🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. باب الأوقات المنهي عن الصلاة فيها
وہ اوقات جن میں نماز پڑھنا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 280
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " لا يَتَحَيَّنُ أَحَدُكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ وَلا غُرُوبَهَا" فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ ذَلِكَ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ تم میں سے کوئی سورج طلوع یا غروب ہوتے وقت نماز نہ پڑھے، کیوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منع کیا کرتے تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 280]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 583، صحيح مسلم: 828-829»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 281
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: ثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ هِلالِ بْنِ يَسَافٍ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ الأَجْدَعَ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ إِلا أَنْ تَكُونَ الشَّمْسُ مُرْتَفِعَةً" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عصر کے بعد (نفل) نماز پڑھنے سے منع کیا ہے، سوائے یہ کہ سورج بلند ہو (تو پڑھنا جائز ہے)۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 281]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 1/80, 81-129, 141، سنن أبي داود: 1274، سنن النسائي: 574، السنن الكبرى للبیہقی: 2/559، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (1284) امام ابن حبان رحمہ اللہ (1547) حافظ ضیاء مقدسی رحمہ اللہ (المختارة: 763, 766) نے صحیح کہا ہے، حافظ ابن العراقی رحمہ اللہ (طرح التثريب: 1/187) نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔ حافظ منذری رحمہ اللہ نے اس کی سند کو جید اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (فتح الباري: 2/161) نے حسن کہا ہے، نیز (فتح الباري: 2/163) صحیح قوی قرار دیا ہے۔ حافظ ابن حزم رحمہ اللہ (محلى: 3/31) کہتے ہیں: هَذِهِ زِيَادَةُ عَدْلٍ، لَّا يَجُوزُ تَرْكُهَا.»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں