صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
26. باب اسْتِحْبَابِ الذِّكْرِ بَعْدَ الصَّلاَةِ وَبَيَانِ صِفَتِهِ:
باب: نماز کے بعد کیا ذکر کرنا چاہئیے۔
ترقیم عبدالباقی: 594 ترقیم شاملہ: -- 1344
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ مَوْلًى لَهُمْ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، كَانَ يُهَلِّلُ، دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ، ثُمَّ يَقُولُ ابْنُ الزُّبَيْرِ ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُهَلِّلُ بِهِنَّ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ.
عبدہ بن سلیمان نے ہشام بن عروہ سے اور انہوں نے اپنے خاندان کے مولیٰ ابوزبیر سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہر نماز کے بعد بلند آواز سے پڑھتے تھے (آگے ابن نمیر کی روایت کے مانند ہے اور انہوں نے اپنی حدیث کے آخر میں کہا: پھر ابن زبیر کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد ان (کلمات) کو بلند آواز سے کہتے تھے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1344]
حضرت ابو زبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہر نماز کے بعد کلماتِ تہلیل کہتے تھے، جیسا کہ ابن نمیر کی روایت میں ہے اور آخر میں کہا، ابن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے بعد یہ کلمات کہتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1344]
ترقیم فوادعبدالباقی: 594
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 594 ترقیم شاملہ: -- 1345
وحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَخْطُبُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ، وَهُوَ يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا سَلَّمَ فِي دُبُرِ الصَّلَاةِ، أَوِ الصَّلَوَاتِ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ.
(ہشام کے بجائے) حجاج بن ابی عثمان نے مجھے حدیث بیان کی، کہا: مجھ سے ابوزبیر نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ اس منبر پر خطبہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز یا نمازوں کے آخر میں سلام پھیرنے کے بعد کہا کرتے تھے (آگے ہشام بن عروہ کی حدیث کی طرح بیان کیا۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1345]
حضرت ابو زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سنا ہے، وہ اس منبر پر خطبہ دیتے ہوئے بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد نماز ختم کرتے وقت ”(کلمات) کہا کرتے تھے“ اور ہشام بن عروہ کی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1345]
ترقیم فوادعبدالباقی: 594
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 594 ترقیم شاملہ: -- 1346
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، وَهُوَ يَقُولُ فِي إِثْرِ الصَّلَاةِ: إِذَا سَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا، وَقَالَ فِي آخِرِهِ، وَكَانَ يَذْكُرُ ذَلِكَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے کہ ابوزبیر مکی نے انہیں حدیث سنائی کہ انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سنا، جب وہ نماز کے بعد سلام پھیرتے تو کہتے (بقیہ روایت ان دونوں (ہشام اور حجاج) کی (مذکورہ بالا) روایت کے مانند ہے، اور آخر میں کہا: وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کرتے تھے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1346]
حضرت زبیر مکی رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ ہر نماز کے بعد جب سلام پھیرتے تو کلماتِ تہلیل کہتے تھے، جیسا کہ مذکورہ بالا روایت ہے، اور آخر میں کہا: ”وہ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1346]
ترقیم فوادعبدالباقی: 594
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 595 ترقیم شاملہ: -- 1347
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ كِلَاهُمَا، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَهَذَا حَدِيثُ قُتَيْبَةَ، أَنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ، أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَى، وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ، فَقَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالُوا: يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ، وَيَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ، وَيُعْتِقُونَ وَلَا نُعْتِقُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفَلَا أُعَلِّمُكُمْ شَيْئًا تُدْرِكُونَ بِهِ مَنْ سَبَقَكُمْ، وَتَسْبِقُونَ بِهِ مَنْ بَعْدَكُمْ، وَلَا يَكُونُ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِنْكُمْ، إِلَّا مَنْ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُمْ؟ " قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: " تُسَبِّحُونَ، وَتُكَبِّرُونَ، وَتَحْمَدُونَ، دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ، ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ مَرَّةً "، قَالَ أَبُو صَالِحٍ: فَرَجَعَ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ، إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: سَمِعَ إِخْوَانُنَا أَهْلُ الأَمْوَالِ بِمَا فَعَلْنَا، فَفَعَلُوا مِثْلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ، يُؤْتِهِ مَنْ يَشَاءُ، وَزَادَ غَيْرُ قُتَيْبَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، قَالَ: سُمَيٌّ، فَحَدَّثْتُ بَعْضَ أَهْلِي هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: وَهِمْتَ، إِنَّمَا قَالَ: " تُسَبِّحُ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدُ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرُ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ "، فَرَجَعْتُ إِلَى أَبِي صَالِحٍ، فَقُلْتُ لَهُ ذَلِكَ، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، اللَّهُ أَكْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، حَتَّى تَبْلُغَ مِنْ جَمِيعِهِنَّ ثَلَاثَةً وَثَلَاثِينَ، قَالَ ابْنُ عَجْلَانَ : فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ، رَجَاءَ بْنَ حَيْوَةَ ، فَحَدَّثَنِي بِمِثْلِهِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عاصم بن نضر تیمی نے کہا: ہمیں معتمر نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں عبیداللہ نے حدیث سنائی، نیز (ایک اور سند سے) قتیبہ بن سعید نے کہا: ہمیں لیث نے ابن عجلان سے حدیث سنائی، ان دونوں (عبیداللہ اور ابن عجلان) نے سمی سے، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی (یہ قتیبہ کی روایت کردہ حدیث ہے) کہ کچھ تنگدست مہاجر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گزارش کی: بلند درجے اور دائمی نعمت تو زیادہ مال والے لوگ لے گئے! آپ نے پوچھا: ”وہ کیسے؟“ انہوں نے کہا: وہ اسی طرح نمازیں پڑھتے ہیں جس طرح ہم پڑھتے ہیں، وہ اسی طرح روزے رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں اور وہ صدقہ کرتے ہیں جبکہ ہم صدقہ نہیں کر سکتے، وہ (بندھوں اور غلاموں کو) آزاد کرتے ہیں جبکہ ہم آزاد نہیں کر سکتے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کیا پھر میں تمہیں ایسی چیز نہ سکھاؤں جس سے تم ان لوگوں کو پالو گے جو تم سے سبقت لے گئے ہیں اور اس کے ذریعے سے ان سے بھی سبقت لے جاؤ گے جو تم سے بعد (آنے والے) ہیں؟ اور تم سے وہی افضل ہو گا جو تمہاری طرح عمل کرے گا۔“ انہوں نے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! (ضرور بتائیں۔) آپ نے فرمایا: ”تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ تسبیح، تکبیر اور تحمید (سبحان اللہ، اللہ اکبر، اور الحمد للہ) کا ورد کیا کرو۔“ ابوصالح نے کہا: فقرائے مہاجرین دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے: ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی جو ہم کرتے ہیں اس کے بارے میں سن لیا ہے اور اسی طرح عمل کرنا شروع کر دیا ہے (وہ بھی تسبیح، تکبیر اور تحمید کرنے لگے ہیں۔) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عنایت فرما دے۔“ قتیبہ کے علاوہ لیث سے ابن عجلان کے حوالے سے دیگر روایت کرنے والوں نے یہ اضافہ کیا کہ سمی نے کہا: میں نے یہ حدیث اپنے گھر کے ایک فرد کو سنائی تو انہوں نے کہا: تمہیں وہم ہوا ہے، انہوں (ابوصالح) نے تو کہا تھا: ”تینتیس مرتبہ سبحان اللہ کہو، تینتیس بار الحمد للہ کہو اور تینتیس بار اللہ اکبر کہو۔“ میں دوبارہ ابوصالح کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں یہ بتایا تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: اللہ اکبر، سبحان اللہ اور الحمد للہ، اللہ اکبر، سبحان اللہ اور الحمد للہ (اس طرح کہو) کہ سب کی تعداد تینتیس ہو جائے۔ ابن عجلان نے کہا: میں نے یہ حدیث رجاء بن حیوہ کو سنائی تو انہوں نے مجھے ابوصالح کے واسطے سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (روایت کرتے ہوئے) اسی کی مانند حدیث سنائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1347]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تنگدست مہاجرین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گزارش کی کہ مالدار بلند درجات اور سدا بہار نعمتیں لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیسے؟“ انہوں نے کہا: ”وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں، وہ روزے رکھتے ہیں جیسے ہم روزے رکھتے ہیں اور وہ صدقہ کرتے ہیں، ہم صدقہ نہیں کر سکتے، وہ (غلام) آزاد کرتے ہیں، ہم آزاد نہیں کر سکتے۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ سکھاؤں جس سے تم اپنے سے سبقت لے جانے والوں کو پہنچ جاؤ اور اس کے سبب اپنے بعد والوں سے سبقت لے جاؤ؟ اور تم سے کوئی افضل نہ ہو مگر وہ جو تمہاری طرح کا عمل کرے۔“ انہوں نے کہا: ”کیوں نہیں (ضرور بتلائیں) اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم تینتیس مرتبہ ہر نماز کے بعد «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“، «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ سب سے بڑا ہے“ اور «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ کہو۔“ ابوصالح رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ محتاج مہاجرین دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ”ہمارے مالدار بھائیوں نے ہمارے عمل کو سن کر ہماری طرح عمل شروع کر دیا ہے (وہ بھی تسبیح، تکبیر اور تحمید کرنے لگے ہیں)۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ﴿ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ﴾ [سورة المائدة: 54] (یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہے عنایت فرما دے)۔“ قتیبہ رحمہ اللہ کے سوا کسی اور نے لیث سے، ابن عجلان کے واسطہ سے سمی رحمہ اللہ سے بیان کیا (وہ کہتے ہیں) کہ میں نے یہ حدیث اپنے گھر کے کسی فرد کو سنائی تو اس نے کہا: ”تم بھول گئے ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا تھا کہ تینتیس مرتبہ «سُبْحَانَ اللّٰهِ» کہو، تینتیس بار «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» کہو اور تینتیس بار «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» کہو۔“ تو میں دوبارہ ابوصالح رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں یہ بتایا تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا: ” «اَللّٰهُ أَكْبَرُ، سُبْحَانَ اللّٰهِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ پاک ہے، تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ یعنی «اَللّٰهُ أَكْبَرُ، سُبْحَانَ اللّٰهِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» (کہتے جاؤ) یہاں تک کہ ان میں سے ہر ایک کی تعداد تینتیس ہو جائے۔“ ابن عجلان کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث رجاء بن حیوہ رحمہ اللہ کو سنائی تو انہوں نے مجھے اسی طرح ابوصالح کے واسطہ سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سنائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1347]
ترقیم فوادعبدالباقی: 595
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 595 ترقیم شاملہ: -- 1348
وحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالدَّرَجَاتِ الْعُلَى، وَالنَّعِيمِ الْمُقِيمِ، بِمِثْلِ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ، عَنِ اللَّيْثِ، إِلَّا أَنَّهُ أَدْرَجَ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَوْلَ أَبِي صَالِحٍ: ثُمَّ رَجَعَ فُقَرَاءُ المهاجرين 61، إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ، يَقُولُ سُهَيْلٌ: إِحْدَى عَشْرَةَ، إِحْدَى عَشْرَةَ، فَجَمِيعُ ذَلِكَ كُلِّهِ ثَلَاثَةٌ وَثَلَاثُونَ.
امیہ بن بسطام عیشی نے مجھے حدیث سنائی، کہا: ہمیں یزید بن زریع نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں روح نے سہیل سے حدیث سنائی، انہوں نے اپنے والد (ابوصالح) سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بلند مراتب اور دائمی نعمتیں تو زیادہ مال والے لوگ لے گئے (جس طرح لیث سے قتیبہ کی بیان کی ہوئی حدیث ہے، مگر انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ابوصالح کا یہ قول داخل کر دیا ہے کہ پھر فقراء مہاجرین لوٹ کر آئے، حدیث کے آخر تک۔ اور حدیث میں اس بات کا اضافہ کیا: سہیل کہتے تھے: (ہر کلمہ) گیارہ گیارہ دفعہ اور یہ سب ملا کر تینتیس بار (یہ سہیل کا اپنا فہم تھا۔)) [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1348]
سہیل اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! سرمایہ دار، بلند مراتب اور دائمی نعمتیں لے گئے“، جیسا کہ قتیبہ کی لیث سے روایت ہے، مگر اس نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ابو صالح کا یہ قول داخل کر دیا ہے کہ: ”پھر «فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ» ”فقراء مہاجرین“ لوٹ کر آئے“ آخر حدیث تک، اور حدیث میں یہ اضافہ کیا، سہیل نے کہا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ: ”کلمہ گیارہ گیارہ دفعہ اور یہ سب ملا کر مجموعی طور پر تینتیس بار۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1348]
ترقیم فوادعبدالباقی: 595
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 596 ترقیم شاملہ: -- 1349
وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَكَمَ بْنَ عُتَيْبَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مُعَقِّبَاتٌ، لَا يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ، أَوْ فَاعِلُهُنَّ، دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ، ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَسْبِيحَةً، وَثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَحْمِيدَةً، وَأَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ تَكْبِيرَةً ".
مالک بن مغول نے ہمیں خبر دی، کہا: میں نے حکم بن عتیبہ سے سنا، وہ عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”(نماز کے یا) ایک دوسرے کے پیچھے کہے جانے والے ایسے کلمات ہیں کہ ہر فرض نماز کے بعد انہیں کہنے والا (یا ان کو ادا کرنے والا) کبھی نامراد و ناکام نہیں رہتا: تینتیس بار سبحان اللہ، تینتیس بار الحمد للہ اور چونتیس بار اللہ اکبر۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1349]
حضرت عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنا کہ ”نماز کے پیچھے کہے جانے والے کلمات یہ ہیں کہ ان کو فرض نماز کے بعد کہنے والا یا ان کو بجا لانے والا (ہر فرض نماز کے بعد) نامراد و ناکام نہیں رہتا یا بلند درجات سے محروم نہیں رہتا: تینتیس بار «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ“، تینتیس بار «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد للہ“ اور چونتیس بار «اللّٰهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1349]
ترقیم فوادعبدالباقی: 596
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 596 ترقیم شاملہ: -- 1350
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْد الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مُعَقِّبَاتٌ، لَا يَخِيبُ قَائِلُهُنَّ أَوْ فَاعِلُهُنَّ، ثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَسْبِيحَةً وَثَلَاثٌ وَثَلَاثُونَ تَحْمِيدَةً، وَأَرْبَعٌ وَثَلَاثُونَ تَكْبِيرَةً، فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ".
حمزہ زیات نے ہمیں حکم سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے، انہوں نے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ”ایک دوسرے کے بعد کہے جانے والے (کچھ) کلمات ہیں، ان کو کہنے والا (یا ادا کرنے والا) ناکام یا نامراد نہیں رہتا۔ ہر (فرض) نماز کے بعد تینتیس دفعہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمد للہ اور چونتیس بار اللہ اکبر کہنا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1350]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کے بعد کہے جانے والے کلمات یہ ہیں، ہر نماز کے بعد ان کو کہنے والا یا ان کو بجالانے والا نامراد نہیں رہتا: تینتیس دفعہ تسبیح، تینتیس مرتبہ تحمید اور چونتیس بار تکبیر۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1350]
ترقیم فوادعبدالباقی: 596
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 596 ترقیم شاملہ: -- 1351
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلَائِيُّ ، عَنِ الْحَكَمِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
عمرو بن قیس ملائی نے حکم سے اسی سند کے ساتھ اسی کی مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1351]
”امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1351]
ترقیم فوادعبدالباقی: 596
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 597 ترقیم شاملہ: -- 1352
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ الْوَاسِطِيُّ ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ الْمَذْحِجِيِّ ، قَالَ مُسْلِم أَبُو عُبَيْدٍ مَوْلَى سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " مَنْ سَبَّحَ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَحَمِدَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَكَبَّرَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، فَتْلِكَ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ، وَقَالَ تَمَامَ الْمِائَةِ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، غُفِرَتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ ".
خالد بن عبداللہ نے ہمیں سہیل سے خبر دی، انہوں نے ابوعبید مذحجی سے روایت کی۔ امام مسلم نے کہا: ابوعبید سلیمان بن عبدالملک کے مولیٰ تھے۔ انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی: ”جس نے ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس دفعہ الحمد للہ اور تینتیس بار اللہ اکبر کہا، یہ ننانوے ہو گے اور سو پورا کرنے کے لیے «لا إلہ إلا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وہو علی کل شیء قدیر» کہا تو اس کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے، چاہے وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1352]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ «سُبْحَانَ اللهِ» تینتیس دفعہ «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» اور تینتیس بار «اللهُ أَكْبَرُ» کہا، یہ ننانوے ہو گئے اور سو پورا کرنے کے لیے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» کہا، اس کی لغزشیں اور قصور معاف کر دیے جائیں گے، خواہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1352]
ترقیم فوادعبدالباقی: 597
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 597 ترقیم شاملہ: -- 1353
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
اسماعیل بن زکریا نے سہیل سے، انہوں نے ابوعبید سے، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (آگے مذکورہ بالا روایت کے مانند روایت کی۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1353]
امام صاحب ایک اور استاد سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1353]
ترقیم فوادعبدالباقی: 597
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة