المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
. باب المناسك
حج کے مناسک (طریقوں) کا بیان
حدیث نمبر: 420
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ وَأَنَا شَاكِيَةٌ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حُجِّي وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلِّي حَيْثُ حَبَسْتَنِي" ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: حَدِيثُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عِنْدَنَا مَحْفُوظٌ فِي قِصَّةِ ضُبَاعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، مُحْتَجٌّ بِهِ لِمَنْ أَرَادَ الشَّرْطَ فِي الْحَجِّ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے۔ انہوں نے کہا: میں حج کرنا چاہتی ہوں اور بیمار ہوں، (اب کیا کروں؟) آپ نے فرمایا: حج کرو اور شرط رکھو کہ میں وہاں احرام کھول دوں گی جہاں تو (اے اللہ) مجھے روک لے۔ محمد بن یحییٰ کہتے ہیں: عبدالرزاق کی یہ حدیث ہمارے نزدیک محفوظ ہے جو ضباعہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ سے متعلق ہے، اور جو شخص حج میں شرط رکھنا چاہے وہ اس سے دلیل لے سکتا ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 420]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 5089، صحیح مسلم: 1207»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 421
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ، وَأَهَلَّ بِهِ نَاسٌ، وَأَهَلَّ نَاسٌ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ وَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا احرام باندھا، کچھ لوگوں نے حج کا احرام باندھا اور کچھ نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا۔ میں ان لوگوں میں شامل تھی جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 421]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1211/114»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 422
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا بِشْرُ ابْنُ عُمَرَ ، قَالَ: ثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ، ثُمَّ لا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حجتہ الوداع کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہم نے عمرہ کا احرام باندھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس قربانی کا جانور ہے وہ حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھے اور جب تک دونوں (حج اور عمرہ) سے فارغ نہ ہو، احرام نہ کھولے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 422]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1562، صحیح مسلم: 1211/113»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 423
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " كُنْتُ أَفْتِلُ قَلائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِيَّ هَاتَيْنِ، ثُمَّ لا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ" ، وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَلا يَعْتَزِلُ شَيْئًا وَلا يَتْرُكُهُ، قَالَتْ: وَلا نَعْلَمُ الْحَاجُّ مَحِلُّهُ شَيْءٌ إِلا الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہدی کے جانوروں کے قلادے اپنے ان دونوں ہاتھوں سے بٹتی تھی، پھر آپ ان چیزوں سے اجتناب نہیں کرتے تھے جن سے محرم اجتناب کرتا ہے۔ عبدالرحمن بن القاسم کہتے ہیں: آپ نہ کسی چیز سے الگ ہوتے تھے اور نہ چھوڑتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہم نہیں جانتے کہ حاجی کے لیے طواف بیت اللہ کے علاوہ کوئی اور چیز احرام کھولنے کا باعث ہوتی ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 423]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1321»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 424
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ الأَعْرَجِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى الظُّهْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ ثُمَّ أَتَى بِنَاقَتِهِ فَأَشْعَرَهَا مِنْ جَانِبِ صَفْحَتِهَا الأَيْمَنِ ثُمَّ سَلَتِ الدَّمَ عَنْهَا ثُمَّ قَلَّدَهَا نَعْلَيْنِ ثُمَّ أَتَى بِرَاحِلَتِهِ فَرَكِبَهَا، فَلَمَّا اسْتَقَرَّتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذوالحلیفہ کے مقام پر ظہر کی نماز ادا کی، پھر آپ کی اونٹنی لائی گئی، آپ نے اس کی دائیں کوہان کو چیرا، پھر اس سے خون صاف کیا اور اس کے گلے میں دو جوتوں کا قلادہ ڈالا۔ پھر آپ کی سواری لائی گئی، آپ اس پر سوار ہوئے۔ جب سواری بیداء کے مقام پر پہنچی تو آپ نے تلبیہ پڑھا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 424]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1243»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 425
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بَعَثَ بِثَمَانَ عَشْرَةَ بَدَنَةً مَعَ رَجُلٍ، فَأَمَرَهُ فِيهَا بِأَمْرِهِ، فَانْطَلَقَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ أُزْحِفَ عَلَيَّ مِنْهَا شَيْءٌ؟ قَالَ: " انْحَرْهَا ثُمَّ اصْبُغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ اجْعَلْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا وَلا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رِفْقَتِهَا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کے ساتھ اٹھارہ قربانی کے اونٹ بھیجے اور اسے ان کے متعلق احکامات دیے۔ اس نے واپس آ کر پوچھا: اگر ان میں سے کوئی کمزور ہو جائے تو کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: اسے ذبح کر دو، پھر اس کے قلادے کو اس کے خون سے رنگ کر اس کے پہلو پر لگا دو، اور اس میں سے نہ تم کھاؤ اور نہ تمہارے رفقاء میں سے کوئی کھائے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 425]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1325»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 426
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَهْدَى غَنَمًا مُقَلَّدَةً" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قلادے والی بکری قربانی کے لیے (بیت اللہ کی طرف) بھیجی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 426]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1701، صحیح مسلم: 1321/367»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 427
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: ثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَبْصَرَ رَجُلا وَمَعَهُ بَدَنَةٌ، فَقَالَ: " ارْكَبْهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا بَدَنَةٌ، فَقَالَ: وَيْلَكَ أَوْ وَيْحَكَ، ارْكَبْهَا" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جس کے پاس قربانی کی اونٹنی تھی۔ آپ نے فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ! یہ قربانی کی اونٹنی ہے۔ آپ نے فرمایا: افسوس! اس پر سوار ہو جاؤ۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 427]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 245/2، 264، مسند الحميدي: 1003، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (4016) نے صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 428
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ: ثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلا يَسُوقُ بَدَنَةً، فَقَالَ: " ارْكَبْهَا، فَقَالَ: إِنَّهَا بَدَنَةٌ، قَالَ: ارْكَبْهَا، وَيْلَكَ" فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو قربانی کی اونٹنی ہانک رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: اس پر سوار ہو جاؤ۔ اس نے کہا: یہ قربانی کی اونٹنی ہے۔ آپ نے دوسری یا تیسری بار فرمایا: افسوس! اس پر سوار ہو جاؤ۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 428]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1689، صحیح مسلم: 1322»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 429
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: ثَنِي عَطَاءٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" يَسْأَلُ عَنْ رُكُوبِ الْبُدْنِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے قربانی کی اونٹنی پر سوار ہونے کے متعلق پوچھا گیا، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: اگر تم مجبور ہو جاؤ تو اسے احسن طریقے سے سوار ہو سکتے ہو، یہاں تک کہ کوئی اور سواری مل جائے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 429]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1324»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح