المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
6. باب
باب
حدیث نمبر: 758
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ بْنَ الْغَسِيلِ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ أَبِي أُسَيْدٍ ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْطَلَقْنَا إِلَى حَائِطٍ يُقَالُ لَهُ: الشَّوْطُ، حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى حَائِطَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْلِسُوا هَهُنَا، فَدَخَلَ وَقَدْ أُتِيَ بِالْجَوْنِيَّةِ، فَأُنْزِلَتْ فِي بَيْتِ النَّخْلِ بَيْتِ أُمَيْمَةَ بِنْتِ النُّعْمَانِ بْنِ شَرَاحِيلَ وَمَعَهَا دَايَةٌ حَاضِنَةٌ لَهَا، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " هَبِي نَفْسَكِ لِي، قَالَتْ: وَهَلْ تَهَبُ الْمَلِكَةُ نَفْسَهَا لِلسُّوقَةِ؟ قَالَ: فَأَهْوَى بِيَدِهِ يَضَعُ يَدَهُ عَلَيْهَا لِتَسْكُنَ، فَقَالَتْ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ، قَالَ: قَدْ عُذْتِ بِمُعَاذٍ، ثُمَّ خَرَجَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: يَا أَبَا أُسَيْدٍ، اكْسُهَا رَازِقِيَّتَيْنِ وَأَلْحِقْهَا بِأَهْلِهَا" .
سیدنا ابو اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ایک باغ کی طرف چلے، جس کا نام شوط تھا، ہم دو باغات کے پاس پہنچے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہاں بیٹھ جائیں، خود اندر چلے گئے، جونیہ (عورت) کو لایا گیا اور اُمیمہ بنت نعمان بن شراحیل کے کھجوروں کے گھر میں بٹھا دیا گیا، اس کے ساتھ اس کی دیکھ بھال کرنے والی دائی بھی تھی، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا جسم مجھے ہبہ کر دیں۔ وہ کہنے لگی: ملکہ نے بھی کبھی رعیت کو اپنا جسم ہبہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ جھکایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ہاتھ رکھ کر اسے سکون پہنچانا چاہتے تھے، تو اس نے کہا: میں آپ سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ نے بہت بڑی ذات کی پناہ حاصل کی ہے۔ پھر (باہر) ہمارے پاس آئے اور فرمایا: ابو اسید! انہیں دو کپڑے دے دیں اور انہیں ان کے گھر پہنچا دیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 758]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5255»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح