صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
12. باب اسْتِحْبَابِ الرَّكْعَتَيْنِ فِي الْمَسْجِدِ لِمَنْ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ أَوَّلَ قُدُومِهِ:
باب: مسافر کو پہلے مسجد میں آ کر دو رکعت پڑھنا مستحب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 1657
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَارِبٍ ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " اشْتَرَى مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا، فَلَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ، أَمَرَنِي أَنْ آتِيَ الْمَسْجِدَ، فَأُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ".
شعبہ نے محارب سے روایت کی، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک اونٹ خریدا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں مسجد میں آؤں اور دو رکعتیں پڑھوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1657]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک اونٹ خریدا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مسجد میں آنے کا حکم دیا اور یہ کہ میں دو رکعت نماز پڑھوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1657]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 715 ترقیم شاملہ: -- 1658
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، فَأَبْطَأَ بِي جَمَلِي وَأَعْيَا، ثُمَّ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلِي، وَقَدِمْتُ بِالْغَدَاةِ، فَجِئْتُ الْمَسْجِدَ فَوَجَدْتُهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، قَالَ: الْآنَ حِينَ قَدِمْتَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَدَعْ جَمَلَكَ، وَادْخُلْ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ، قَالَ: فَدَخَلْتُ فَصَلَّيْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ ".
وہب بن کیسان نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں ایک غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا، میرے اونٹ نے مجھے دیر کرا دی اور تھک گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے پہلے مدینہ میں آ گئے اور میں اگلے دن پہنچا، میں مسجد میں آیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد کے دروازے پر پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم اب اس وقت تک پہنچے ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا اونٹ چھوڑ دو اور مسجد میں داخل ہو کر دو رکعتیں پڑھو۔“ میں مسجد میں داخل ہوا، نماز پڑھی، پھر واپس (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) آیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1658]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک غزوہ میں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا، میرا اونٹ آہستہ آہستہ چلنے لگا اور تھک گیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مدینہ میں) مجھ سے پہلے آ گئے اور میں اگلے دن صبح آیا (کیونکہ وہ مدینہ سے باہر اپنے گھر ٹھہر گئے تھے) تو میں مسجد میں آیا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد کے دروازے پر ملا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم اب پہنچے ہو۔“ میں نے کہا، جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنا اونٹ چھوڑو اور مسجد میں داخل ہو کر دو رکعت نماز پڑھو۔“ میں نے مسجد میں داخل ہو کر دو رکعت نماز پڑھی اور پھر واپس چلا آیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1658]
ترقیم فوادعبدالباقی: 715
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 716 ترقیم شاملہ: -- 1659
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ . ح، وحَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا جَمِيعًا، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، وَعَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ لَا يَقْدَمُ مِنْ سَفَرٍ، إِلَّا نَهَارًا فِي الضُّحَى، فَإِذَا قَدِمَ، بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسَ فِيهِ ".
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن میں چاشت کے وقت کے سوا (کسی اور وقت) سفر سے واپس تشریف نہ لاتے، پھر جب تشریف لاتے تو مسجد جاتے، اس میں دو رکعتیں ادا کرتے، پھر (کچھ دیر) وہیں تشریف رکھتے (تاکہ گھر والوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا علم ہو جائے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1659]
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے دن کو چاشت کے وقت ہی واپس لوٹتے تھے تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آتے، مسجد سے آغاز فرماتے اس میں دو رکعت نماز ادا کرتے پھر وہیں تشریف رکھتے (تاکہ گھر والوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا علم ہو سکے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1659]
ترقیم فوادعبدالباقی: 716
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة