المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
28. في الجنابة والتطهر لها
جنابت اور اس سے طہارت (غسل) کا بیان
حدیث نمبر: 98
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنِّي امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِي، أَفَأَنْقُضُهُ لِغُسْلِ الْجَنَابَةِ؟ فَقَالَ:" إِنَّمَا يَكْفِيكِ أَنْ تَحْثِي عَلَيْهِ ثَلاثَ حَثَيَاتٍ مِنْ مَاءٍ ثُمَّ تُفِيضِي عَلَيْكِ الْمَاءَ فَتَطْهُرِي، أَوْ قَالَ: فَإِذَا أَنْتِ قَدْ طَهُرْتِ" .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے پوچھا: اللہ کے رسول! میں بالوں کو خوب اچھی طرح سر پر گوندھتی ہوں، تو کیا غسل جنابت کے وقت انہیں کھول دیا کروں؟ فرمایا: اتنا ہی کافی ہے کہ سر پر تین لپ پانی ڈال لیں، پھر پورے بدن پر پانی ڈالیں، آپ پاک ہو جائیں گی۔ یا یوں فرمایا: ایسا کریں گی تو پاک ہو جائیں گی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 98]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 330»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح مسلم
حدیث نمبر: 99
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنْ غُسِلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ، قَالَتْ: كَانَ " يَبْدَأُ بِيَدَيْهِ فَيَغْسِلُهُمَا ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ ثُمَّ يُخَلِّلُ أُصُولَ شَعْرَةِ رَأْسِهِ حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنْ قَدِ اسْتَبْرَأَ الْبَشَرَةَ اغْتَرَفَ ثَلاثَ غَرَفَاتٍ فَصَبَّهُنَّ عَلَى رَأْسِهِ ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے دونوں ہاتھ دھویا کرتے تھے، پھر نماز کی طرح کا وضو کیا کرتے تھے، پھر سر کے بالوں کی جڑوں میں خلال کرتے، جب جلد تر ہونے کا یقین ہو جاتا تو تین چلو پانی سر پر ڈالتے، پھر پورے جسم پر پانی بہا لیتے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 99]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 248، صحيح مسلم: 316»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه
حدیث نمبر: 100
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: ثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " اغْتَسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَسَلَ فَرْجَهُ وَدَلَكَ يَدَهُ بِالأَرْضِ، أَوْ قَالَ: بِالْحَائِطِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى رَأْسِهِ وَسَائِرِ جَسَدِهِ ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ، فَنَاوَلْتُهُ خِرْقَةً لِيَتَنَشَّفَ بِهَا أَوْ لِيَمْسَحَ بِهَا، فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهَا، وَقَالَ بِيَدِهِ هَكَذَا يَنْفُضُهَا" .
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا، تو (پہلے) شرمگاہ کو دھویا، پھر ہاتھ زمین یا دیوار پر رگڑا، پھر نماز کی طرح وضو کیا، پھر سرسمیت پورے جسم پر پانی بہایا، پھر ایک طرف ہٹ کر پاؤں دھوئے۔ میں نے آپ کو کپڑا دیا، تا کہ اس سے جسم خشک کر لیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لینے سے انکار کر دیا اور ہاتھ سے پانی جھاڑ نے لگے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 100]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 257، صحيح مسلم: 317»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
متفق عليه