المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
. باب المناسك
حج کے مناسک (طریقوں) کا بیان
حدیث نمبر: 450
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا فَآذَاهُ الْقَمْلُ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ، وَقَالَ: " صُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ مُدَّيْنِ مُدَّيْنِ، أَوْ أَنْسُكْ بِشَاةٍ" أَيَّ ذَلِكَ فَعَلْتَ أَجْزَأَ عَنْكَ .
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ حالت احرام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ جوئیں انہیں تنگ کر رہی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سر منڈوانے کا حکم دیا اور فرمایا: تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مسکینوں کو دو دو مد (کھجور) کھلاؤ، یا ایک بکری ذبح کرو۔ ان میں سے جو بھی کرو گے، وہ کفایت کر جائے گا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 450]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1814، صحیح مسلم: 1201»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 451
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ: ثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُمْسِكُ عَنِ التَّلْبِيَةِ فِي الْعُمْرَةِ إِذَا اسْتَلَمَ الْحَجَرَ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ میں حجر اسود کو چھونے کے بعد تلبیہ بند کر دیتے تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 451]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: سنن أبي داود: 1817، سنن الترمذي: 919، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے حسن صحیح کہا ہے، تاہم ابن ابی لیلیٰ کثیر الوہم راوی ہے۔ یہ روایت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے باسندِ صحیح موقوفاً ثابت ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 452
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا أَصْبَغُ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، أَنَّ أَبَاهُ ، حَدَّثَهُ، قَالَ: قَبَّلَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الْحَجَرَ، ثُمَّ قَالَ" أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّكَ حَجَرٌ وَلَوْلا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ" ، قَالَ عَمْرٌو، وَحَدَّثَنِي بِمِثْلِهَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ.
سالم کہتے ہیں کہ ان کے والد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں بتایا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا، پھر فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے معلوم ہے کہ تو ایک پتھر ہے۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا، تو میں تجھے کبھی بوسہ نہ دیتا۔ عمرو کہتے ہیں: زید بن اسلم نے بھی مجھے اپنے والد سے اسی طرح کی روایت بیان کی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 452]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1270»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 453
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ: ثَنَا أَبُو خَالِدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعِ ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا " اسْتَلَمَ الْحَجَرَ بِيَدِهِ ثُمَّ قَبَّلَ يَدَهُ، فَقَالَ: مَا تَرَكْتُهُ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ" .
نافع کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے ہاتھ سے حجر اسود کو چھوا، پھر اپنے ہاتھ کو بوسہ دیا اور فرمایا: جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا، میں نے اسے نہیں چھوڑا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 453]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1268، صحیح البخاری: 1606»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 454
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَتَى الْحَجَرَ فَاسْتَلَمَهُ ثُمَّ مَضَى عَلَى يَمِينِهِ فَرَمَلَ ثَلاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ تشریف لائے، تو حجر اسود کے پاس آکر اسے چھوا، پھر دائیں طرف چلتے ہوئے تین چکروں میں رمل (تیز چلنا) کیا اور چار چکروں میں معمول کے مطابق چلے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 454]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1218»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 455
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَمَلَ مِنَ الْحَجَرِ إِلَى الْحَجَرِ ثَلاثًا" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود سے لے کر (واپس) حجر اسود تک تین چکروں میں رمل کیا اور چار چکروں میں معمول کے مطابق چلے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 455]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1218»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 456
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ عُبَيْدٍ مَوْلَى السَّائِبِ، أَنَّ أَبَاهُ ، أَخْبَرَهُ أن عبد الله بن السائب أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِيمَا بَيْنَ رُكْنِ بَنِي جُمَحٍ، وَالرُّكْنِ الأَسْوَدِ:" رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ سورة البقرة آية 201" .
سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رکن بنی جمح (رکن یمانی) اور حجر اسود کے درمیان یہ دعا کرتے سنا: «رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ» (اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی دے، آخرت میں بھلائی دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔) [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 456]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 411/3، سنن أبي داود: 1892، اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2721) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (3626) نے صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 457
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أَنَا عِيسَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، قَالَ: ثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَرَمْي الْجِمَارُ لإِقَامَةِ ذِكْرِ اللَّهِ تَعَالَى" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: طواف بیت اللہ اور صفا و مروہ کے درمیان... [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 457]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 64/6، سنن أبي داود: 1888، سنن الترمذي: 902، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے حسن صحیح اور امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
حدیث نمبر: 458
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ، أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنِي رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْهُمْ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: " أَمَّا الَّذِينَ كَانُوا جَمَعُوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَإِنَّمَا طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا" .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جن لوگوں نے حج اور عمرہ دونوں ایک ساتھ ادا کیے، انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 458]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 1638، صحیح مسلم: 1211»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
حدیث نمبر: 459
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " طَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا لِحَجِّهِمْ وَعُمْرَتِهِمْ وَسَعَوْا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ" ، قَالَ أَبُو عَاصِمٍ مَرَّةً:" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ طَافُوا بِالْبَيْتِ طَوَافًا وَاحِدًا لِحَجِّهِمْ وَعُمْرَتِهِمْ وَسَعَوْا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے حج اور عمرے کا ایک ہی طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی۔ ابو عاصم کی ایک روایت میں یوں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے حج اور عمرے کے لیے بیت اللہ کا ایک ہی طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی کی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْمَنَاسِكِ/حدیث: 459]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1215»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح