🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. أبواب القضاء في البيوع
خرید و فروخت میں فیصلوں کے ابواب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 627
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثنا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ: ثني مَخْلَدُ بْنُ خُفَافٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خراج (نفع) کا حقدار وہ ہے، جو نقصان کا ذمہ دار بنے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 627]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «اسنادہ حسن: مسند الامام احمد: 49/6-161، سنن ابی داود: 3808، سنن النسائی: 4495، سنن ترمذی: 1285، سنن ابن ماجہ: 2242، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابوعوانہ رحمہ اللہ (5495) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (4928) نے صحیح کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
اسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 628
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ بَاعَ نَخْلا قَدْ أَبَرَ، فَثَمَرَتُهَا لِلَّذِي بَاعَهَا، إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو پیوند شدہ کھجور کا درخت بیچے، تو پھل کا حقدار بیچنے والا ہے، الا یہ کہ خریدار کوئی شرط طے کر لے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 628]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 2379، صحیح مسلم: 1543»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 629
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلَّذِي بَاعَ، إِلا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو ایسا غلام فروخت کرے، جس کے پاس مال ہے، تو مال کا حقدار فروخت کنندہ ہوگا، الا یہ کہ خریدار کوئی شرط طے کر لے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 629]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 2379، صحیح مسلم: 1543»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 630
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَفْلَسَ بِمَالِ قَوْمٍ فَوَجَدَ رَجُلٌ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ مِنْ غَيْرِهِ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس لوگوں کا مال تھا اور وہ مفلس ہو گیا، کسی نے اس کے پاس بعینہ اپنا مال پالیا، تو باقیوں کی بہ نسبت وہ اس مال (کو لینے) کا زیادہ حقدار ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 630]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 2402، صحیح مسلم: 1559»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 631
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ الْحِمْصِيُّ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْخَبَايِرِيِّ ، قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيُّمَا رَجُلٌ بَاعَ سِلْعَةً فَأَدْرَكَ سِلْعَتَهُ بِعَيْنِهَا عِنْدَ رَجُلٍ أَفْلَسَ وَلَمْ يَقْبِضْ مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَهِيَ لَهُ، فَإِنْ كَانَ قَضَاهُ مِنْ ثَمَنِهَا شَيْئًا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کوئی سامان (ادھار) بیچا اور اپنا وہی سامان کسی ایسے شخص کے پاس پالیا، جو مفلس ہو چکا ہے، نیز اس نے سامان کی کچھ بھی قیمت وصول نہیں کی، تو وہ سامان اسی کا ہی ہوگا۔ اگر اس نے (خریدار سے) کچھ رقم وصول کر لی ہے، تو باقی ماندہ قیمت میں وہ باقی قرض خواہوں کی طرح ہی ہوگا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 631]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «اسنادہ ضعیف: سنن ابن ماجہ: 2359، جمہور محدثین کے نزدیک اسماعیل بن عیاش کی حجازیوں سے روایت ”ضعیف“ ہوتی ہے، امام زہری مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
اسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 632
حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْفٍ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ سَوَاءً وَزَادَ: " وَأَيُّمَا امْرِئٍ هَلَكَ وَعِنْدَهُ مَالُ امْرِئٍ بِعَيْنِهِ اقْتَضَى مِنْهُ شَيْئًا أَوْ لَمْ يَقْتَضِ فَهُوَ أُسْوَةُ الْغُرَمَاءِ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور سند کے ساتھ بھی یہی روایت مروی ہے۔ نیز اس میں یہ اضافہ ہے کہ اگر کوئی ہلاک ہو جائے اور اس کے پاس کسی دوسرے شخص کا مال بعینہ موجود ہو، دوسرے آدمی نے پہلے سے کوئی چیز لی ہو یا نہ لی ہو، تاہم وہ دوسرے قرض خواہوں کی طرح ہی ہوگا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 632]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «اسنادہ ضعیف: سنن ابی داود: 3522، سنن الدارقطنی: 30/3، اس میں امام زہری رحمہ اللہ کی تدلیس ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
اسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 633
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، قَالَ: ثنا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فِي الإِفْلاسِ، وَقَالَ ابْنُ يَحْيَى: رَوَاهُ مَالِكٌ، وَصَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، وَيُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ مُطْلَقُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمْ أَتَى بِالْحَدِيثِ يَعْنِي عَنْ طَرِيقِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے افلاس کے متعلق روایت بیان کی ہے۔ ابن یحییٰ کہتے ہیں: اس روایت کو مالک، صالح بن کیسان، اور یونس نے بھی زہری سے مطلق بیان کیا ہے اور ان کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 633]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «اسنادہ ضعیف: سنن ابن ماجہ: 2359، امام زہری رحمہ اللہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں ہوسکی، صحیح مسلم (1559) میں اس کا ایک شاہد موجود ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
اسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 634
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ أَبِي فُدَيْكٍ ، أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: وَثَنَى ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ: ثنى أَبُو الْمُعْتَمِرِ بْنِ عَمْروٍ ، عَنِ ابْنِ خَلْدَةَ الزُّرَقِيِّ وَكَانَ قَاضِيَ الْمَدِينَةِ، قَالَ: جِئْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي صَاحِب لَنَا أَفْلَسَ، فَقَالَ: هَذَا الَّذِي قَضَى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا رَجُلٌ مَاتَ أَوْ أَفْلَسَ فَصَاحِبُ الْمَتَاعِ أَحَقُّ بِمَتَاعِهِ إِذَا وَجَدَهُ بِعَيْنِهِ" .
ابو خلدہ زرقی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس اپنے ایک ساتھی کا مقدمہ لے کر حاضر ہوئے، جو مفلس ہو چکا تھا، تو انہوں نے فرمایا: ایسے ہی ایک مقدمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کیا تھا: جو فوت ہو جائے یا مفلس ہو جائے، تو سامان والا آدمی اپنے سامان کا زیادہ حقدار ہے، بشرطیکہ وہ سامان بعینہ اسی کا ہو۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 634]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «اسنادہ حسن: سنن ابی داود: 3523، سنن ابن ماجہ: 2360، مسند الطیالسی: 2375، اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (50/2) نے ”صحیح الاسناد“ کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔ ابومعتمر ”حسن الحدیث“ ہیں، بہت سارے ائمہ نے اس کی حدیث کی تصحیح کر کے اس کی ضمنی توثیق کر دی ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
اسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 635
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، قَالَ: ثنا زَكَرِيَّا ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " بِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِيرًا وَاشْتَرَطَتْ ظَهْرَهُ إِلَى أَهْلِي" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹ بیچا اور اپنے گھر (واپس) جانے تک اس پر سوار ہونے کی شرط لگائی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 635]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاری: 2385، صحیح مسلم: 715»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 636
حَدَّثَنَا الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: ثنا الأَعْمَشُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " بِعْنِي جَمَلَكَ، قَالَ: قُلْتُ: لا، بَلْ هُوَ لَكَ، قَالَ: بِعْنِيهِ، قُلْتُ: فَإِنَّ لِفُلانٍ عَلَيَّ أُوقِيَّةً مِنْ ذَهَبٍ فَهُوَ لَكَ بِهَا فَأَخَذَهُ، ثُمَّ قَالَ: تَبْلُغُ عَلَيْهِ إِلَى أَهْلِكَ، فَلَمَّا قَدِمْتُ أَمَرَ بِلالا أَنْ يُعْطِيَنِي" وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اپنا اونٹ بیچ دیں۔ عرض کیا: بیچنا تو نہیں، البتہ آپ اسے یوں ہی لے لیں۔ فرمایا: بیچ دیں! میں نے کہا: میں نے فلاں آدمی کا ایک اوقیہ سونا دینا ہے، چنانچہ اس کے عوض یہ اونٹ آپ کا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ لے کر فرمایا: اپنے گھر تک اس پر سواری کر لیجیے۔ جب میں گھر آگیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ مجھے اوقیہ دے دیں۔ انہوں نے بقیہ حدیث بھی بیان کی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الْبُيُوعِ وَالتِّجَارَاتِ/حدیث: 636]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 715/111»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں