صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
26. باب الدُّعَاءِ فِي صَلاَةِ اللَّيْلِ وَقِيَامِهِ:
باب: نماز اور دعائے شب۔
ترقیم عبدالباقی: 769 ترقیم شاملہ: -- 1808
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يَقُولُ: " إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ: اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيَّامُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ رَبُّ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ، وَمَنْ فِيهِنَّ أَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَقَوْلُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَأَخَّرْتُ وَأَسْرَرْتُ وَأَعْلَنْتُ، أَنْتَ إِلَهِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ "،
امام مالک نے ابوزہیر سے، انہوں نے طاؤس سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کی آخری تہائی میں نماز کے لیے اٹھتے تو فرماتے: ”اے اللہ! تمام تعریف تیرے ہی لیے ہے، تو آسمانوں اور زمین کا نور ہے اور تیرے ہی لیے حمد ہے، تو آسمانوں اور زمین کو قائم رکھنے والا ہے اور تیرے ہی لیے حمد ہے، تو آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان میں ہے اس کا پالنے والا ہے۔ اور تو برحق ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے اور تیرا قول اٹل ہے اور تیرے ساتھ ملاقات قطعی ہے اور جنت حق ہے اور جہنم حق ہے اور قیامت حق ہے۔ اے اللہ! میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کر دیا اور میں تجھ پر ایمان لایا اور میں نے تجھ پر توکل اور بھروسہ کیا اور تیری طرف رجوع کیا اور تیری توفیق سے (تیرے منکروں سے) جھگڑا کیا اور تیرے ہی حضور فیصلہ لایا (تجھے ہی حاکم تسلیم کیا) تو بخش دے وہ گناہ جو میں نے پہلے کیے اور جو بعد میں کیے اور جو چھپ کر کیے اور جو ظاہراً کیے، تو ہی میرا معبود ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1808]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آدھی رات کو نماز کے لیے اٹھتے تو فرماتے: ”اے اللہ! تو ہی حمد کا حقدار ہے، تو ہی آسمانوں اور زمین کا نور ہے، اور تو ہی شکر کا مستحق ہے، تو آسمانوں اور زمین کا نگران ہے اور تیرے ہی لیے حمد ہے، تو آسمانوں اور زمین کا (اور جو کچھ ان میں ہے) ان کا مالک ہے، اور تو برحق ہے، اور تیرا وعدہ شدنی ہے، اور تیرا قول اٹل ہے، اور تیری ملاقات قطعی ہے، اور جنت موجود ہے، اور آگ موجود ہے، اور قیامت واقع ہو کر رہے گی، اے اللہ! میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کر دیا، اور تجھ ہی پر میں ایمان لایا، اور تجھ ہی پر میں نے اعتماد اور بھروسہ کیا، اور تیری ہی طرف رجوع کیا، اور تیری ہی توفیق سے تیرے منکروں سے جھگڑا کیا، اور تیرے ہی حضور میں فیصلہ لایا، یعنی تجھے ہی حکم تسلیم کیا، تو میرے اگلے پچھلے، چھپے اور کھلے گناہ بخش دے، تو ہی میرا الٰہ ہے، تیرے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1808]
ترقیم فوادعبدالباقی: 769
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 769 ترقیم شاملہ: -- 1809
حَدَّثَنَا وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وابن أبي عمر ، عَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ كِلَاهُمَا، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ جُرَيْجٍ، فَاتَّفَقَ لَفْظُهُ مَعَ حَدِيثِ مَالِكٍ، لَمْ يَخْتَلِفَا إِلَّا فِي حَرْفَيْنِ، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: مَكَانَ قَيَّامُ، قَيِّمُ، وَقَالَ: وَمَا أَسْرَرْتُ، وَأَمَّا حَدِيثُ ابْنِ عُيَيْنَةَ، فَفِيهِ بَعْضُ زِيَادَةٍ، وَيُخَالِفُ مَالِكًا، وَابْنَ جُرَيْجٍ فِي أَحْرُفٍ.
سفیان اور ابن جریج دونوں نے سلیمان احول سے، انہوں نے طاؤس سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ ابن جریج اور امام مالک کی (گزشتہ) حدیث کے الفاظ ایک جیسے ہیں، دو جملوں کے سوا کوئی اختلاف نہیں، ابن جریج نے قیام کے بجائے قیم کہا (معنی ایک ہیں) اور واسررت کی جگہ وما اسررت کہا۔ (سفیان) ابن عیینہ کی حدیث میں کچھ اضافہ ہے، وہ متعدد جملوں میں امام مالک اور ابن جریج سے اختلاف کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1809]
”یہی روایات امام مالک رحمہ اللہ کی طرح ابن جریج اور ابن عیینہ نے بھی بیان کی ہیں، ابن جریج اور امام مالک رحمہ اللہ کی حدیث کے الفاظ یکساں ہیں، صرف دو لفظوں میں اختلاف ہے، ابن جریج نے «قَيَّامُ» کی بجائے «قَيِّمُ» کہا اور «وَاَسْرَرْتُ» کی جگہ «وَمَا اَسْرَرْتُ» کہا۔ ابن عیینہ کی روایت میں کچھ اضافہ ہے، اور بعض کلمات میں امام مالک رحمہ اللہ اور ابن جریج کی مخالفت ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1809]
ترقیم فوادعبدالباقی: 769
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 769 ترقیم شاملہ: -- 1810
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ وَهُوَ ابْنُ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَصِيرُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ وَاللَّفْظُ قَرِيبٌ مِنْ أَلْفَاظِهِمْ.
قیس بن سعد نے طاؤس سے، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی۔ (اس حدیث کے راوی عمران القصیر کے) الفاظ ان (امام مالک، سفیان، ابن جریج) کے الفاظ سے ملتے جلتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1810]
امام صاحب رحمہ اللہ نے ایک دوسری سند سے بھی مذکورہ بالا روایت سے ملتی جلتی روایت بیان کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1810]
ترقیم فوادعبدالباقی: 769
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 770 ترقیم شاملہ: -- 1811
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، وأبو معن الرقاشي ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْتَتِحُ صَلَاتَهُ، إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ؟ قَالَتْ: كَانَ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ افْتَتَحَ صَلَاتَهُ " اللَّهُمَّ رَبَّ جَبْرَائِيلَ، وَمِيكَائِيلَ، وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے کہا: میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو نماز کے لیے اٹھتے تھے تو کس چیز کے ساتھ نماز کا آغاز کرتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: جب آپ رات کو اٹھتے تو نماز کا آغاز (اس دعا سے) کرتے: ”اے اللہ! جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب! آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمانے والے! پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والے! تیرے بندے جن باتوں میں اختلاف کرتے تھے تو ہی ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا، جن باتوں میں اختلاف کیا گیا ہے تو ہی اپنے حکم سے مجھے ان میں سے جو حق ہے اس پر چلا، بے شک تو ہی جسے چاہے سیدھی راہ پر چلاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1811]
ابو سلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں، میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو نماز کے لیے اٹھتے تھے تو نماز کا آغاز کون سے کلمات سے کرتے تھے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو قیام کرتے تو نماز کا آغاز اس دعا سے کرتے: «اللَّهُمَّ رَبَّ جِبْرَائِيلَ وَمِيكَائِيلَ وَإِسْرَافِيلَ، فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ، إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ» ”اے اللہ! جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب! آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمانے والے! پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والے! تیرے بندے جن باتوں میں اختلاف کر رہے ہیں تو ہی ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ جن باتوں میں اختلاف کیا گیا ہے، تو اپنی توفیق سے مجھے ان میں سے حق کی طرف رہنمائی فرما، بے شک تو ہی جسے چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے۔““ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1811]
ترقیم فوادعبدالباقی: 770
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 771 ترقیم شاملہ: -- 1812
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْمَاجِشُونُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: " وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي، وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي، لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الأَخْلَاقِ، لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا، لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، أَنَا بِكَ، وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ، وَإِذَا رَكَعَ، قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي، وَبَصَرِي، وَمُخِّي، وَعَظْمِي، وَعَصَبِي، وَإِذَا رَفَعَ، قَالَ: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، مِلْءَ السَّمَاوَاتِ، وَمِلْءَ الأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، وَإِذَا سَجَدَ، قَالَ: اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ، ثُمَّ يَكُونُ مِنْ آخِرِ مَا يَقُولُ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ، وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ "،
یوسف ماجثون نے کہا: مجھ سے میرے والد (یعقوب بن ابی سلمہ ماجثون) نے عبدالرحمان اعرج سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبیداللہ بن ابی رافع سے، انہوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو فرماتے: ”میں نے اپنا رخ اس ذات کی طرف کر دیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا، ہر طرف سے یکسو ہو کر، اور میں اس کے ساتھ شریک ٹھہرانے والوں میں سے نہیں، میری نماز اور میری ہر (بدنی و مالی) عبادت اور میرا جینا اور میرا مرنا اللہ کے لیے ہے جو کائنات کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور اسی کا مجھے حکم ملا ہے اور میں فرمانبرداری کرنے والوں میں سے ہوں۔ اے اللہ! تو ہی بادشاہ ہے، تیرے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں، تو میرا رب ہے، میں تیرا بندہ ہوں اور میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور اپنے گناہ کا اعتراف کیا ہے، اس لیے میرے سارے گناہ بخش دے کیونکہ گناہوں کو بخشنے والا تیرے سوا کوئی نہیں، اور میری بہترین اخلاق کی طرف راہنمائی فرما، تیرے سوا بہترین اخلاق کی راہ پر چلانے والا کوئی نہیں، اور برے اخلاق مجھ سے ہٹا دے، تیرے سوا برے اخلاق کو مجھ سے دور کرنے والا کوئی نہیں، میں تیرے حضور حاضر ہوں اور دونوں جہانوں کی سعادتیں تجھ سے ہیں، ہر طرح کی بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے اور برائی کا تیری طرف کوئی گزر نہیں ہے، میں تیرے ہی سہارے ہوں، اور تیری ہی طرف میرا رخ ہے، تو برکت والا، رفعت والا اور بلندی والا ہے، میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں۔“ اور جب آپ رکوع کرتے تو فرماتے: ”اے اللہ! میں تیرے سامنے جھکا ہوا ہوں اور میں تجھ ہی پر ایمان لایا ہوں، اپنے آپ کو تیرے ہی سپرد کر دیا ہے، میرے کان اور میری آنکھیں اور میرا مغز اور میری ہڈیاں اور میری رگیں اور میرے پٹھے تیرے ہی حضور جھکے ہوئے ہیں۔“ اور جب رکوع سے اٹھتے تو کہتے: ”اے اللہ! ہمارے رب، تیرے ہی لیے حمد ہے جس سے آسمانوں اور زمین کی وسعتیں بھر جائیں اور اس کے بعد جو تو چاہے اس کی وسعتیں بھر جائیں۔“ اور جب آپ سجدہ کرتے تو کہتے: ”اے اللہ! میں نے تیرے ہی حضور سجدہ کیا اور تجھ ہی پر ایمان لایا اور اپنے آپ کو تیرے ہی حوالے کیا، میرا چہرہ اس ذات کے سامنے سجدہ ریز ہے جس نے اسے پیدا کیا، اس کی صورت گری کی اور اس کے کان اور اس کی آنکھیں تراشیں، برکت والا ہے اللہ جو بہترین خالق ہے۔“ پھر تشہد اور سلام کے درمیان میں یہ دعا پڑھتے: ”اے اللہ! بخش دے جو خطائیں میں نے پہلے کیں یا بعد میں کیں اور چھپا کر کیں یا علانیہ کیں اور جو بھی زیادتی میں نے کی اور جس کا مجھ سے زیادہ تمہیں علم ہے (اطاعت اور خیر میں) تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تیرے سوا کوئی عبادت کا حقدار نہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1812]
حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو یہ دعا پڑھتے: ”میں نے اپنا چہرہ ہر طرف سے یکسو ہو کر، اس ذات کی طرف کر دیا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا ﴿إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ [سورة الأنعام: 79] ، اور میں ان لوگوں میں سے نہیں ہوں، جو اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں، میری نماز اور میری قربانی یا میرا ہر دینی عمل اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے، جو کائنات کا آقا و مالک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اس کا حکم ملا ہے اور میں فرمانبرداری کرنے والوں میں سے ہوں ﴿قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] ۔ «اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ”اے اللہ! تو ہی بادشاہ اور مالک ہے، تیرے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں ہے، تو میرا مالک و آقا ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا، اور میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں، پس میرے سارے گناہوں کو بخش دے کیونکہ تیرے سوا گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں، اور میری بہترین اخلاق کی طرف رہنمائی فرما، تیرے سوا بہترین اخلاق کی طرف رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں، اور برے اخلاق میری طرف سے پھیر دے، تیرے سوا مجھ سے برے اخلاق کو دور کرنے والا کوئی نہیں، تیرے حضور حاضر ہوں اور تیری خدمت و اطاعت کے لیے تیار ہوں، ہر قسم کی خیر و بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے اور برائی کا تیری طرف گزر نہیں ہے، مجھے تیرا ہی سہارا ہے، اور تیری ہی طرف میرا رخ ہے، تو برکت والا اور رفعت و بلندی والا ہے، میں تجھ سے بخشش کا سائل ہوں اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں“۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو فرماتے: «اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، خَشَعَ لَكَ سَمْعِي، وَبَصَرِي، وَمُخِّي، وَعَظْمِي، وَعَصَبِي» ”اے اللہ! میں تیرے حضور جھکا ہوا ہوں اور میں تجھ پر ایمان لایا ہوں، اور میں نے اپنے آپ کو تیرے ہی سپرد کر دیا ہے، میرے کان اور میری آنکھیں اور میرا مغز اور میری ہڈیاں اور میرے رگ و پٹھے تیرے ہی حضور جھکے ہوئے ہیں“۔ اور جب رکوع سے اٹھتے تو دعا کرتے: «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ، وَمِلْءَ الْأَرْضِ، وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا، وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» ”اے اللہ! ہمارے رب، تیرے ہی لیے حمد ہے، (ایسی وسیع اور بے انتہا) جس سے آسمانوں کی وسعتیں بھر جائیں اور زمین کی وسعتیں بھر جائیں اور جو کچھ ان کے درمیان ہے یعنی درمیان کا سارا خلا پُر ہو جائے اور ان کے سوا تو جو چاہے وہ بھر جائے“۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو کہتے: «اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَلَكَ أَسْلَمْتُ، سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ، وَصَوَّرَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ، تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ» ”اے اللہ! میں تیرے حضور سجدہ ریز ہوں اور میں تجھ پر ہی ایمان لایا اور اپنے آپ کو تیرے ہی حوالے کیا، میرا چہرہ اس ذات کے سامنے سجدہ کرتا ہے جس نے اسے پیدا کیا، اور اس کی شکل و صورت بنائی اور اس کے کان اور اس کی آنکھیں تراشیں، اور برکت والا ہے اللہ، بہترین خالق“۔ پھر تشہد اور سلام کے درمیان آخر میں یہ دعا پڑھتے: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَسْرَفْتُ، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» ”اے اللہ! جو خطائیں میں نے پہلے کیں یا بعد میں کیں اور چھپ کر کیں یا علانیہ کیں، اور جو بھی زیادتی میں نے کی اور جس کا تجھے مجھ سے زیادہ علم ہے، سب معاف کر دے، مجھے بخش؛ تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے، اور تیرے سوا معبود کوئی نہیں ہے“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1812]
ترقیم فوادعبدالباقی: 771
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 771 ترقیم شاملہ: -- 1813
وحَدَّثَنَاه زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَمِّهِ الْمَاجِشُونِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ، ثُمَّ قَالَ: وَجَّهْتُ وَجْهِي، وَقَالَ: وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ، وَقَالَ: وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَقَالَ: وَصَوَّرَهُ فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ، وَقَالَ: وَإِذَا سَلَّمَ، قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ، إِلَى آخِرِ الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَقُلْ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ.
عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ نے اپنے چچا الماجثون (یعقوب بن ابی سلمہ) سے اور انہوں نے (عبدالرحمان) اعرج سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز فرماتے تو اللہ اکبر کہتے، پھر دعا پڑھتے: ”وجہت وجهي“ اس میں (کے بجائے) ”أنا من المسلمين“ اور ”میں اطاعت و فرمانبرداری میں اولین (مقام پر فائز) ہوں“ کے الفاظ ہیں اور کہا: جب آپ رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو ”سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولك الحمد“ کہتے اور صورہ (اس کی صورت گری کی) کے بعد ”فأحسن صورها“ (اس کو بہترین شکل و صورت عنایت فرمائی) کے الفاظ کہے اور کہا: جب سلام پھیرتے تو کہتے: ”اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ“ ”اے اللہ! بخش دے جو میں نے پہلے کیا۔“ حدیث کے آخر تک اور انہوں نے ”تشہد اور سلام پھیرنے کے درمیان“ کے الفاظ نہیں کہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1813]
امام صاحب یہی روایت دوسرے استاد کے واسطہ سے بیان کرتے ہیں، اس میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز کرتے تو «اللّٰهُ أَكْبَرُ» کہنے کے بعد «وَجَّهْتُ وَجْهِيَ» دعا پڑھتے، اور اس میں «أَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ» کی بجائے «أَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ» ”میں سب سے پہلے اطاعت گزار ہوں اور میں اطاعت و فرمانبرداری میں پہلے مقام و مرتبہ پر فائز ہوں“ ہے، اور اس میں ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے اپنا سر اٹھاتے تو «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہتے اور «صَوَّرَهُ» کے بعد «فَأَحْسَنَ صُوَرَهُ» ”اس کو بہترین شکل و صورت عنایت فرمائی“ کے الفاظ ہیں، اور اس میں ہے کہ «اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ» والی دعا سلام پھیرنے کے بعد پڑھتے، تشہد اور سلام پھیرنے کے درمیان کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1813]
ترقیم فوادعبدالباقی: 771
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة