْ وَجَدْتُمُوهُ، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: " ذَاكَ صَرِيحُ الإِيمَانِ ".
سہیل نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگ حاضر ہوئے اور آپ سے پوچھا: ہم اپنے دلوں میں ایسی چیزیں محسوس کرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی ان کو زبان پر لانا بہت سنگین سمجھتا ہے، آپ نے پوچھا: کیا تم نے واقعی اپنے دلوں میں ایسا محسوس کیا ہے؟ انہوں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: یہی صریح ایمان ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 340]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ ساتھی حاضر ہو کر درخواست گزار ہوئے: ہمارے دل میں ایسے وساوس آتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی ان کو زبان پر لانا انتہائی سنگین سمجھتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: «أَوَقَدْ وَجَدْتُمُوهُ؟» کیا واقعی ان خیالات پر یہ گرانی محسوس کرتے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «ذَاكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ» یہ تو خالص ایمان ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 340]
ترقیم فوادعبدالباقی: 132
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (12600)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 132 ترقیم شاملہ: -- 341
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ رُزَيْقٍ كِلَاهُمَا، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ.
اعمش نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 341]
امام مسلم رحمہ اللہ اپنے دوسرے اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 341]
ترقیم فوادعبدالباقی: 132
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم ((التحفة)) برقم (12446)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 133 ترقیم شاملہ: -- 342
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الصَّفَّارُ ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ ، عَنْ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوَسْوَسَةِ، قَالَ: " تِلْكَ مَحْضُ الإِيمَانِ ".
حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وسوسے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: یہی تو خالص ایمان ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 342]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وسوسے کے بارے میں سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو خالص ایمان ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 342]
ترقیم فوادعبدالباقی: 133
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - ((التحفة)) برقم (9446)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 134 ترقیم شاملہ: -- 343
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزَالُ النَّاسُ يَتَسَاءَلُونَ، حَتَّى يُقَالَ: هَذَا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَلْيَقُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ ".
سفیان نے ہشام سے حدیث سنائی، انہوں نے اپنے والد (عروہ) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ ہمیشہ ایک دوسرے سے (فضول) سوالات کرتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ سوال بھی ہو گا کہ اللہ نے سب مخلوق کو پیدا کیا ہے تو پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ جو شخص ایسی کوئی چیز دل میں پائے تو کہے: میں اللہ پر ایمان لایا ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 343]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ ہمیشہ ایک دوسرے سے (فضول) سوالات کرتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ (احمقانہ) سوال بھی ہوگا کہ اللہ نے سب مخلوق کو پیدا کیا ہے، تو پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے؟ پس جس کسی کے ذہن میں اس قسم کا سوال پیدا ہو، وہ یہی کہہ کر (بات ختم کر دے) «آمَنْتُ بِاللّٰهِ» میں اللہ پر ایمان لایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 343]
ترقیم فوادعبدالباقی: 134
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في (صحيحه)) في بدء الخلق، باب: صفة ابليس و جنوده برقم (3102) بنحوه وابوداؤد في ((سننه)) في السنة، باب: في الجهمية برقم (4721) انظر ((التحفة)) برقم (14160)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 134 ترقیم شاملہ: -- 344
وحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ، فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ السَّمَاءَ، مَنْ خَلَقَ الأَرْضَ؟، فَيَقُولُ: اللَّهُ "، ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِهِ، وَزَادَ وَرُسُلِهِ.
ابوسعید مؤدب نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کے پاس شیطان آتا ہے اور کہتا ہے: آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ زمین کو کس نے پیدا کیا؟ تو وہ (جواب میں) کہتا ہے اللہ نے ..... پھر اوپر والی روایت کی طرح بیان کی اور اس کے رسولوں پر (ایمان لایا) کے الفاظ کا اضافہ کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 344]
امام مسلم رحمہ اللہ ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کے پاس شیطان آ کر کہتا ہے: آسمان کو کس نے پیدا کیا؟ زمین کو کس نے پیدا کیا؟ تو وہ جواب دیتا ہے: اللہ نے۔ پھر اوپر والی روایت بیان کی اور «آمَنْتُ بِاللّٰهِ» کے بعد «وَرُسُلِهِ» اور اس کے رسولوں پر کا اضافہ کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 344]
ترقیم فوادعبدالباقی: 134
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (341)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 134 ترقیم شاملہ: -- 345
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد جميعا، عَنْ يَعْقُوبَ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْتِي الشَّيْطَانُ أَحَدَكُمْ، فَيَقُولَ: مَنْ خَلَقَ كَذَا وَكَذَا؟ حَتَّى يَقُولَ لَهُ: مَنْ خَلَقَ رَبَّكَ؟ فَإِذَا بَلَغَ ذَلِكَ، فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ وَلْيَنْتَهِ ".
ابن شہاب کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ بن مسلم) نے اپنے چچا (محمد بن مسلم زہری) سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کے پاس شیطان آ کر کہتا ہے کہ فلاں فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا؟ یہاں تک کہ اس سے کہتا ہے: تمہارے رب کو کس نے پیدا کیا؟ جب بات یہاں تک پہنچے تو وہ اللہ سے پناہ مانگے اور (مزید سوچنے سے) رک جائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 345]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کے پاس شیطان آتا ہے اور پوچھتا ہے: فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا؟ فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا؟ یہاں تک کہ وہ اس سے سوال کرتا ہے: تیرے رب کو کس نے پیدا کیا؟ (پس سوالات کا سلسلہ) جب یہاں تک پہنچے تو وہ اللہ سے پناہ مانگے اور رک جائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 345]
ترقیم فوادعبدالباقی: 134
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (341)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 134 ترقیم شاملہ: -- 346
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَأْتِي الْعَبْدَ الشَّيْطَانُ، فَيَقُولُ: مَنْ خَلَقَ كَذَا وَكَذَا؟ " مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ.
عقیل بن خالد نے کہا کہ ابن شہاب نے کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندے کے پاس شیطان آتا ہے اور کہتا ہے: فلاں فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا؟ حتیٰ کہ اس سے کہتا ہے: تیرے رب کو کس نے پیدا کیا؟ سو جب بات یہاں تک پہنچے تو اللہ کی پناہ مانگے اور رک جائے۔ (یہ حدیث) ابن شہاب کے بھتیجے کی بیان کردہ حدیث کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 346]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بندے کے پاس شیطان آتا ہے اور کہتا ہے: فلاں فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا؟ آگے مذکورہ بالا روایت جیسے الفاظ ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 346]
ترقیم فوادعبدالباقی: 134
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (341)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 135 ترقیم شاملہ: -- 347
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَزَالُ النَّاسُ يَسْأَلُونَكُمْ عَنِ الْعِلْمِ، حَتَّى يَقُولُوا: هَذَا اللَّهُ خَلَقَنَا، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ "، قَالَ: وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ رَجُلٍ، فَقَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ، قَدْ سَأَلَنِي اثْنَانِ وَهَذَا الثَّالِثُ، أَوَ قَالَ: سَأَلَنِي وَاحِدٌ وَهَذَا الثَّانِي.
عبدالوارث بن عبدالصمد کے دادا عبدالوارث بن سعید نے ایوب سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: لوگ تم سے ہمیشہ علم کے بارے میں سوال کریں گے یہاں تک کہ یہ کہیں گے: اللہ نے ہمیں پیدا کیا ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ ابن سیرین نے کہا: اس وقت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک آدمی کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے تو کہنے لگے: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔ مجھ سے دو (آدمیوں) نے (یہی) سوال کیا تھا اور یہ تیسرا ہے (یا کہا:) مجھ سے ایک (آدمی) نے (پہلے یہ) سوال کیا تھا اور یہ دوسرا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 347]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ تم سے ہمیشہ علم کے بارے میں سوال کریں گے یہاں تک کہ کہیں گے، یہ اللہ ہے اس نے ہمیں پیدا کیا ہے، تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے؟ اور وہ ایک آدمی کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے اور کہنے لگے: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔ مجھ سے تو دو آدمی سوال کر چکے ہیں اور یہ تیسرا ہے، یا کہا: مجھ سے ایک نے سوال کیا تھا اور یہ دوسرا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 347]
ترقیم فوادعبدالباقی: 135
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14442)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 135 ترقیم شاملہ: -- 348
وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَيَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : لَا يَزَالُ النَّاسُ، بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الإِسْنَادِ، وَلَكِنْ قَدْ قَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ.
اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے، انہوں نے محمد بن سیرین سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگ ہمیشہ سوال کرتے رہیں گے .... باقی حدیث عبدالوارث کی حدیث کی مانند ہے۔ تاہم انہوں نے سند میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا، لیکن آخر میں یہ کہا ہے: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 348]
امام مسلم رحمہ اللہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا روایت ایک اور سند سے بیان کرتے ہیں، فرق یہ ہے کہ اس سند میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا، لیکن حدیث کے آخر میں یہ کہا: «صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ» اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 348]
ترقیم فوادعبدالباقی: 135
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (14410)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 135 ترقیم شاملہ: -- 349
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الرُّومِيِّ ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَزَالُونَ يَسْأَلُونَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ حَتَّى يَقُولُوا: " هَذَا اللَّهُ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ "، قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا فِي الْمَسْجِدِ، إِذْ جَاءَنِي نَاسٌ مِنَ الأَعْرَابِ، فَقَالُوا: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، هَذَا اللَّهُ، فَمَنْ خَلَقَ اللَّهَ؟ قَالَ: فَأَخَذَ حَصًى بِكَفِّهِ فَرَمَاهُمْ، ثُمَّ قَالَ: قُومُوا قُومُوا، صَدَقَ خَلِيلِي.
ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوہریرہ! لوگ ہمیشہ تم سے سوال کرتے رہیں گے حتیٰ کہ کہیں گے: یہ (ہر چیز کا خالق) اللہ ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر (ایک دفعہ) جب میں مسجد میں تھا تو میرے پاس کچھ بدو آئے اور کہنے لگے: اے ابوہریرہ! یہ اللہ ہے، پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ (ابوسلمہ نے) کہا: تب انہوں نے مٹھی میں کنکر پکڑے اور ان پر پھینکے اور کہا: اٹھو اٹھو! (یہاں سے جاؤ) میرے خلیل (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) نے بالکل سچ فرمایا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 349]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگ ہمیشہ تجھ سے سوال کرتے رہیں گے اے ابوہریرہ! یہاں تک کہ کہیں گے: یہ اللہ ہے، تو اللہ کو کس نے پیدا کیا؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا: اسی اثنا میں کہ میں مسجد میں تھا کہ اچانک میرے پاس کچھ بدوی آئے اور کہنے لگے: اے ابوہریرہ! یہ اللہ ہے، تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے؟ راوی کہتے ہیں: تو انہوں نے مٹھی میں کنکر لے کر پھینکے، پھر کہا: اٹھو، اٹھو، میرے خلیل نے سچ فرمایا (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 349]
ترقیم فوادعبدالباقی: 135
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، انفرد به مسلم - انظر ((التحفة)) برقم (15403)»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں