🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (1114)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

11. باب في الحدود
حدود (شرعی سزاؤں) کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 801
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا بِشْرُ بْنُ أَبِي الأَزْهَرِ بِبَغْدَادَ، قَالَ: أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ عِيسَى بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: ثني جَرِيرُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَدٌّ يُعْمَلُ فِي الأَرْضِ خَيْرٌ لأَهْلِهِ مِنْ أَنْ يُمْطَرُوا ثَلاثِينَ صَبَاحًا" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: زمین میں اگر ایک حد کو نافذ کر دیا جائے تو وہ اہل زمین کے لیے تیس روز کی بارش سے بہتر ہے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 801]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف له شواهد ضعيفة: مسند الإمام أحمد: 362/2، 402، سنن النسائي: 4908، سنن ابن ماجه: 2538، التاريخ الكبير للبخاري: 212/2، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (4398) نے صحیح کہا ہے، جریر بن یزید بجلی کو امام ابو زرعہ رحمہ اللہ نے منکر الحدیث، نیز حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (تقریب التہذیب: 917) اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ (دیوان الضعفاء: 435) نے ”ضعیف“ کہا ہے۔ دوسری سند میں یونس بن عبید مدلس ہیں، سماع کی تصریح ثابت نہیں۔ سنن نسائی میں ”ثلاثین“ کے الفاظ ہیں، باقی میں ”اربعین“ کے الفاظ ہیں۔»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف له شواهد ضعيفة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 802
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، قَالَ: ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: ثنا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا الله تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 802]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 2699»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 803
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالا: ثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ ، عَنْ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ، فَقَالَ: " تُبَايِعُونِي عَلَى أَنْ لا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا وَلا تَسْرِقُوا وَلا تَزْنُوا، قَرَأَ عَلَيْهِمُ الآيَةَ، فَمَنْ وَفَّى مِنْكُمْ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَعُوقِبَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَسَتَرَهُ اللَّهُ فَهُوَ إِلَى اللَّهِ، إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ وَإِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ" .
سیدنا عبادہ بن صامت رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی مجلس میں موجود تھے کہ آپ نے فرمایا: آپ اس بات پر میری بیعت کریں کہ الله کے ساتھ شرک نہیں کریں گے، چوری نہیں کریں گے اور زنا نہیں کریں گے، آپ نے ان کے سامنے آیت بھی تلاوت کی، جو اس بیعت کو پورا کرے گا اس کا اجر الله تعالیٰ کے ذمہ ہے اور جو ان میں سے کسی گناہ کا مرتکب ہوا اور اسے سزا بھی مل گئی تو وہ (سزا) اس کا کفارہ بن جائے گی، جو ان میں سے کسی گناہ کا مرتکب ہوا اور الله تعالیٰ نے اس پر پردہ ڈال دیا تو اس کا معاملہ الله کے سپرد ہے، خواہ اسے سزا دے خواہ معاف کر دے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 803]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاري: 4894، صحیح مسلم: 1709/41»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 804
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَتِ امْرَأَةٌ مَخْزُومِيَّةٌ تَسْتَعِيرُ الْمَتَاعَ وَتَجْحَدُهُ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَطْعِ يَدِهَا، فَأَتَى أَهْلُهَا أُسَامَةَ فَكَلَّمُوهُ، فَكَلَّمَ أُسَامَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أُسَامَةُ، أَلا أَرَاكَ تُكَلِّمُنِي فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ، ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا، فَقَالَ: إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فَإِنَّهُ إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ، وَإِذَا سَرَقَ فِيهِمُ الضَّعِيفُ قَطَعُوهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ كَانَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ لَقَطَعْتُ يَدَهَا" ، قَالَ: فَقَطَعَ يَدَ الْمَخْزُومِيَّةِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک مخزومی عورت، جو ادھار سامان لے کر انکار کر دیا کرتی تھی نے چوری کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، اس کے گھر والے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور آپ سے (معافی کی) بات کی، تو سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسامہ! کیا آپ مجھ سے اللہ تعالیٰ کی حد کے متعلق بات (سفارش) کر رہے ہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا: آپ سے پہلے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کہ جب ان میں سے کوئی خاندانی آدمی چوری کرتا، تو اسے چھوڑ دیتے اور جب کوئی کمزور آدمی چوری کرتا، تو اس کے ہاتھ کاٹ دیتے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر (چوری کرنے والی) فاطمہ بنت محمد ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔ راوی کہتے ہیں: آپ نے مخزومی عورت کا ہاتھ کاٹ دیا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 804]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاري: 6788، صحیح مسلم: 1688»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 805
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ، فَقَالُوا: مَنْ يُكَلِّمُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ قریشیوں کو اس عورت کے معاملے نے پریشان کر دیا، جس نے چوری کی تھی، چنانچہ انہوں نے کہا: اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کون بات کرے گا؟ راویوں نے مکمل حدیث بیان کی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 805]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاري: 6788، صحیح مسلم: 1688»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 806
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ: سَأَلْتُ يَعْنِي يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ قُرَيْشًا أَهَمَّهُمْ شَأْنُ الْمَرْأَةِ الَّتِي سَرَقَتْ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ قریشیوں کو اس عورت کے معاملے نے پریشان کر دیا، جس نے چوری کی تھی۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 806]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاري: 6787، صحیح مسلم: 1688/2»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 807
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: " مَا خَيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا، وَلا اقْتَصَّ مِنْ رَجُلٍ مَظْلَمَةً إِلا شَيْئًا مِنْ حُدُودِ اللَّهِ، فَلَيْسَ يَتْرُكُ ذَلِكَ لأَحَدٍ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو کاموں میں اختیار دیا گیا، تو آپ نے ان میں سے آسان کام کو اختیار کیا۔ آپ نے حدود اللہ کے علاوہ کسی بھی آدمی سے اس کی زیادتی کا بدلہ نہیں لیا، آپ کسی کی حد کو معاف نہیں کرتے تھے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 807]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاري: 6786، صحیح مسلم: 2327»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 808
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ حَمَّادٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلاثَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَكْبُرَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آدمی مرفوع القلم ہیں؛ (یعنی قابل مواخذہ نہیں) سویا ہوا آدمی حتیٰ کہ وہ بیدار ہو جائے، بچہ حتیٰ کہ وہ بالغ ہو جائے، مجنون (دیوانہ) حتیٰ کہ اسے عقل آجائے۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 808]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «إسناده ضعيف وللحديث شواهد ضعيفة: مسند الإمام أحمد: 100/6، 101، سنن أبي داود: 4398، سنن النسائي: 3462، سنن ابن ماجه: 2041، اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (142) نے صحیح کہا ہے، امام حاکم رحمہ اللہ (59/2) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ حماد بن ابی سلیمان اور ابراہیم بن یزید نخعی دونوں مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔ مسند علی بن الجعد (741) میں بسندِ صحیح سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا یہ قول آتا ہے: «أَمَا بَلَغَكَ أَنَّ الْقَلَمَ قَدْ وُضِعَ عَنْ ثَلَاثَةٍ: عَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَفِيقَ وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَعْقِلَ وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
إسناده ضعيف وللحديث شواهد ضعيفة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 809
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " عَرَضَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فِي الْقِتَالِ، وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ، فَلَمْ يُجِزْنِي، فَلَمَّا كَانَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَرَضَنِي وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ فَأَجَازَنِي"، قَالَ: فَقَدِمْتُ عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَعُمَرُ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةٌ، فَحَدَّثْتُهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْحَدَّ بَيْنَ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، فَكَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ أَنِ افْرِضُوا لابْنِ خَمْسَ عَشْرَةَ وَمَا كَانَ دُونَ ذَلِكَ فَأَلْحِقُوهُ بِالْعِيَالِ" .
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن میں چودہ برس کا تھا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جنگ کے لیے پیش ہوا، تو آپ نے مجھے اجازت نہیں دی، پھر غزوہ خندق کے دن میں پندرہ برس کا تھا، میں آپ کے سامنے پیش ہوا، تو آپ نے مجھے اجازت دے دی۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے دوران میں ان کے پاس آیا اور ان کے سامنے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے فرمایا: یہ بچے اور جوان کے درمیان حد ہے، چنانچہ انہوں نے اپنے عمال (گورنروں) کو لکھ بھیجا کہ پندرہ سال کے بچے کا وظیفہ لگا دو اور جو اس سے چھوٹا ہے، اسے گھر والوں کے ساتھ ہی رہنے دو۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 809]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاري: 2664، صحیح مسلم: 1868»

الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں