🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

55. (في الرجل) يصلي بالقوم الظهر والعصر
ایک آدمی حضر میں کچھ نمازیں پڑھنا بھول جائے اور اسے وہ سفر میں یاد آئیں تو وہ انہیں کیسے ادا کرے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 4801 ترقیم الشثری: -- 4843
٤٨٤٣ - حدثنا ابو بكر بن عياش عن مغيرة عن إبراهيم في رجل صلى بقوم الظهر وهي له العصر قال: تمت صلاته ويعيد من خلفه.
حدثنا ابو بكر بن عياش، عن مغيرة، عن إبراهيم في رجل صلى بقوم الظهر وهي له العصر، قال:" تمت صلاته ويعيد من خلفه"
حضرت ابراہیم اس شخص کے بارے میں جو لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائے لیکن وہ اس کی عصر کی نماز ہو فرماتے ہیں کہ اس کی نماز ہوجائے گی لیکن مقتدی اپنی نماز کا اعادہ کریں گے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4843]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4843، ترقيم محمد عوامة 4801)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 4802 ترقیم الشثری: -- 4844
٤٨٤٤ - حدثنا ابن علية عن خالد عن ابي قلابة قال: لا تجزي صلاة واحدة عن قومين (شتى) (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، هـ]: (شيء).
حدثنا ابن علية، عن خالد، عن ابي قلابة، قال: " لا تجزي صلاة واحدة عن قومين شتى"
حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ ایک جماعت دو مختلف نمازوں سے نہیں ہوسکتی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4844]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4844، ترقيم محمد عوامة 4802)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 4803 ترقیم الشثری: -- 4845
٤٨٤٥ - حدثنا ابن علية عن عباد بن منصور قال: انتهيت إلى المسجد الجامع وانا ارى انهم لم يصلوا الظهر فقمت اتطوع حتى اقيمت الصلاة فلما صلوا (إذا) (١) هي العصر فقمت فصليت بهم الظهر ثم صليت العصر ثم اتيت الحسن فذكرت ذلك له فامرني (بمثل) (٢) الذي صنعت.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، أ]: (إذ).
(٢) في [أ]: (مثل).

حدثنا ابن علية، عن عباد بن منصور، قال: " انتهيت إلى المسجد الجامع وانا ارى انهم لم يصلوا الظهر فقمت اتطوع حتى اقيمت الصلاة , فلما صلوا إذا هي العصر فقمت فصليت بهم الظهر ثم صليت العصر , ثم اتيت الحسن فذكرت ذلك له فامرني بمثل الذي صنعت"
حضرت عباد بن منصور کہتے ہیں کہ میں جامع مسجد حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ لوگوں نے ابھی ظہر کی نماز نہیں پڑھی ہے۔ میں ظہر کے انتظار میں نفل پڑھنے لگا اتنے میں جماعت کھڑی ہوگئی۔ جب انہوں نے نماز پڑھ لی تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ عصر کی نماز تھی۔ چناچہ میں نے پھر اپنی ظہر کی نماز ادا کی۔ پھر عصر کی نماز پڑھی۔ پھر میں حضرت حسن کے پاس آیا اور ان سے اس مسئلہ کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے مجھے اسی کا حکم دیا جو میں نے کیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4845]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4845، ترقيم محمد عوامة 4803)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 4804 ترقیم الشثری: -- 4846
٤٨٤٦ - حدثنا ابن علية عن ايوب عن محمد بن سيرين عن كثير بن افلح قال: انتهينا إلى المسجد ولم اصل المغرب فاقيمت الصلاة فصليت معهم وانا ارى انها المغرب فإذا هي العشاء فقمت فصليت المغرب ثم صليت العشاء ثم سالت فامروني بالذي صنعت.
حدثنا ابن علية، عن ايوب، عن محمد بن سيرين، عن كثير بن افلح، قال: " انتهينا إلى المسجد ولم اصل المغرب فاقيمت الصلاة فصليت معهم وانا ارى انها المغرب فإذا هي العشاء فقمت فصليت المغرب ثم صليت العشاء ثم سالت فامروني بالذي صنعت"
حضرت کثیر بن افلح کہتے ہیں کہ میں مسجد پہنچا، میں نے ابھی تک مغرب کی نماز نہیں پڑھی تھی۔ اتنے میں جماعت کھڑی ہوگئی، میں نے مغرب کی نماز تصور کرتے ہوئے ان کے ساتھ نماز پڑھی لیکن مجھے پتہ چلا کہ وہ تو عشاء کی نماز پڑھ رہے تھے۔ چناچہ میں نے پہلے مغرب کی نماز پڑھی اور پھر عشاء کی۔ پھر میں نے بزرگوں سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے مجھے اسی کا حکم دیاجو میں نے کیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4846]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4846، ترقيم محمد عوامة 4804)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 4805 ترقیم الشثری: -- 4847
٤٨٤٧ - حدثنا وكيع (عن سفيان) (١) عن جعفر بن برقان عن الزهري في رجل دخل مع قوم في الظهر وهي لهم العصر قال: يبدا بالذي بدا الله به يصلي الظهر ثم يصلي العصر.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) تكرر في [ب].
حدثنا وكيع، عن سفيان، عن جعفر بن برقان، عن الزهري في رجل دخل مع قوم في الظهر وهي لهم العصر، قال:" يبدا بالذي بدا الله به يصلي الظهر ثم يصلي العصر".
حضرت زہری اس شخص کے بارے میں جو ظہر کی نماز سمجھ کر کسی جماعت میں شریک ہو لیکن وہ لوگ عصر کی نماز پڑھ رہے ہوں، فرماتے ہیں کہ وہ پہلے وہ نماز پڑھے گا جسے اللہ نے پہلے رکھا ہے یعنی ظہر کی پھر عصر کی نماز پڑھے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4847]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4847، ترقيم محمد عوامة 4805)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 4806 ترقیم الشثری: -- 4848
٤٨٤٨ - حدثنا وكيع عن سفيان قال: بلغني عن طاوس وعطاء انهما قالا: تجزئه (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (يجزيه).
حدثنا وكيع، عن سفيان، قال: بلغني، عن طاوس، وعطاء انهما، قالا:" تجزئه"
حضرت طاوس اور حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اس طرح بھی اس کی نماز ہوجائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4848]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4848، ترقيم محمد عوامة 4806)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 4807 ترقیم الشثری: -- 4849
٤٨٤٩ - حدثنا محمد بن عبد الله (الاسدي) (١) عن إسرائيل عن جابر قال: سالت ابا جعفر وسالما والقاسم وعطاء عن رجل دخل مع قوم في العصر وهو يرى انها الظهر قالوا: ينصرف فيصلي الظهر وتجزئ عنه العصر قال: (و) (٢) سالت عامرا ومسلم بن صبيح فقالا: ينصرف فيصلي الظهر ثم يصلي العصر فإن الله قد كتبها عنده قبل العصر (فلا) (٣) تكون له الظهر.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [د، هـ]: (الآحدى).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [س، ط، هـ]: (ولا).

حدثنا محمد بن عبد الله الاسدي، عن إسرائيل، عن جابر، قال: سالت ابا جعفر، وسالما، والقاسم، وعطاء عن رجل دخل مع قوم في العصر وهو يرى انها الظهر، قالوا:" ينصرف فيصلي الظهر وتجزي عنه العصر"، قال: وسالت عامرا، ومسلم بن صبيح، فقالا: ينصرف فيصلي الظهر ثم يصلي العصر فإن الله قد كتبها عنده قبل العصر، فلا تكون له الظهر،
حضرت جابر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو جعفر، حضرت سالم، حضرت قاسم اور حضرت عطاء سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو ظہر کی نماز سمجھتے ہوئے کسی جماعت میں داخل ہو لیکن وہ لوگ عصر کی نماز پڑھ رہے ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ وہ سلام پھیرنے کے بعد ظہر کی نماز پڑھے گا البتہ اس کی عصر کی نماز ہوجائے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے اس بارے میں حضرت عامر، حضرت مسلم بن صبیح سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ فارغ ہو کر پہلے ظہر کی نماز پڑھے گا پھر عصر کی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ظہر کو عصر سے پہلے فرض کیا ہے۔ لہٰذا ظہر کی نماز عصر کے بعد نہیں ہوسکتی۔ حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت حماد اور حضرت ابراہیم کی بھی یہی رائے ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4849]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4849، ترقيم محمد عوامة 4807)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 4850
٤٨٥٠ - وقال جابر عن حماد عن إبراهيم مثل ذلك.
وقال جابر عن حماد عن إبراهيم مثل ذلك
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4850، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 4808 ترقیم الشثری: -- 4851
٤٨٥١ - ابو اسامة عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب والحسن قالا في رجل دخل (مع) (١) قوم في صلاة العصر وهو يحسبهم في صلاة الظهر فإذا هم في ⦗١٩⦘ العصر قال: يستقبل الصلاتين جميعا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (في).
حدثنا ابو اسامة، عن سعيد، عن قتادة، عن سعيد بن المسيب، والحسن، قالا: في رجل دخل مع قوم في صلاة العصر وهو يحسبهم في صلاة الظهر فإذا هم في العصر، قال:" يستقبل الصلاتين جميعا"
حضرت سعید بن مسیب اور حضرت حسن اس شخص کے بارے میں جو ظہر کی نماز سمجھتے ہوئے کسی جماعت میں شریک ہو اور لوگ عصر کی نماز پڑھ رہے ہوں، فرماتے ہیں کہ وہ دونوں نمازوں کو دوبارہ پڑھے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/سجود السهو والعمل في الصلاة/حدیث: 4851]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 4851، ترقيم محمد عوامة 4808)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں