صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
61. باب وَعِيدِ مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ فَاجِرَةٍ بِالنَّارِ:
باب: جھوٹی قسم کھاکر کسی مسلمان کا حق مارنے پر جہنم کی وعید۔
ترقیم عبدالباقی: 137 ترقیم شاملہ: -- 353
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جميعا، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْعَلَاءُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى الْحُرَقَةِ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبٍ السَّلَمِيِّ ، عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ، فَقَدْ أَوْجَبَ اللَّهُ لَهُ النَّارَ، وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ "، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: وَإِنْ قَضِيبًا مِنْ أَرَاك.
معبدبن کعب سلمی نے اپنے بھائی عبداللہ بن کعب سے، انہوں نے حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنی قسم کے ذریعے سے کسی مسلمان کا حق مارا، اللہ نے اس کے لیے آگ واجب کر دی اور اس پر جنت حرام ٹھہرائی۔“ ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اگرچہ وہ معمولی سی چیز ہو، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”چاہے وہ پیلو کے درخت کی ایک شاخ ہو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 353]
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اپنی قسم سے کسی مسلمان کا حق دبایا تو اللہ نے اس کے لیے دوزخ کو لازم کردیا اور جنت کو اس کے لیے حرام ٹھہرایا۔“ ایک شخص نے عرض کیا: اگرچہ وہ حقیر چیز ہو؟ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ وہ پیلو کے درخت کی شاخ ہو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 353]
ترقیم فوادعبدالباقی: 137
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه النسائي في ((أداب القضاء)) في قليل المال وكثيره برقم 246/8 - وابن ماجه في ((سننه)) في الاحكام، باب: من حلف علي يمين فاجرة ليقتطع بها مالا برقم (2324) انظر ((التحفة)) برقم (1744)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 137 ترقیم شاملہ: -- 354
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَخَاهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ الْحَارِثِيّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
محمد بن کعب سے روایت ہے، انہوں نے اپنے بھائی عبداللہ بن کعب سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ ابوامامہ حارثی رضی اللہ عنہ نے ان کو بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند حدیث سنی [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 354]
امام مسلم رحمہ اللہ اپنے دوسرے اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت نقل کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 354]
ترقیم فوادعبدالباقی: 137
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (351)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 138 ترقیم شاملہ: -- 355
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ، يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ "، قَالَ: فَدَخَلَ الأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ ، فَقَالَ: مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالُوا: كَذَا وَكَذَا، قَالَ: صَدَقَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فِيَّ نَزَلَتْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ أَرْضٌ بِالْيَمَنِ، فَخَاصَمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ، فَقُلْتُ: لَا، قَالَ: فَيَمِينُهُ، قُلْتُ: إِذَنْ يَحْلِفُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينِ صَبْرٍ، يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ "، فَنَزَلَتْ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الآيَةِ.
اعمش نے ابووائل سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: ”جس نے مسلمان کا مال دبانے کے لیے ایسی قسم کھائی جس کے لیے عدالت نے اسے پابند کیا اور وہ اس میں جھوٹا ہے، وہ اللہ کے سامنے اس حالت میں حاضر ہو گا کہ اللہ اس پر ناراض ہو گا۔“ انہوں (وائل) نے کہا: اس موقع پر حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ (مجلس میں) داخل ہوئے اور کہا: ابوعبدالرحمن (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) تمہیں کیا حدیث بیان کر رہے ہیں؟ لوگوں نے کہا: اس اس طرح (بیان کر رہے ہیں۔) انہوں نے کہا: ابوعبدالرحمن نے سچ کہا، یہ آیت میرے ہی معاملے میں نازل ہوئی۔ میرے اور ایک آدمی کے درمیان یمن کی ایک زمین کا معاملہ تھا۔ میں اس کے ساتھ جھگڑا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں لے گیا تو آپ نے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کوئی دلیل (یا ثبوت) ہے؟“ میں نے عرض کی: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”تو پھر اس کی قسم (پر فیصلہ ہو گا۔)“ میں نے کہا: تب وہ قسم کھا لے گا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی مسلمان کا مال دبانے کے لیے ایسی قسم کھائی جس کا فیصلہ کرنے والے نے اس سے مطالبہ کیا تھا اور وہ اس قسم میں جھوٹا ہے تو وہ اللہ کے سامنے اس حالت میں حاضر ہو گا کہ اللہ اس پر ناراض ہو گا۔“ اس پر یہ آیت اتری: ”بلاشبہ جو لوگ اللہ کے ساتھ کیے گئے وعدے اور اپنی قسموں کا سودا تھوڑی قیمت پر کرتے ہیں .....“ آیت کے آخر تک۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 355]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بیان کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے مسلمان کا مال دبانے کے لیے فیصلہ کن جھوٹی قسم کھائی، وہ اللہ سے ملاقات اس حال میں کرے گا کہ وہ اس سے ناراض ہوگا۔“ راوی بیان کرتا ہے کہ اس دوران ان کے پاس اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ آگئے اور پوچھنے لگے: تمھیں ابو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کیا سنایا ہے؟ حاضرین نے کہا فلاں فلاں بات بتائی ہے، اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا: ابو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے سچ کہا، یہ آیت میرے بارے میں اتری ہے، میری اور ایک آدمی کی مشترکہ زمین تھی۔ میں اس کے ساتھ اپنا جھگڑا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تیرے پاس شہادت (گواہ) ہے؟“ میں نے عرض کیا: نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر اس سے قسم لینی ہوگی۔“ میں نے کہا: تو وہ قسم اٹھا دے گا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے فیصلہ کن جھوٹی قسم اٹھائی، تاکہ کسی مسلمان کا مال قبضہ میں کرے، وہ اللہ کو اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہو گا۔“ اس پر یہ آیت اتری ”اور جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعے متاعِ حقیر حاصل کرتے ہیں...“ آخر تک (آیت آلِ عمران: 77) [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 355]
ترقیم فوادعبدالباقی: 138
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في المساقاة، باب: الخصومة في البئر والقضاء فيها برقم (2229) وفى الرهن، باب: اذا اختلف الراهن والمرتهن ونحوه، فالبينة على المدعى واليمين على المدعى عليه برقم (2380) وفى الشهادات، باب: سوال الحاكم المدعى، هل لك بينة قبل اليمين برقم (2523) وفى باب: قول الله تعالى: ﴿ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا ﴾ برقم (2531) مختصراً وأخرجه ايضا في كتاب الخصومات باب كلام الخصوم بعضهم مع بعض برقم (2285) وأخرجه ايضا فى كتاب التفسير: آل عمران, باب: ﴿ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَٰئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ ﴾ برقم (4275) وأخرجه ايضا في كتاب الايمان والنذور، باب: عهد الله عز وجل برقم (6283) وأخرجه ايضا في الكتاب نفسه، باب: قول تعالى: ﴿ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَٰئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ .... الاية ﴾ برقم (6299) وأخرجه فى الاحكام، باب: الحكم في البئر ونحوها برقم (6761) وفي التوحيد، باب: قوله تعالى ﴿ وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ ، إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ﴾ برقم (7007) وابوداؤد في ((سننه)) في الايمان والنذور، باب: فيمن حلف يمينا ليقطع بها مالا لاحد برقم (3243) والترمذی فی ((جامعه)) في البيوع، باب: ما جاء في اليمين الفاجرة يقتطع به مال المسلم۔ برقم (1269) وقال: حدیث ابن مسعود حدیث حسن صحيح - وأخرجه ايضا في التفسير، باب: ومن سورة آل عمران، وقال: حسن صحيح برقم (2996) وابن ماجه في ((سننه)) في الاحكام، باب: من حلف على يمين فاجرة ليقتطع بها مالا مختصراً برقم (2323) انظر ((التحفة)) برقم (158 و 9244)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 138 ترقیم شاملہ: -- 356
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ، يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا، وهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ "، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الأَعْمَشِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: كَانَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فِي بِئْرٍ، فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ.
(اعمش کے بجائے) منصور نے ابووائل سے اور انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جو شخص ایسی قسم اٹھاتا ہے جس کی بنا پر وہ مال کا حق دار ٹھہرتا ہے اور وہ اس قسم میں جھوٹا ہے تو وہ اللہ کو اس حالت میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہو گا، پھر اعمش کی طرح روایت بیان کی البتہ (اس میں) انہوں نے کہا: میرے اور ایک آدمی کے درمیان کنویں کے بارے میں جھگڑا تھا۔ ہم ہی جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے دو گواہ ہوں یا اس کی قسم (کے ساتھ فیصلہ ہو گا)۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 356]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا: ”جو شخص ایسی جھوٹی قسم اٹھاتا ہے جس کی بنا پر وہ مال کا حق دار ٹھہراتا ہے، وہ اللہ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضب ناک ہو گا۔“ پھر اعمش رحمہ اللہ کی طرح روایت بیان کی، فرق یہ ہے کہ اس نے کہا: میرے اور ایک آدمی کے درمیان کنویں کے بارے میں جھگڑا تھا، تو ہم جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فیصلہ تیرے گواہوں یا اس کی قسم پر ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 356]
ترقیم فوادعبدالباقی: 138
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (353)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 138 ترقیم شاملہ: -- 357
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ وَعَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَعْيَن سَمِعَا شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ حَلَفَ عَلَى مَالِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقِّهِ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: ثُمَّ قَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الآيَةِ.
جامع بن ابی راشد اور عبدالمالک بن اعین نے (ابووائل) شقیق بن سلمہ سے سنا، کہہ رہے تھے: میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے تھے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے کسی مسلمان شخص کے مال پر، حق نہ ہوتے ہوئے، قسم کھائی، وہ اللہ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو گا۔“ عبداللہ نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے کتاب اللہ سے اس کا مصداق (جس سے بات کی تصدیق ہو جائے) پڑھا: ”بلاشبہ جو لوگ اللہ کے ساتھ کیے گئے عہد (میثاق) اور اپنی قسموں کا سودا تھوڑی سی قیمت پر کرتے ہیں ......“، آخر آیت تک۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 357]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے مسلمان کے مال کے بارے میں ناحق قسم اٹھائی، وہ اللہ کو ناراضی کی حالت میں ملے گا۔“ عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق میں کتاب اللہ کی آیت سنائی: ”جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض حقیر پونجی حاصل کرتے ہیں۔“ (آلِ عمران: 77) آخر تک۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 357]
ترقیم فوادعبدالباقی: 138
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه البخاري في ((صحيحه)) في التوحيد، باب: قول الله تعالى: ﴿ وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ نَّاضِرَةٌ ، إِلَىٰ رَبِّهَا نَاظِرَةٌ ﴾ برقم (7007) انظر ((التحفة)) برقم (9238)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 139 ترقیم شاملہ: -- 358
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، وَأَبُو عاصم الحنفي وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ حَضْرَمَوْتَ، وَرَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ، إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا قَدْ غَلَبَنِي عَلَى أَرْضٍ لِي، كَانَتْ لِأَبِي، فَقَالَ الْكِنْدِيُّ: هِيَ أَرْضِي فِي يَدِي، أَزْرَعُهَا لَيْسَ لَهُ فِيهَا حَقٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَضْرَمِيِّ: أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَلَكَ يَمِينُهُ؟ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الرَّجُلَ فَاجِرٌ لَا يُبَالِي عَلَى مَا حَلَفَ عَلَيْهِ، وَلَيْسَ يَتَوَرَّعُ مِنْ شَيْءٍ، فَقَالَ: لَيْسَ لَكَ مِنْهُ إِلَّا ذَلِك؟ فَانْطَلَقَ لِيَحْلِفَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَدْبَرَ: " أَمَا لَئِنْ حَلَفَ عَلَى مَالِهِ لِيَأْكُلَهُ ظُلْمًا، لَيَلْقَيَنَّ اللَّهَ وَهُوَ عَنْهُ مُعْرِضٌ ".
سماک نے علقمہ بن وائل سے، انہوں نے اپنے والد (حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک آدمی حضر موت سے اور ایک کندہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ حضرمی (حضر موت کے باشندے) نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میری زمین پر قبضہ کیے بیٹھا ہے جو میرے باپ کی تھی۔ اور کندی نے کہا: یہ میری زمین ہے، میرے قبضے میں ہے، میں اسے کاشت کرتا ہوں، اس کا اس (زمین) میں کوئی حق نہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے کہا: ”کیا تمہاری کوئی دلیل (گواہی وغیرہ) ہے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ نے فرمایا: ”پھر تمہارے لیے اس کی قسم ہے۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! بلاشبہ یہ آدمی بدکردار ہے، اسے کوئی پرواہ نہیں کہ کس چیز پر قسم کھاتا ہے اور یہ کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتا۔ آپ نے فرمایا: ”تمہیں اس سے اس (قسم) کے سوا کچھ نہیں مل سکتا۔“ وہ قسم کھانے چلا اور جب اس نے پیٹھ پھیری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بات یہ ہے کہ اگر اس نے ظلم اور زیادتی سے اس شخص کا مال کھانے کے لیے قسم کھائی تو بلاشبہ یہ شخص اللہ سے اس حالت میں ملے گا کہ اللہ نے اس سے اپنا رخ پھیر لیا ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 358]
علقمہ بن وائل رحمہ اللہ اپنے باپ سے روایت نقل کرتے ہیں: کہ ایک حضر موت کا آدمی اور ایک کندہ کا آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے حضرمی نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ میری، میرے باپ کی طرف سے زمین پر قبضہ کر بیٹھا ہے۔“ تو کندی نے کہا: یہ زمین میری ہے، میرے قبضہ میں ہے، میں اسے کاشت کرتا ہوں، اس کا اس میں کچھ حق نہیں ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے کہا: ”کیا تیرے پاس گواہ ہے؟“ اس نے کہا نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس سے قسم لے سکتے ہو؟“ اس نے جواب دیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ آدمی بدکار ہے، اسے کوئی پروا نہیں کس قسم کی قسم اٹھاتا ہے، کسی چیز سے پرہیز نہیں کرتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس سے اس کے سوا کچھ نہیں لے سکتے۔“ وہ قسم اٹھانے لگا، تو جب قسم کے لیے مڑا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اللہ کی قسم! اگر اس نے ظلماً اس کا مال کھانے کے لیے قسم اٹھائی، تو اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 358]
ترقیم فوادعبدالباقی: 139
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، أخرجه ابوداؤد في ((سننه)) في الايمان والنذور، باب: التغليظ في الايمان الفاجرة برقم (3245) وفي الاقضية، باب: الرجل يحلف على علمه فيما غاب عنه برقم (3623) والنسائي في ((جامعه)) في الاحکام، باب: ما جاء فى ان البينة على المدعى واليمين على المدعى عليه۔ وقال: حديث وائل بن حجر۔ وقال: حسن صحيح - برقم (1340) انظر ((التحفة)) برقم (11768)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 139 ترقیم شاملہ: -- 359
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَاهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي أَرْضٍ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: إِنَّ هَذَا انْتَزَى عَلَى أَرْضِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَهُوَ امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ عَابِسٍ الْكِنْدِيُّ، وَخَصْمُهُ رَبِيعَةُ بْنُ عِبْدَانَ، قَالَ: بَيِّنَتُكَ؟ قَالَ: لَيْسَ لِي بَيِّنَةٌ، قَالَ: يَمِينُهُ؟ قَالَ: إِذًا يَذْهَبُ بِهَا، قَالَ: لَيْسَ لَكَ إِلَّا ذَاكَ، قَالَ: فَلَمَّا قَامَ لِيَحْلِفَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اقْتَطَعَ أَرْضًا ظَالِمًا، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ "، قَالَ إِسْحَاق فِي رِوَايَتِهِ رَبِيعَةُ بْنُ عَيْدَانَ.
زہیر بن حرب اور اسحاق بن ابراہیم دونوں نے ابوولید سے حدیث سنائی (زہیر نے «عن أبی الولید» کے بجائے «حدثنا هشام بن عبدالملك» ہمیں ہشام بن عبدالملک نے حدیث سنائی، کہا) ہشام بن عبدالملک نے کہا: ہمیں ابوعوانہ نے عبدالملک بن عمیر سے حدیث سنائی، انہوں نے علقمہ بن وائل سے اور انہوں نے (اپنے والد) حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، آپ کے پاس دو آدمی (ایک قطعہ) زمین پر جھگڑتے آئے، دونوں میں ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس نے دور جاہلیت میں میری زمین پر قبضہ کیا تھا، وہ امرؤ القیس بن عابس کندی تھا اور اس کا حریف ربیعہ بن عبدان تھا۔ آپ نے فرمایا: ”(سب سے پہلے) تمہارا ثبوت (شہادت)؟“ اس نے کہا: میرے پاس ثبوت نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: ”(تب فیصلہ) اس کی قسم (پر ہو گا)“ اس نے کہا: تب تو وہ زمین لے جائے گا۔ آپ نے فرمایا: ”اس کے علاوہ کچھ نہیں۔“ حضرت وائل رضی اللہ عنہ نے کہا: جب وہ قسم کھانے کے لیے اٹھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ظلم کرتے ہوئے کوئی زمین چھینی، وہ اس حالت میں اللہ سے ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہو گا۔“ اسحاق نے اپنی روایت میں (دوسرے فریق کا نام) ربیعہ بن عیدان (باء کے بجائے یاء کے ساتھ) بتایا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 359]
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی ایک زمین کا تنازع لائے، تو ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس نے جاہلیت کے دور میں میری زمین پر قبضہ کر لیا۔ (وہ امرء القیس بن عابس کندی تھا، اس کا حریف ربیعہ بن عبدان تھا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گواہی مطلوب ہے۔“ اس نے کہا: ”میرے پاس شہادت نہیں ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فیصلہ اس کی قسم پر ہو گا۔“ اس نے کہا: اس صورت میں وہ میری زمین لے جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم قسم ہی لے سکتے ہو۔“ تو جب وہ قسم اٹھانے کے لیے اٹھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی کی زمین ظلم سے چھینی، وہ اللہ کو اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر ناراض ہو گا۔“ اسحاق رحمہ اللہ نے اپنی حدیث میں ربیعہ بن عبدان کا نام لیا (زہیر رحمہ اللہ نے عبدان باء کے ساتھ کہا تھا اور اسحاق رحمہ اللہ نے یاء (عیدان) کے ساتھ)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 359]
ترقیم فوادعبدالباقی: 139
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة، تقدم تخريجه برقم (356)»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة