مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
49. في الرجل ينسى الصلوات جميعا
ایک آدمی عشاء کی نماز پڑھنے سے پہلے سو جائے اور پھر طلوع فجر کے بعد اس کی آنکھ کھلے تو وہ پہلے کون سی نماز پڑھے
ترقیم عوامۃ: 4759 ترقیم الشثری: -- 4799
٤٧٩٩ - حدثنا ابو بكر قال حدثنا شريك عن مغيرة عن إبراهيم في الرجل ينسى الصلوات قال: يبدا بالاولى فالاولى.
حدثنا ابو بكر، قال: حدثنا شريك، عن مغيرة، عن إبراهيم في الرجل ينسى الصلوات، قال:" يبدا بالاولى فالاولى"
حضرت ابراہیم اس شخص کے بارے میں جو ساری نمازیں پڑھنا بھول جائے فرماتے ہیں کہ وہ پہلی نمازیں پہلے ادا کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4799]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4799، ترقيم محمد عوامة 4759)
ترقیم عوامۃ: 4760 ترقیم الشثری: -- 4800
٤٨٠٠ - حدثنا حفص عن اشعث عن الحسن قال: إذا نسي الصلوات فليبدا (بالاولى فالاولى) (١) فإن خاف الفوت يبدا بالتي (٢) يخاف فوتها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ك]: ورد (بالأول فالأول).
(٢) في [أ، ب]: (بالذي).
حدثنا حفص، عن اشعث، عن الحسن، قال: " إذا نسي الصلوات فليبدا بالاول فالاول , فإن خاف الفوت يبدا بالتي يخاف فوتها"
حضرت حسن فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص نمازیں پڑھنی بھول جائے تو جو نماز پہلے ہے اسے پہلے ادا کرے۔ البتہ اگر کسی نماز کے قضاء ہونے کا اندیشہ ہو تو اسے پہلے ادا کرلے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4800]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4800، ترقيم محمد عوامة 4760)
ترقیم عوامۃ: 4761 ترقیم الشثری: -- 4801
٤٨٠١ - حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن ابي راشد قال: نمت عن الظهر والعصر والمغرب والعشاء فاتيت عبيد بن عمير فذكرت ذلك (له) (١) فقال: ابدا بالظهر والعصر والمغرب والعشاء.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) زيادة في [أ، د، هـ، ك، جـ]: (له).
حدثنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن ابي راشد، قال: نمت عن الظهر والعصر والمغرب والعشاء فاتيت عبيد بن عمير فذكرت ذلك له، فقال:" ابدا بالظهر والعصر والمغرب والعشاء"
حضرت ابو راشد کہتے ہیں کہ میں ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازوں میں سویا رہا، پھر میں حضرت عبید بن عمیر کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ پہلے ظہر پڑھو، پھر عصر، پھر مغرب، پھر عشاء۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4801]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4801، ترقيم محمد عوامة 4761)
ترقیم عوامۃ: 4762 ترقیم الشثری: -- 4802
٤٨٠٢ - حدثنا سفيان بن عيينة عن معمر (١) عن (عبد الكريم) (٢) عن سعيد بن المسيب في رجل نسي صلاة فذكرها عند غروب الشمس ولم يكن صلى تلك الصلاة قال: إن خشى ان يصلي (٣) هذه التي كان نسي فيذهب وقت تلك فليبدا بالتي (٤) يخاف فوتها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، هـ، د] زيادة: (بن عبد اللَّه).
(٢) في [ب]: (مطموسة).
(٣) في [هـ]: (نصلي).
(٤) في [أ، ب]: (بالذي).
حدثنا سفيان بن عيينة، عن معمر، عن عبد الكريم، عن سعيد بن المسيب في رجل نسي صلاة فذكرها عند غروب الشمس، ولم يكن صلى تلك الصلاة، قال: " إن خشي ان يصلي هذه التي كان نسي فيذهب وقت تلك، فليبدا بالتي يخاف فوتها"
حضرت سعید بن مسیب اس شخص کے بارے میں جو کوئی نماز بھی پڑھنا بھول گیا اور اسے غروب ِ شمس کے وقت نماز یاد آئی اور اس نے اس وقت کی نماز بھی نہ پڑھی تھی، فرماتے ہیں کہ اگر اسے اندیشہ ہو کہ اگر وہ بھولی ہوئی نماز میں مصروف ہوگیا تو یہ وقت والی نماز نکل جائے گی تو پہلے اس کو ادا کرلے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4802]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4802، ترقيم محمد عوامة 4762)
ترقیم عوامۃ: 4763 ترقیم الشثری: -- 4803
٤٨٠٣ - حدثنا عبد الله بن مبارك عن ابن جريج عن عطاء قال: يقضي (الاولى فالاولى) (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ك]: (الأول فالأول).
حدثنا عبد الله بن مبارك، عن ابن جريج، عن عطاء، قال: " يقضي الاول فالاول"
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جو نماز پہلے ہے اسے پہلے قضاء کرے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4803]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4803، ترقيم محمد عوامة 4763)
ترقیم عوامۃ: 4764 ترقیم الشثری: -- 4804
٤٨٠٤ - حدثنا كثير بن هشام عن جعفر بن برقان عن حماد بن فروة قال: اهرقت الماء فنسيت ان اتوضا، فصليت الظهر والعصر والمغرب فذكرت اني صليتها على غير طهر، فلما اصبحت سالت عطاء ومجاهدا -قال جعفر واحسبه قال وسعيد ابن جبير- فكلهم (قال) (١) له: توضا واعد صلاتك (الآن) (٢) تبدا (بالاولى فالاولى) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، هـ]: (قالوا).
(٢) في [أ، ب]: (إلا أن).
(٣) في [أ]: (الأول فالأول)، وفي [جـ، ك]: (الأول فالأول)، وفي [هـ]: (بالأولى فأولى).
حدثنا كثير بن هشام، عن جعفر بن برقان، عن حماد بن فروة، قال: اهرقت الماء فنسيت ان اتوضا فصليت الظهر والعصر والمغرب فذكرت اني صليتها على غير طهر، فلما اصبحت سالت عطاء، ومجاهدا، قال جعفر: واحسبه، قال: وسعيد بن جبير فكلهم قال له:" توضا، واعد صلاتك الآن تبدا بالاول فالاول"
حضرت حماد بن فروہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے استنجا کیا اور میں وضو کرنا بھول گیا۔ پھر میں نے ظہر، عصر اور مغرب کی نماز ادا کی۔ پھر مجھے یاد آیا کہ یہ نمازیں تو میں نے بغیر وضو کے پڑھی ہیں۔ میں نے اس بارے میں حضرت عطاء، حضرت مجاہد اور حضرت سعید بن جبیر سے سوال کیا تو سب نے فرمایا کہ وضو کرو اور ان سب نمازوں کو دوبارہ پڑھو اور جو نماز پہلے ہے اسے پہلے ادا کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4804]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4804، ترقيم محمد عوامة 4764)
ترقیم عوامۃ: 4765 ترقیم الشثری: -- 4805
٤٨٠٥ - حدثنا ابو الاحوص (١) عن ابي حمزة عن مولى لابي بكرة قال: دخل ابو بكرة بستانا فطاف فيه ونظر إليه ونسي صلاة العصر حتى مالت الشمس فلما ذكرها توضا وجلس فلما وجبت قام فصلى العصر ثم صلى المغرب (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (الأخوص).
(٢) مجهول؛ لجهالة مولى أبي بكرة.
حدثنا حدثنا ابو الاحوص، عن ابي حمزة، عن مولى لابي بكرة، قال:" دخل ابو بكرة بستانا فطاف فيه ونظر إليه ونسي صلاة العصر حتى مالت الشمس , فلما ذكرها توضا وجلس، فلما وجبت قام فصلى العصر ثم صلى المغرب"
حضرت ابو بکرہ کے ایک مولیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکرہ ایک باغ میں داخل ہوئے، اس میں چکر لگایا اور اسے دیکھنے لگے۔ اس مصروفیت میں وہ عصر کی نماز بھول گئے، یہاں تک کہ جب سورج غروب ہونے لگا تو انہیں نماز یاد آئی، انہوں نے وضو کیا اور بیٹھ گئے۔ جب سورج غروب ہوگیا تو انہوں نے پہلے عصر کی نماز پڑھی پھر مغرب کی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4805]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4805، ترقيم محمد عوامة 4765)
ترقیم عوامۃ: 4766 ترقیم الشثری: -- 4806
٤٨٠٦ - حدثنا ابن إدريس عن هشام عن واصل مولى (ابي) (١) عيينة عن رجل يقال له سعد قال: صليت في رمضان مع الناس ثم اتيت بيتا لاهلي فدخلت فيه فنمت ليلتي ويومي وليلتي حتى الغد فاتيت ابن عمر فاخبرته قال: فصنعت ماذا؟ قال: صليت الظهر قال: احسنت (قال: ثم) (٢) ماذا؟ قال: صليت العصر قال: احسنت. قال: ثم ماذا؟ قال: صليت المغرب. قال: (احسنت، قال) (٣) : ثم ماذا؟ قال صليت العشاء. قال: احسنت. قال: ثم ماذا؟ قال: اوترت. قال: ما كنت تصنع ⦗٧⦘ بالوتر؟ قال: ثم ماذا؟ قال: (ثم) (٤) صليت الصبح. قال: احسنت (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (ابن).
(٢) في [أ، ب، هـ]: (ثم قال).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [أ، ب، جـ، ك]: زيادة (ثم).
(٥) مجهول؛ لجهالة سعد.
حدثنا حدثنا ابن إدريس، عن هشام، عن واصل مولى ابي عيينة، عن رجل، يقال له: سعد، قال: " صليت في رمضان مع الناس ثم اتيت بيتا لاهلي فدخلت فيه فنمت ليلتي ويومي وليلتي حتى الغد , فاتيت ابن عمر فاخبرته، قال: فصنعت ماذا؟ قال: صليت الظهر، قال: احسنت، قال: ثم ماذا؟ قال: صليت العصر، قال: احسنت، قال: ثم ماذا؟ قال: صليت المغرب، قال: احسنت، قال: ثم ماذا؟ قال: صليت العشاء، قال: احسنت، قال: ثم ماذا؟ قال: اوترت، قال: ما كنت تصنع بالوتر؟ قال ثم ماذا؟ قال: صليت الصبح، قال: احسنت"
سعد نامی ایک آدمی بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں میں نے لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی۔ پھر میں اپنے گھر والوں کے پاس آگیا۔ اور رات کو سویا، پھر اگلے دن بھی سویارہا اور پھر اگلی رات بھی سویا رہا۔ پھر میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور ان سے ساری بات عرض کی اور مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ پھر تم نے کیا کیا؟ میں نے کہا کہ میں نے ظہر کی نماز پڑھی۔ انہوں نے کہا تم نے اچھا کیا، پھر کیا کیا؟ میں نے کہا کہ میں نے عصر کی نماز پڑھی۔ انہوں نے کہا کہ اچھا کیا، پھر کیا کیا؟ میں نے کہا میں نے مغرب کی نماز پڑھی۔ انہوں نے کہا تم نے اچھا کیا، پھر کیا کیا؟ میں نے کہا میں نے عشاء کی نماز پڑھی۔ انہوں نے کہا تم نے اچھا کیا، پھر کیا کیا؟ میں نے کہا پھر میں نے وتر پڑھے۔ انہوں نے کہا کہ تمہیں وتر نہیں پڑھنے چاہئے تھے۔ پھر تم نے کیا کیا؟ میں نے کہا پھر میں نے صبح کی نماز پڑھی۔ انہوں نے کہا کہ تم نے اچھا کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4806]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4806، ترقيم محمد عوامة 4766)