🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

0. باب النكاح
نکاح کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 722
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ: أنا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا كَانَ لِلرَّجُلِ امْرَأَتَانِ فَمَالَ إِلَى إِحْدَاهُمَا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَحَدُ شِقَّيْهِ سَاقِطٌ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی دو بیویاں ہوں اور اس کا میلان کسی ایک کی طرف ہو جائے (ان میں برابری کا خیال نہ رکھتا ہو) وہ قیامت کے روز آئے گا، تو اس کا آدھا جسم مفلوج ہو گا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 722]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف: مسند الإمام أحمد: 347/2، 471، سنن أبي داود: 2133، سنن النسائي: 3942، سنن الترمذي: 1141، سنن ابن ماجه: 1969، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (4207) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ (186/2) نے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ قتادہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔ اخبار اصبہان لأبی نعیم الاصبہانی (300/2) میں اس کا ایک ”ضعیف“ شاہد آتا ہے، اس میں محمد بن حارث حارثی ”ضعیف“ ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 723
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَعَلْقَمَةُ بْنُ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيُّ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، منْ حَدِيثِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر جانے کا ارادہ کرتے، تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے، جس کے نام قرعہ نکل آتا، اسے ساتھ لے جاتے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 723]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2661، صحيح مسلم: 2770»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 724
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، قَالَ: ثنا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " السُّنَّةُ إِذَا تَزَوَّجَ الْبِكْرَ أَقَامَ عِنْدَهَا سَبْعًا، وَإِذَا تَزَوَّجَ الثَّيِّبَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلاثًا" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سنت یہ ہے کہ جب کوئی شخص کنواری لڑکی سے شادی کرے، تو اس کے پاس سات راتیں قیام کرے اور جب کوئی ثیّبہ (شوہر دیدہ) سے شادی کرے، تو تین راتیں قیام کرے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 724]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5214، صحيح مسلم: 1461»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 725
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، أَنَّ ابْنَ وَهْبٍ ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ: أَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ، فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ" ." وَكَانَ يَقْسِمُ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ يَوْمًا وَلَيْلَتَهَا، غَيْرَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ وَهَبَتْ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَبْتَغِي بِذَلِكَ رِضَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر جانے کا ارادہ کرتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے، جس کے نام قرعہ نکل آتا، اسے ساتھ لے جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بیوی کے لیے ایک دن اور رات تقسیم کر رکھی تھی، البتہ سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اپنی باری سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دی تھی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 725]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2593»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 726
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ: ثنا أَبُو خَالِدٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: تَزَوَّجَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے شادی کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ولیمہ کریں، خواہ ایک بکری ہی ہو۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 726]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5167، صحيح مسلم: 1427»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 727
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَزَوَّجَ حَفْصَةَ، أَوْ بَعْضَ أَزْوَاجِهِ، فَأَوْلَمَ عَلَيْهَا تَمْرًا وَسَويِقًا" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا یا کسی اور بیوی سے شادی کی تو کھجور اور ستو کے ساتھ ولیمہ کیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 727]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح: مسند الحميدي: 1218، سنن أبي داود: 3744، سنن الترمذي: 1095، سنن ابن ماجه: 1909، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن غریب اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (4061) نے صحیح کہا ہے، صحیحین میں اس کا شاہد موجود ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 728
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ الْهَادِي ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ لا يَسْتَحِي مِنَ الْحَقِّ، لا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَدْبَارِهِنَّ" .
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ حق بیان کرنے سے نہیں شرماتا، لہذا عورتوں کی پشت میں جماع مت کریں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 728]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح له شواهد: مسند الحميدي: 440، مسند الإمام أحمد: 213/5، السنن الكبرى للنسائي: 8933، السنن الكبرى للبيهقي: 196/7، اس حدیث کو امام ابوعوانہ رحمہ اللہ (4294) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (4198) نے صحیح کہا ہے، سفیان بن عیینہ نے سماع کی تصریح کر رکھی ہے۔ مسند الإمام أحمد (86/1) اور سنن ترمذی (1164) میں اس کا بسندِ حسن شاہد بھی آتا ہے، اسے امام ترمذی رحمہ اللہ نے ”حسن“ اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (4199) نے صحیح کہا ہے، اس کا راوی مسلم بن سلام حنفی ”حسن الحدیث“ ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح له شواهد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 729
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالَ: ثنا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَى رَجُلٍ أَتَى رَجُلا أَوِ امْرَأَةً فِي الدُّبُرِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی طرف (رحمت کی نظر سے) نہیں دیکھیں گے، جس نے مرد سے لواطت کی یا عورت کی پشت میں جماع کیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 729]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح: السنن الكبرى للنسائي: 9001-9002، سنن الترمذي: 1165، مسند أبي يعلى: 2378، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (4203، 4204، 4418) نے صحیح کہا ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنن ابن ماجہ (1923) اور شرح معانی الآثار للطحاوی (44/3) میں بسندِ حسن شاہد بھی آتا ہے، الفاظ یہ ہیں: «لَا يَنْظُرُ اللهُ إِلَى رَجُلٍ جَامَعَ امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا» . اس حدیث کے بارے میں امام اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”وقد صح عنہ“۔ (مسائل الإمام أحمد وإسحاق: 3531) حافظ بوصیری رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”إسنادہ صحیح، لأن ابن مخلد ذکرہ ابن حبان فی الثقات وباقی رجال الإسناد ثقات“۔ (مصباح الزجاجة: 97/2) اس کا راوی حارث بن مخلد ”صدوق حسن الحدیث“ ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 730
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتِ: اخْتَصَمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَمْعَةَ، وَسَعْدٌ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ، فَقَالَ سَعْدٌ: أَوْصَانِي أَخِي إِذَا قَدِمْتُ مَكَّةَ أَنْ آخُذَ ابْنَ أَمَةِ زَمْعَةَ فَإِنَّهُ ابْنِي، فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: ابْنُ أَمَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي، فَرَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ، فَقَالَ: هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ، " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ، وَاحْتَجِبِي مِنْهُ يَا سَوْدَةُ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ سیدنا عبد بن زمعہ اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہما، زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کے متعلق جھگڑ پڑے۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے: میرے بھائی نے مجھے وصیت کی تھی کہ جب میں مکہ آؤں، تو زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کو اپنے قبضہ میں لے لوں، کیونکہ وہ میرا بیٹا ہے۔ عبد بن زمعہ کہنے لگے: یہ میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے اور میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ (سیدنا سعد کے بھائی) کے ساتھ اس کی واضح مشابہت دیکھ کر فرمایا: عبد بن زمعہ! بچہ آپ کا ہی ہے، کیونکہ بچہ صاحب فراش کا ہی ہوتا ہے۔ اور (سیدہ) سودہ (بنت زمعہ) رضی اللہ عنہا! آپ اس لڑکے سے پردہ کیا کریں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 730]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 2421، صحيح مسلم: 1457»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 731
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: ثنا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، قَالَ: ثنا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ التُّجِيبِيِّ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا يَحِلُّ لأَحَدٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ، أَوْ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلا يَسْقي مَاءَهُ وَلَدَ غَيْرِهِ" .
سیدنا رویفع بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہے، اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنا پانی دوسرے کے بچے کو پلائے یا یہ کہ وہ اپنا پانی دوسرے کے بچے کو نہ پلائے (پہلے سے حاملہ عورت کے ساتھ جماع نہ کرے)۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 731]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح له طرق وشواهد: مسند الإمام أحمد: 108/4، سنن أبي داود: 2158، سنن الترمذي: 1131، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (4850) نے ”صحیح“ کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح له طرق وشواهد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں