المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
قسامہ (قتل کے شک پر حلف لینے) کا بیان
حدیث نمبر: 798
حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُقْرِئِ ، قَالَ: ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، قَالَ: وُجِدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ قَتِيلا، وَقَالَ مَرَّةً: مَيِّتًا فِي قَلِيبٍ مِنْ قُلَبِ خَيْبَرَ، أَوْ فَقِيرٍ مِنْ فُقُرِهَا، فَجَاءَ عَمَّاهُ وَأَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، وَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَكَلَّمَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْكُبْرَ الْكُبْرَ، فَتَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا وَجَدْنَا عَبْدَ اللَّهِ قَتِيلا فِي قَلِيبٍ مِنْ قُلَبِ خَيْبَرَ، قَالَ: " فَيُقْسِمُ مِنْكُمْ خَمْسُونَ أَنَّ يَهُودَ قَتَلَتْهُ" قَالُوا: فَكَيْفَ نُقْسِمُ عَلَى مَا لَمْ نَرَ؟ قَالَ: فَسَتُبِرِّئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ، قَالُوا: كَيْفَ نَرْضَى بِهِمْ وَهُمْ مُشْرِكُونَ؟ وَقَالَ ابْنُ الْمُقْرِئِ: وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى: فَقَالَ: تُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَحْلِفُونَ أَنَّهُمْ لَمْ يَقْتُلُوهُ وَلَمْ يَعْلَمُوا قَاتِلا، فَقَالُوا: كَيْفَ نَرْضَى بِأَيْمَانِ قَوْمٍ مُشْرِكِينَ؟ قَالَ: فَيُقْسِمُ مِنْكُمْ خَمْسُونَ أَنَّهُمْ قَتَلُوهُ، قَالُوا: كَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَرَ؟ فَوَادَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ، فَرَكَضَتْنِي بَكْرَةٌ مِنْهَا" .
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ عبد الله بن سہل خیبر کے کسی کنویں یا گڑھے میں مقتول یا مردہ پائے گئے، ان کے دو چاچا اور بھائی عبد الرحمن بن سہل جو کہ جنگ بدر میں بھی شریک تھے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئے، ان کے بھائی عبد الرحمن بات کرنے لگے تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: بڑے کو بات کرنے دیں۔ چنانچہ محیصہ نے بات کی اور کہا: اللہ کے رسول! ہم نے عبد الله کو خیبر کے کنویں میں مقتول پایا ہے، آپ نے فرمایا: آپ میں سے پچاس آدمی قسمیں کھائیں کہ اسے یہودیوں نے قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا: جو کام ہم نے دیکھا نہیں اس پر ہم قسم کیسے اٹھا سکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: پھر یہود پچاس قسمیں کھا کر آپ سے بری ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا: ہم ان کی قسموں کو کس طرح قبول کر لیں جب کہ وہ مشرک لوگ ہیں؟ ابن مقری کہتے ہیں: ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ نے فرمایا: یہود پچاس قسمیں کھا کر آپ سے بری ہو جائیں گے کہ انہوں نے نہ تو اسے قتل کیا ہے اور نہ ہی انہیں قاتل کا علم ہے۔ انہوں نے کہا: ہم مشرک لوگوں کی قسموں کو کیسے قبول کر لیں؟ فرمایا: پھر آپ میں سے پچاس آدمی قسمیں کھائیں کہ انہوں (یہودیوں) نے ہی اسے قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا: ہم دیکھے بنا کیسے کھا سکتے ہیں؟ چنانچہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اپنے پاس سے اس کی دیت ادا کر دی۔ ان میں سے ایک اونٹنی نے مجھے ٹانگ ماری تھی۔ [المنتقى ابن الجارود/كتاب الطلاق/حدیث: 798]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح البخاري: 3173، صحیح مسلم: 1669»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح
الرواة الحديث:
بشير بن يسار الحارثي ← سهل بن أبي حثمة الأنصاري