صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
12. باب استحباب الركعتين في المسجد لمن قدم من سفر اول قدومه:
باب: مسافر کو پہلے مسجد میں آ کر دو رکعت پڑھنا مستحب ہے۔
ترقیم عبدالباقی: 716 ترقیم شاملہ: -- 1659
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي أَبَا عَاصِمٍ . ح، وحَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَا جَمِيعًا، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، وَعَنْ عَمِّهِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ لَا يَقْدَمُ مِنْ سَفَرٍ، إِلَّا نَهَارًا فِي الضُّحَى، فَإِذَا قَدِمَ، بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ فَصَلَّى فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسَ فِيهِ ".
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دن میں چاشت کے وقت کے سوا (کسی اور وقت) سفر سے واپس تشریف نہ لاتے، پھر جب تشریف لاتے تو مسجد جاتے، اس میں دو رکعتیں ادا کرتے، پھر (کچھ دیر) وہیں تشریف رکھتے (تاکہ گھر والوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا علم ہو جائے)۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1659]
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے دن کو چاشت کے وقت ہی واپس لوٹتے تھے تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس آتے، مسجد سے آغاز فرماتے اس میں دو رکعت نماز ادا کرتے پھر وہیں تشریف رکھتے (تاکہ گھر والوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا علم ہو سکے)۔ [صحيح مسلم/كتاب صلاة المسافرين وقصرها/حدیث: 1659]
ترقیم فوادعبدالباقی: 716
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
1659
| لا يقدم من سفر إلا نهارا في الضحى فإذا قدم بدأ بالمسجد فصلى فيه ركعتين ثم جلس فيه |
سنن أبي داود |
2781
| لا يقدم من سفر إلا نهارا |
سنن أبي داود |
2773
| إذا قدم من سفر بدأ بالمسجد فركع فيه ركعتين ثم جلس للناس |
المعجم الصغير للطبراني |
316
| إذا قدم من سفر بدأ بالمسجد فصلى فيه ركعتين ثم دخل منزله |
صحیح مسلم کی حدیث نمبر 1659 کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1659
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
(1)
ان احادیث سے معلوم ہوا سفر سے واپسی کے بعد اپنے گھر جانے سے پہلے اللہ کے گھر میں حاضر ہونا چاہیے تاکہ اپنے گھر والوں کی ملاقات سے پہلے اللہ تعالیٰ کے حضور ہدیہ عبودیت پیش کیا جا سکے۔
(2)
اگر کوئی انسان لوگوں کی عقیدت و محبت کا مرکز ہو اور لوگ اس کی ملاقات وزیارت کے مشتاق ہوں تو اسے چاہیے کہ وہ سفر سے واپسی پر تَحِیَّةُ الْمَسْجِد ادا کرنے کے بعد کچھ دیر کے لیے مسجد میں بیٹھ جائے تاکہ لوگ آسانی کے ساتھ اس سے ملاقات کی سعادت حاصل کر سکیں۔
(3)
اس لئے گھر واپسی ایسے وقت میں ہونی چاہیے جو ان کے علم میں ہو اور ان کے لیے دقت و کلفت کا باعث نہ ہو اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپسی میں آخری منزل عموماً مدینہ طیبہ کے قریب ہی کرتے تھے جس کی وجہ سے مدینہ طیبہ میں یہ اطلاع ہو جاتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کل صبح تشریف لانے والے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس منزل سے صبح جلد روانہ ہو کر چاشت کے وقت مدینہ منورہ پہنچ جاتے اور سب سے پہلے مسجد میں تشریف لاتے تاکہ گھر والوں کو آمد کا علم ہو جائے۔
فوائد ومسائل:
(1)
ان احادیث سے معلوم ہوا سفر سے واپسی کے بعد اپنے گھر جانے سے پہلے اللہ کے گھر میں حاضر ہونا چاہیے تاکہ اپنے گھر والوں کی ملاقات سے پہلے اللہ تعالیٰ کے حضور ہدیہ عبودیت پیش کیا جا سکے۔
(2)
اگر کوئی انسان لوگوں کی عقیدت و محبت کا مرکز ہو اور لوگ اس کی ملاقات وزیارت کے مشتاق ہوں تو اسے چاہیے کہ وہ سفر سے واپسی پر تَحِیَّةُ الْمَسْجِد ادا کرنے کے بعد کچھ دیر کے لیے مسجد میں بیٹھ جائے تاکہ لوگ آسانی کے ساتھ اس سے ملاقات کی سعادت حاصل کر سکیں۔
(3)
اس لئے گھر واپسی ایسے وقت میں ہونی چاہیے جو ان کے علم میں ہو اور ان کے لیے دقت و کلفت کا باعث نہ ہو اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپسی میں آخری منزل عموماً مدینہ طیبہ کے قریب ہی کرتے تھے جس کی وجہ سے مدینہ طیبہ میں یہ اطلاع ہو جاتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کل صبح تشریف لانے والے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس منزل سے صبح جلد روانہ ہو کر چاشت کے وقت مدینہ منورہ پہنچ جاتے اور سب سے پہلے مسجد میں تشریف لاتے تاکہ گھر والوں کو آمد کا علم ہو جائے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1659]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 2773
خوشخبری لانے والے کو انعام دینے کا بیان۔
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے آتے تو پہلے مسجد میں جاتے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے، پھر لوگوں سے ملاقات کے لیے بیٹھتے (اس کے بعد ابن السرح نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم تینوں ۱؎ سے بات کرنے سے منع فرما دیا، یہاں تک کہ مجھ پر جب ایک لمبا عرصہ گزر گیا تو میں اپنے چچا زاد بھائی ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے باغ میں دیوار پھاند کر گیا، میں نے ان کو سلام کیا، اللہ کی قسم انہوں نے جواب تک نہیں دیا، پھر میں نے اپنے گھر کی چھت پر پچاسویں دن کی نماز فجر پڑھی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2773]
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے آتے تو پہلے مسجد میں جاتے اور اس میں دو رکعت نماز پڑھتے، پھر لوگوں سے ملاقات کے لیے بیٹھتے (اس کے بعد ابن السرح نے پوری حدیث بیان کی، اس میں ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم تینوں ۱؎ سے بات کرنے سے منع فرما دیا، یہاں تک کہ مجھ پر جب ایک لمبا عرصہ گزر گیا تو میں اپنے چچا زاد بھائی ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے باغ میں دیوار پھاند کر گیا، میں نے ان کو سلام کیا، اللہ کی قسم انہوں نے جواب تک نہیں دیا، پھر میں نے اپنے گھر کی چھت پر پچاسویں دن کی نماز فجر پڑھی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2773]
فوائد ومسائل:
1۔
یہ غزوہ تبوک میں حضرت کعب بن ماک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی غیر حاضری پر ان کے بائکاٹ سے متعلق واقعہ ہے۔
جو فتح مکہ کے بعد سن 9 ہجری میں پیش آیا تھا۔
اور یہی وہ غزوہ ہے۔
جو اس دور کے تمام مسلمانوں پر بالمعوم فرض عین ہوا تھا۔
مگر مخلص مسلمانوں میں سے تین افراد بغیر کسی معقول عذر کے پیچھے رہ گئے یعنی کعب بن مالک سربراہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے۔
تو انہوں نے بصراحت اقرار کیا۔
کہ ہمارے پیچھے رہ جانے میں کوئی شرعی عذر نہ تھا۔
چنانچہ آپ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ ان سے مقاطعہ کرلیں۔
چالیس دن کے بعد حکم آیا کہ یہ اپنی عورتوں سے بھی الگ رہیں۔
پچاس دن پورے ہونے پر توبہ قبول کی گئی۔
او ر یہ آیت نازل ہوئی۔
(وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّىٰ إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَن لَّا مَلْجَأَ مِنَ اللَّـهِ إِلَّا إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوا ۚ إِنَّ اللَّـهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ) (التوبة۔
118) اور اللہ نے ان تین آدمیوں کی توبہ قبول فرما لی۔
جن کا معاملہ موخر کیا گیا تھا۔
یہا ں تک کہ جب زمین باوجود اپنی کشادگی کے ان پر تنگ ہوگئی۔
اورخود ان کی جان بھی ان پر تنگ ہوگئی۔
اور انہوں نے یقین کرلیا کہ اللہ کے سوائے ان کےلئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔
پھر اللہ نے ان پر رجوع فرمایا تاکہ وہ توبہ کرلیں۔
بلاشبہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا بہت مہربان ہے۔
2۔
جو شخص خوشخبری پہنچائے اسے ہدیہ دینا مستحب ہے۔
1۔
یہ غزوہ تبوک میں حضرت کعب بن ماک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی غیر حاضری پر ان کے بائکاٹ سے متعلق واقعہ ہے۔
جو فتح مکہ کے بعد سن 9 ہجری میں پیش آیا تھا۔
اور یہی وہ غزوہ ہے۔
جو اس دور کے تمام مسلمانوں پر بالمعوم فرض عین ہوا تھا۔
مگر مخلص مسلمانوں میں سے تین افراد بغیر کسی معقول عذر کے پیچھے رہ گئے یعنی کعب بن مالک سربراہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے۔
تو انہوں نے بصراحت اقرار کیا۔
کہ ہمارے پیچھے رہ جانے میں کوئی شرعی عذر نہ تھا۔
چنانچہ آپ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ ان سے مقاطعہ کرلیں۔
چالیس دن کے بعد حکم آیا کہ یہ اپنی عورتوں سے بھی الگ رہیں۔
پچاس دن پورے ہونے پر توبہ قبول کی گئی۔
او ر یہ آیت نازل ہوئی۔
(وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّىٰ إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَن لَّا مَلْجَأَ مِنَ اللَّـهِ إِلَّا إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوا ۚ إِنَّ اللَّـهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ) (التوبة۔
118) اور اللہ نے ان تین آدمیوں کی توبہ قبول فرما لی۔
جن کا معاملہ موخر کیا گیا تھا۔
یہا ں تک کہ جب زمین باوجود اپنی کشادگی کے ان پر تنگ ہوگئی۔
اورخود ان کی جان بھی ان پر تنگ ہوگئی۔
اور انہوں نے یقین کرلیا کہ اللہ کے سوائے ان کےلئے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔
پھر اللہ نے ان پر رجوع فرمایا تاکہ وہ توبہ کرلیں۔
بلاشبہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا بہت مہربان ہے۔
2۔
جو شخص خوشخبری پہنچائے اسے ہدیہ دینا مستحب ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2773]
عبيد الله بن كعب الأنصاري ← كعب بن مالك الأنصاري