🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. باب العدد
عدت کے احکام کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 759
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: ثنا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمَّتِهِ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ ، عَنِ الْفُرَيْعَةِ بِنْتِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْلاجٍ لَهُ فَأَدْرَكَهُمْ بِالْقَدُومِ، فَوَثَبُوا عَلَيْهِ فَقَتَلُوهُ، وَأَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ لَهُ أَنَّهَا فِي مَنْزِلٍ شَاسِعٍ عَنْ أَهْلِهَا وَأَنَّهَا تُرِيدُ التَّحَوُّلَ إِلَيْهِمْ فَأَذِنَ لَهَا، قَالَتْ: فَخَرَجْتُ حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْحُجُرَاتِ، أَوْ قَالَتْ: جَاوَزْتُ الْحُجُرَاتِ دَعَانِي، أَوْ قَالَتْ: أَرْسَلَ إِلَيَّ فَدَعَانِي، فَقَالَ لِي: " اعْتَدِّي فِي بَيْتِ زَوْجِكِ الَّذِي جَاءَكَ فِيهِ نَعْيُهُ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ" ، قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعَثَ إِلَيَّ فَسَأَلَنِي، فَحَدَّثْتُهُ.
فریعہ بنت مالک رضی الله عنها بیان کرتی ہیں کہ ان کا خاوند اپنے (حبشی) غلاموں کی تلاش میں نکلا تو انہیں قدوم نامی جگہ میں پا لیا، انہوں نے حملہ کر کے انہیں قتل کر دیا، وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئیں اور اپنا واقعہ بیان کیا، نیز بتایا کہ میں ایسے گھر میں رہتی ہوں، جو میرے گھر والوں سے دور ہے، لہذا میں اپنے میکے لوٹ جانا چاہتی ہوں۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ فریعہ کہتی ہیں: جب میں حجروں کے پاس پہنچی یا ان سے آگے نکلی، تو آپ نے مجھے آواز دی یا بلا وا بھیجا اور فرمایا: اپنے خاوند کے گھر میں ہی عدت پوری کریں، جہاں آپ کو ان کی موت کی اطلاع ملی ہے۔ فریعہ کہتی ہیں: سیدنا عثمان رضی الله عنہ نے اپنے دور خلافت میں مجھ سے (اس بارے میں) پوچھنے کے لیے پیغام بھیجا، تو میں نے ان کو بتا دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 759]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: موطأ الإمام مالك: 591/2، مسند الإمام أحمد: 370/6، سنن أبي داود: 2300، سنن الترمذي: 1204، اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن صحیح، امام ابن حبان رحمہ اللہ (4292، 4293) نے صحیح، امام حاکم رحمہ اللہ (208/2) نے صحيح الإسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔ اس حدیث کو امام نسائی رحمہ اللہ (3562) اور امام ابن ماجہ رحمہ اللہ (2031) نے بھی روایت کیا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 760
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا مُطَرِّفٌ ، قَالَ: ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، ح وَثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ ، قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأُوَيْسِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ، طَلَّقَهَا الْبَتَّةَ وَهُوَ غَائِبٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا وَكِيلَهُ بِشَعِيرٍ فَسَخِطَتْهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ شَيْءٍ، فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِ نَفَقَةٌ، وَأَمَرَهَا أَنْ تَعْتَدَّ فِي بَيْتِ أُمِّ شَرِيكٍ، ثُمَّ قَالَ: تِلْكَ امْرَأَةٌ يَغْشَاهَا أَصْحَابِي، فَاعْتَدِّي عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ رَجُلٌ أَعْمَى تَضَعِينَ ثِيَابَكِ، فَإِذَا حَلَلْتِ فَآذِنِينِي"، قَالَتْ: فَلَمَّا حَلَلْتُ ذَكَرْتُ لَهُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، وَأَبَا جَهْمٍ خَطَبَانِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا أَبُو جَهْمٍ فَلا يَضَعُ عَصَاهُ عَنْ عَاتِقِهِ، وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَصُعْلُوكٌ لا مَالَ لَهُ، انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، قَالَتْ: فَكَرِهْتُ، ثُمَّ قَالَ: انْكِحِي أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ، فَنَكَحْتُهُ فَجَعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا وَاغْتَبَطْتُ بِهِ" .
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی الله عنها بیان کرتی ہیں کہ ابو عمرو بن حفص نے انہیں غیر موجودگی میں بتہ طلاق دے دی اور اپنے وکیل کے ہمراہ کچھ جو بھیجے، تو وہ (یہ تھوڑے سے جو دیکھ کر) اس سے ناراض ہوئیں، اس نے کہا: الله کی قسم! ہمارے ذمہ آپ کا کوئی حق نہیں ہے۔ وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئیں اور سارا معاملہ آپ کے سامنے پیش کیا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ان کے ذمہ آپ کا کوئی نفقہ نہیں۔ اسے ام شریک کے گھر عدت گزارنے کا حکم دیا، پھر فرمایا: وہ (ام شریک) ایسی خاتون ہیں کہ اس کے پاس میرے صحابہ بکثرت آتے جاتے ہیں، لہذا آپ ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزار لیں، کیوں کہ وہ نابینا آدمی ہیں اگر آپ کسی وقت (فوری) کپڑے اتار بھی دیں، تو کوئی حرج نہیں اور جب عدت پوری کر لو، تو مجھے اطلاع دینا۔ وہ بیان کرتی ہیں: جب عدت مکمل ہو گئی تو میں نے آپ کو اطلاع دی کہ سیدنا معاویہ بن ابو سفیان اور ابو جہم بن ہذیم نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ابو جہم تو مارتا بہت ہے اور معاویہ فقیر آدمی ہے اس کے پاس کوئی مال نہیں، لہذا آپ اسامہ بن زید سے نکاح کر لیں۔ فاطمہ نے کہا: مجھے وہ پسند نہیں، آپ صلی الله علیہ وسلم نے پھر فرمایا: اسامہ بن زید سے شادی کر لیں۔ میں نے ان سے نکاح کر لیا، الله تعالیٰ نے اس میں اتنی خیر و برکت کی کہ میں ان پر رشک کرنے لگی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 760]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 1480»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 761
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، قَالَ: ثنا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ بْنِ صُخَيْرٍ الْعَدَوِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ:" إِنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلاثًا، فَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُكْنَى وَلا نَفَقَةً" .
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی الله عنها بیان کرتی ہیں کہ ان کے خاوند نے انہیں تین طلاقیں دے دیں، تو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے انہیں رہائش اور نفقہ کا حق نہیں دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 761]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 1480»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 762
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ اجْتَمَعَ هُوَ وَابْنُ عَبَّاسٍ عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ،" فَذَكَرُوا الرَّجُلَ يَتَوَفَّى عَنِ الْمَرْأَةِ فَتَلِدُ بَعْدَهُ بِلَيَالٍ قَلائِلَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: حِلُّهَا آخِرُ الأَجَلَيْنِ، وَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ: إِذَا وَضَعَتْ فَقَدْ حَلَّتْ، فَتَرَاجَعَا فِي ذَلِكَ بَيْنَهُمَا، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَنَا مَعُ ابْنِ أَخِي يَعْنِي أَبَا سَلَمَةَ، فَبَعَثُوا كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلَهَا، فَذَكَرَتْ أُمُّ سَلَمَةَ أَنَّ سُبَيْعَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ الأَسْلَمِيَّةَ مَاتَ عَنْهَا زَوْجُهَا فَنَفِسَتْ بَعْدَهُ لِلَيَالٍ، وَأَنَّ رَجُلا مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ يُكَنَّى أَبَا السَّنَابِلِ بْنَ بَعْكَكَ خَطَبَهَا، وَأَخْبَرَهَا أَنَّهَا قَدْ حَلَّتْ، فَأَرَادَتْ أَنْ تَتَزَوَّجَ غَيْرَهُ، فَقَالَ لَهَا أَبُو السَّنَابِلِ: فَإِنَّكِ لَمْ تَحِلِّي، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ سُبَيْعَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهَا أَنْ تَتَزَوَّجَ" .
سیدنا ابو سلمہ اور عبد الله بن عباس رضی الله عنہما سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنہ کے پاس اکٹھے ہو گئے اور اس آدمی کا تذکرہ کرنے لگے جو فوت ہو جائے اور کچھ دن بعد اس کی بیوی بچہ جن دے (تو وہ عورت کون سی عدت گزارے) سیدنا عبد الله بن عباس رضی الله عنہما کہنے لگے: اس کی عدت وہ ہوگی، جو دونوں (وضع حمل یا چار ماہ دس دن) میں سے بعد میں پوری ہوگی، ابو سلمہ کہنے لگے: جب بچہ پیدا ہو جائے گا، تو اس کی عدت پوری ہو جائے گی۔ اس مسئلہ میں دونوں کے مابین تکرار ہو گئی تو سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنہ نے فرمانے لگے: میں اپنے بھتیجے ابو سلمہ کے ساتھ ہوں۔ پھر انہوں نے سیدنا عبد الله بن عباس رضی الله عنہما کے غلام کریب کو سیدہ ام سلمہ رضی الله عنها کے پاس پوچھنے کے لیے بھیجا، تو سیدہ ام سلمہ رضی الله عنها نے بتایا کہ سبیعہ بنت الحارث اسلمیہ کا خاوند فوت ہو گیا اور اس کے چند دن بعد ان کے ہاں بچہ پیدا ہو گیا، تو بنو عبد الدار کے ایک آدمی، جس کی کنیت ابو السنابل بن بعکک تھی، نے انہیں شادی کا پیغام بھیجا اور انہیں بتایا کہ وہ حلال ہو چکی ہیں، سبیعہ نے کسی اور سے شادی کرنا چاہی، تو ابو سنابل کہنے لگا: آپ حلال نہیں ہوئیں، سبیعہ نے یہ بات رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے ذکر کی، تو آپ نے انہیں شادی کرنے کا حکم دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 762]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 4909، صحيح مسلم: 1485»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 763
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ ، قَالَ: ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ الرَّبِيعِ بِنْتِ مُعَوِّذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهَا اخْتَلَعَتْ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ أُمِرَتْ أَنْ تَعْتَدَّ بِحَيْضَةٍ" .
ربیع بنت معوذ رضی الله عنہما بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے دور میں خلع لے لیا، تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اسے ایک حیض عدت گزارنے کا حکم دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 763]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده صحيح: سنن الترمذي: 1185، وقال: حديث الربيع الصحيح أنها أمرت أن تعتد بحيضة.»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 764
حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْعَطَّارُ ، وَابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالا: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاثِ لَيَالٍ" وَقَالَ الْعَطَّارُ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ.
سیدہ عائشہ رضی الله عنها بیان کرتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت الله اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا جائز نہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 764]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح مسلم: 1491»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 765
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثنا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: ثنا حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مَاتَ نَسِيبٌ لَهَا، أَوْ قَرِيبٌ لَهَا، فَدَعَتْ بِصُفْرَةٍ، فَمَسَحَتْ ذِرَاعَيْهَا، وَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ، أَوْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاثٍ إِلا عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا" .
سیدہ ام حبیبہ رضی الله عنها کا کوئی نسبی رشتہ دار یا کوئی قرابت دار فوت ہو گیا، تو انہوں نے (تین دن بعد) زرد رنگ منگوا کر اپنے رخساروں پر لگایا اور فرمانے لگیں: میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو عورت الله اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا جائز نہیں، البتہ خاوند پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرے گی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 765]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5334، صحيح مسلم: 1486»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 766
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ: أنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْعَطَّارُ ، وَهَذَا حَدِيثُهُ، قَالَ: أنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ: أنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَحِلُّ لامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاثَةٍ إِلا عَلَى زَوْجٍ، فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلا تَكْتَحِلْ، وَلا تَلْبَسْ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلا ثَوْبَ عَصَبٍ، وَلا تَمَسَّ طِيبًا إِلا عِنْدَ أَدْنَى طُهْرِهَا" .
سیدہ ام عطیہ رضی الله عنها بیان کرتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت الله اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا جائز نہیں، البتہ خاوند پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرے گی، نہ سرمہ لگائے گی، نہ رنگدار لباس پہنے گی، البتہ رنگے ہوئے سوت کا کپڑا (جو بنائی سے پہلے ہی رنگین ہو) پہن سکتی ہے، نہ خوشبو لگائے گی، مگر جب حیض سے پاک ہو (تو تھوڑی سی خوشبو لگا لے)۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 766]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5342، صحيح مسلم: 938»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 767
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي الْحَارِثِ ، قَالا: ثنا يَحْيَى هُوَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ ، قَالَ: ثني بُدَيْلٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ ابْنَةِ شَيْبَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا لا تَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ مِنَ الثِّيَابِ، وَلا الْمُمَشَّقَةَ، وَلا الْحُلِيَّ، وَلا تَخْتَضِبُ، وَلا تَكْتَحِلُ" ، قَالَ: وَثَنِي بُدَيْلٌ، أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ مُسْلِمٍ، قَالَ: لَمْ أَرَهُمْ يَرَوْنَ بِالصَّبِرِ بَأْسًا.
نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ ام سلمہ رضی الله عنها بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا خاوند فوت ہو جائے، وہ زرد یا گیر و رنگ کیے ہوئے کپڑے نہ پہنے، نہ زیور پہنے، نہ مہندی لگائے اور نہ سرمہ لگائے۔ حسن بن مسلم کہتے ہیں: میرے خیال میں ان کے ہاں ایلوا لگانے میں کوئی حرج نہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 767]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده حسن: مسند الإمام أحمد: 302/6، سنن أبي داود: 2304، سنن النسائي: 3565، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (4306) نے صحیح کہا ہے۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 768
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَ: ثنا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: ثني حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنَّ امْرَأَةً تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا فَاشْتَكَتْ عَيْنَهَا، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرُوا الْكُحْلَ، فَقَالُوا: نَخَافُ عَلَى عَيْنِهَا، قَالَ: " قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَمْكُثُ فِي بَيْتِهَا فِي شَرِّ أَحْلاسِهَا أَوْ فِي أَحْلاسِهَا فِي شَرِّ بَيْتِهَا حَوْلا، فَإِذَا مَرَّ كَلْبٌ رَمَتْ بِبَعْرَةٍ، أَفَلا أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا" .
سیدہ ام سلمہ رضی الله عنها بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہو گیا، (عدت میں) اس کی آنکھیں درد کرنے لگیں تو لوگوں نے اس کا تذکرہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے سامنے کرتے ہوئے سرمہ ڈالنے کا ذکر کیا، نیز کہنے لگے: ہمیں اس کی آنکھوں کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ایک عورت (دور جاہلیت میں) سال بھر اپنے گھر میں گندے کپڑوں میں رہا کرتی تھی، یا یوں فرمایا: گندے کپڑوں میں اور گندے گھر میں رہا کرتی تھی، جب کوئی کتا گزرتا، تو وہ مینگنی پھینکتی (تب عدت پوری ہوتی) اور اب چار ماہ دس دن بھی نہیں گزار سکتی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 768]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 5338، صحيح مسلم: 1488»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں