المنتقى ابن الجارود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
73. باب نقل القاتل سلب المقتول
مقتول کا سامان قاتل کو ملنے کا بیان
حدیث نمبر: 1076
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ يُحَدِّثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ، قَالَ: فَرَأَيْتُ رَجُلا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلا رَجُلا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: فَاسْتَدَرْتُ لَهُ حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ، فَضَرَبْتُهُ عَلَى حَبَلِ عَاتِقِهِ، وَأَقْبَلَ عَلَيَّ وَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ، ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي، فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: مَا بَالُ النَّاسِ؟ قَالَ: أَمْرُ اللَّهِ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا، وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " مَنْ قَتَلَ قَتِيلا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ، فَلَهُ سَلَبُهُ، قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: فَقُمْتُ فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ قَتَلَ قَتِيلا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ، قَالَ: فَقُمْتُ فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ، فَقُمْتُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ، قَالَ: فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَسَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِي فَارْضِهِ مِنْ حَقِّهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لاهَا اللَّهِ، إِذًا لا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسُدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَيُعْطِيكَ سَلَبَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَدَقَ أَعْطِهِ إِيَّاهُ، فَأَعْطَانِي ، قَالَ: فَبِعْتُ الدِّرْعَ فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلَمَةَ، فَإِنَّهُ لأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الإِسْلامِ، قَالَ: وَالْمَخْرِفُ: النَّخْلُ.
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی معیت میں غزوہ حنین کے لیے روانہ ہوئے، جب ہم برسر پیکار ہوئے تو مسلمانوں میں افراتفری پھیل گئی، کہتے ہیں: میں نے ایک مشرک کو دیکھا کہ اس نے ایک مسلمان کو قابو میں لیا ہوا ہے، میں گھوم کر اس کے پیچھے آیا اور اس کی گردن کے پٹھے پر تلوار کا وار کیا، وہ پلٹ کر میری طرف آیا اور مجھے اتنے زور سے بھینچا کہ مجھے موت کی تلخی یاد آ گئی، پھر اسے موت آ گئی تو اس نے مجھے چھوڑ دیا، میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملا تو انہیں کہا: آج لوگوں کو شکست کیوں ہو گئی ہے؟ انہوں نے کہا: الله تعالیٰ کو یہی منظور تھا۔ کہتے ہیں: پھر سب لوگ واپس آگئے اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف فرما ہوئے تو آپ نے فرمایا: جس نے کسی کافر کو قتل کیا اور اس کے پاس ثبوت بھی ہو تو اس مقتول کا مال و متاع اسی (قاتل) کو ملے گا۔ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں کھڑا ہو گیا پھر یہ سوچ کر بیٹھ گیا کہ میری گواہی کون دے گا؟ آپ نے (دوبارہ) فرمایا: جس نے کسی کافر کو قتل کیا اور اس کے پاس ثبوت بھی ہو تو اس مقتول کا مال و متاع اسی (قاتل) کو ملے گا۔ (ابو قتادہ) کہتے ہیں: میں کھڑا ہو گیا اور پھر یہ سوچ کر بیٹھ گیا کہ میری گواہی کون دے گا؟ آپ نے تیسری بار پھر یہی فرمایا تو میں کھڑا ہو گیا۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ابو قتادہ! کیا بات ہے؟ کہتے ہیں: میں نے آپ کو پورا واقعہ سنا دیا۔ ایک آدمی کہنے لگا: الله کے رسول! یہ سچ کہتا ہے اور اس مقتول کا مال و متاع میرے پاس ہے، آپ ان کو راضی کر دیں۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کہنے لگے: الله کی قسم! ایسا نہیں ہوگا، آپ ایسا نہیں کریں گے کہ الله کا شیر الله اور اس کے رسول کی حمایت میں جہاد کرے اور مال و متاع تجھے دے دیں۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے سچ کہا ہے، وہ سامان انہیں (ابو قتادہ کو) دے دیں۔ تو اس نے وہ مال مجھے دے دیا، میں نے ایک زرہ فروخت کر کے (محلہ) بنو سلمہ میں ایک باغ خرید لیا اور یہ وہ پہلا مال ہے جو میں نے اسلام میں حاصل کیا۔ مخرف کھجوروں کے باغ کو کہتے ہیں۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1076]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحيح البخاري: 3142، صحیح مسلم: 1571»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحيح
حدیث نمبر: 1077
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: ثنا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: ثني عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِيِّ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُخَمِّسِ السَّلَبَ" .
سیدنا عوف بن مالک اشجعی اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے سلب (مقتول کا سامان) سے خمس نہیں نکالا۔ [المنتقى ابن الجارود/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1077]
تخریج الحدیث: از غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري: «صحیح مسلم: 1753»
الحكم على الحديث:
غلام مصطفےٰ ظهير امن پوري:
صحیح