مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
193. في التيمم كيف هو؟
تیمم کا طریقہ
ترقیم عوامۃ: 1684 ترقیم الشثری: -- 1688
١٦٨٨ - حدثنا ابو بكر قال حدثنا ابن علية عن ابن جريج عن عطاء قال: اجنب ابو ذر وهو من النبي ﷺ على مسيرة ثلاث (فجاءه) (١) وقد انصرف من صلاة الصبح، وتبرز لحاجته، فالتفت إليه فوضع يده في التراب، فمسح وجهه، وكفيه (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [د، هـ]: (فجاء).
(٢) مرسل، أخرجه عبد الرزاق (٩١٦)، وانظر (١٦٧٣).
حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا ابن علية، عن ابن جريج، عن عطاء، قال:" اجنب ابو ذر وهو من النبي صلى الله عليه وسلم على مسيرة ثلاث فجاءه وقد انصرف من صلاة الصبح وتبرز لحاجته فالتفت إليه فوضع يده في التراب فمسح وجهه وكفيه"
حضرت عطا فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابو ذر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تین دن کی مسافت پر تھے کہ جنابت کا شکار ہوگئے۔ پھر وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی نماز سے فارغ ہو کر رفع حاجت کے لیے گئے، پھر حضرت ابوذر کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے ہاتھوں کو مٹی پر مار کر چہرے اور ہتھیلیوں پر پھیرلیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطهارة/حدیث: 1688]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1688، ترقيم محمد عوامة 1684)
ترقیم عوامۃ: 1685 ترقیم الشثری: -- 1689
١٦٨٩ - حدثنا ابن علية عن ايوب عن نافع: ان ابن عمر (١) تيمم في (مربد) (٢) النعم، فقال بيديه على الارض، فمسح بهما وجهه، ثم ضرب بهما على الارض ضربة اخرى، ثم مسح بهما يديه إلى المرفقين (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [خ]: زيادة (﵁).
(٢) في حاشية [جـ]: (المربد بكسر الميم وفتح الباء الموضع الذي تجلس فيه الإبل والغنم).
(٣) صحيح، أخرجه عبد الرزاق (٨١٨) وابن جرير ٥/ ٧١.
حدثنا حدثنا ابن علية، عن ايوب، عن نافع , ان ابن عمر تيمم في مربد النعم فقال: " بيديه على الارض فمسح بهما وجهه ثم ضرب بهما على الارض ضربة اخرى ثم مسح بهما يديه إلى المرفقين"
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مقام مربد النعم میں کچھ اس طرح تیمم کیا کہ اپنے ہاتھوں کو زمین پر مار کر انہیں چہرے پر ملا، پھر انہیں ایک اور مرتبہ زمین پر مار کر کہنیوں تک دونوں ہاتھوں پر مل لیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطهارة/حدیث: 1689]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1689، ترقيم محمد عوامة 1685)
ترقیم عوامۃ: 1686 ترقیم الشثری: -- 1690
١٦٩٠ - [حدثنا ابن علية عن ايوب قال: سالت سالما عن التيمم؟ قال: فضرب بيديه على الارض (فمسح بهما وجهه ثم ضرب بهما على الارض) (١) ضربة (اخرى) (٢) فمسح بهما يديه إلى المرفقين] (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، س، ط، هـ].
(٢) سقط من: [د، هـ].
(٣) سقط الحديث في [أ، خ].
حدثنا ابن علية، عن ايوب قال: سالت سالما عن التيمم قال: " فضرب بيديه على الارض فمسح بهما وجهه ثم ضرب بيديه على الارض ضربة اخرى فمسح بهما يديه إلى المرفقين"
حضرت ایوب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم سے تیمم کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مار کر انہیں چہرے پر ملا، پھر انہیں ایک اور مرتبہ زمین پر مار کر کہنیوں تک دونوں ہاتھوں پر مل لیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطهارة/حدیث: 1690]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1690، ترقيم محمد عوامة 1686)
ترقیم عوامۃ: 1687 ترقیم الشثری: -- 1691
١٦٩١ - حدثنا ابن علية عن حبيب بن الشهيد: انه سمع الحسن سئل عن التيمم؟ فضرب بيديه (إلى) (١) الارض ضربة فمسح بهما وجهه، ثم ضرب (بيديه) (٢) على الارض ضربة اخرى، (فمسح) (٣) بهما يديه إلى المرفقين.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، خ، ك]: (إلى) وفي [هـ]: (على).
(٢) في [خ]: (بهما).
(٣) في [خ]: (ثم مسح).
حدثنا ابن علية، عن حبيب بن الشهيد انه" سمع الحسن سئل عن التيمم فضرب بيديه على الارض ضربة فمسح بهما وجهه ثم ضرب بيديه على الارض ضربة اخرى فمسح بهما يديه إلى المرفقين"
حضرت حسن سے تیمم کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مار کر انہیں چہرے پر ملا، پھر انہیں ایک اور مرتبہ زمین پر مار کر کہنیوں تک دونوں ہاتھوں پر مل لیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطهارة/حدیث: 1691]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1691، ترقيم محمد عوامة 1687)
ترقیم عوامۃ: 1688 ترقیم الشثری: -- 1692
١٦٩٢ - حدثنا ابن علية عن داود عن الشعبي قال: التيمم. ضربة للوجه، ولليدين إلى المرفقين. - ووصف لنا داود، فضرب بيديه على الارض ضربة، ثم نفضهما، ثم مسح بهما كفيه، ثم مسح بهما وجهه، وذراعيه إلى المرفقين.
حدثنا ابن علية، عن داود، عن الشعبي، قال: " التيمم ضربة للوجه ولليدين إلى المرفقين. ووصف لنا داود فضرب بيديه على الارض ضربة ثم نفضهما ثم مسح بهما كفيه ثم مسح بهما وجهه وذراعيه إلى المرفقين"
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ تیمم میں ایک مرتبہ زمین پر ہاتھ مارنا ہے چہرے کے لیے بھی اور کہنیوں تک دونوں بازوؤں کے لیے بھی۔ حضرت داؤد نے تیمم کا طریقہ یوں بیان کیا کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک مرتبہ زمین پر مارا پھر انہیں جھاڑا، پھر دونوں ہتھیلیوں کو آپس میں ملا، پھر دونوں ہاتھ چہرے پر اور پھر دونوں بازوؤں پر کہنیوں تک مل لیے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطهارة/حدیث: 1692]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1692، ترقيم محمد عوامة 1688)
ترقیم عوامۃ: 1689 ترقیم الشثری: -- 1693
١٦٩٣ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن شقيق قال: قال ابو موسى (لعبد الله) (١) : الم تسمع قول (عمار) (٢) : بعثني رسول الله ﷺ في حاجة فاجنبت، فلم اجد الماء فتمرغت في الصعيد، كما تمرغ الدابة، ثم اتيت النبي ﷺ فذكرت ذلك ⦗٣٣٩⦘ له فقال:"إنما (كان) (٣) يكفيك ان تقول بيديك هكذا"، ثم ضرب بيديه الارض ضربة واحدة، ثم مسح الشمال على اليمين، وظاهر كفيه ووجهه، فقال عبد الله: او لم تر عمر لم يقنع بقول عمار! (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، خ].
(٢) في [هـ]: (عماد).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) صحيح، أخرجه البخاري (١١٠) وأخرجه مسلم (٣٦٨) من طريق المصنف.
حدثنا ابو معاوية ، عن الاعمش ، عن شقيق ، قال: قال ابو موسى لعبد الله: الم تسمع قول عمار : بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم في حاجة فاجنبت فلم اجد الماء فتمرغت في الصعيد كما تمرغ الدابة , ثم اتيت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فقال:" إنما كان يكفيك ان تقول بيديك هكذا" , ثم ضرب بيديه الارض ضربة واحدة ثم مسح الشمال على اليمين وظاهر كفيه ووجهه , فقال عبد الله: او لم تر عمر لم يقنع بقول عمار؟!
حضرت شقیق فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ نے حضرت عبد اللہ سے فرمایا کہ کیا آپ نے حضرت عمار کا یہ قول نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کسی کام سے بھیجا تو میں جنبی ہوگیا مجھے پانی نہ ملا تو میں مٹی میں جانور کی طرح لوٹ پوٹ ہونے لگا۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ساری بات عرض کی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ تم اپنے دونوں ہاتھوں سے یوں کرلیتے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک مرتبہ زمین پر مارا، پھر بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ پر پھیرا، پھر ہاتھوں کے ظاہری حصے اور چہرے کا مسح کیا۔ یہ سن کر حضرت عبد اللہ نے فرمایا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ حضرت عمر نے حضرت عمار کے قول پر اکتفا نہیں کیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطهارة/حدیث: 1693]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1693، ترقيم محمد عوامة 1689)
ترقیم عوامۃ: 1690 ترقیم الشثری: -- 1694
١٦٩٤ - حدثنا وكيع عن الاعمش عن سلمة بن كهيل عن ابن ابزى عن ابيه قال: قال عمار: لعمر اما تذكر يوما، كنا في كذا وكذا، (فاجنبنا) (١) ، فلم نجد الماء، فتمعكنا في التراب، فلما قدمنا على النبي ﷺ ذكرنا ذلك له فقال:"إنما كان يكفيك هذا"، ثم ضرب (الاعمش) (٢) بيديه ضربة، ثم نفخهما، ثم مسح بهما وجهه وكفيه (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (فاجتنبت)، وفي [خ]: (فأجنبت).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) صحيح، وأخرجه البخاري (٣٣٨) ومسلم (٣٦٨).
حضرت ابن ابزی کے والد روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمار نے حضرت عمر سے کہا کہ کیا آپ کو وہ دن یاد نہیں جب فلاں وقت میں ہم جنبی ہوگئے تھے اور ہمیں پانی نہ ملا تو ہم مٹی میں لوٹ پوٹ ہونے لگے۔ جب ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ساری بات عرض کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تمہارے لیے اتنا ہی کافی تھا۔ یہ کہہ کر راوی اعمش نے اپنے دونوں ہاتھ مٹی میں مارے پھر ان میں پھونک ماری پھر انہیں اپنے چہرے اور ہتھیلیوں پر مل لیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطهارة/حدیث: 1694]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1694، ترقيم محمد عوامة 1690)
ترقیم عوامۃ: 1691 ترقیم الشثری: -- 1695
١٦٩٥ - حدثنا معتمر (عن) (١) برد عن مكحول: في التيمم يضرب بيديه الارض، ويمسح بهما وجهه وكفيه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (ابن).
حدثنا معتمر، عن برد، عن مكحول في " التيمم يضرب بيديه الارض ويمسح بهما وجهه وكفيه"
حضرت مکحول تیمم کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ددونوں ہاتھ زمین پر مارے پھر انہیں اپنے چہرے اور اپنے ہاتھوں پر مل لے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطهارة/حدیث: 1695]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1695، ترقيم محمد عوامة 1691)
ترقیم عوامۃ: 1692 ترقیم الشثری: -- 1696
١٦٩٦ - حدثنا جرير عن مغيرة عن (حماد) (١) عن إبراهيم قال: كان يحب ان يبلغ بالتيمم المرفقين.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (داود).
حدثنا جرير، عن مغيرة، عن حماد، عن إبراهيم، قال:" كان يحب ان يبلغ بالتيمم إلى المرفقين"
حضرت ابراہیم اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ تیمم میں کہنیوں تک کا احاطہ کیا جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطهارة/حدیث: 1696]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1696، ترقيم محمد عوامة 1692)
ترقیم عوامۃ: 1693 ترقیم الشثری: -- 1697
١٦٩٧ - حدثنا ابن مهدي (عن زمعة) (١) عن ابن طاوس عن ابيه انه قال: التيمم ضربتان، ضربة للوجه، وضربة للذراعين إلى المرفقين.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقطت في [هـ].
حدثنا ابن مهدي , عن زمعة، عن ابن طاوس، عن ابيه، انه قال: " التيمم ضربتان ضربة للوجه وضربة للذراعين إلى المرفقين"
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ تیمم میں دو ضربیں ہیں ایک چہرے کے لیے اور دوسری کہنیوں تک بازوؤں کے لیے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطهارة/حدیث: 1697]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1697، ترقيم محمد عوامة 1693)