مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
41. ما قالوا في زكاة الرجل يخرج الطعام من أرضه فيزكيه
اس شخص کی زکوٰۃ کے بارے میں کہ جو اپنی زمین سے اناج نکال لینے کے بعد زکوٰۃ ادا کر دیتا ہے کہ فقہاء اس کے بارے میں کیا فرماتے ہیں
ترقیم عوامۃ: 10204 ترقیم الشثری: -- 10388
١٠٣٨٨ - حدثنا ابو بكر قال: ثنا ابن (المبارك) (١) عن معمر عن ابن طاوس عن ابيه انه كان يخرج له الطعام من ارضه فيزكيه، ثم (يمكث) (٢) عنده السنتين والثلاث فلا يزكيه وهو يريد ان يبيعه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (مبارك).
(٢) في [ب]: (مكث).
حدثنا ابو بكر، قال ثنا ابن مبارك، عن معمر، عن ابن طاوس، عن ابيه:" انه كان يخرج له الطعام من ارضه فيزكيه ثم يمكث عنده السنتين والثلاث فلا يزكيه، وهو يريد ان يبيعه"
حضرت ابن طاوس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ زمین کی کھیتی جب نکالی جاتی تو وہ اس میں سے زکوٰۃ ادا کردیتے پھر اس کے بعد دو تین سال تک اسکو فروخت کرنے کے ارادے سے زکوٰۃ نہ نکالتے بلکہ ٹھہرے رہتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10388]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10388، ترقيم محمد عوامة 10204)
ترقیم عوامۃ: 10205 ترقیم الشثری: -- 10389
١٠٣٨٩ - حدثنا ابن مبارك عن ابن لهيعة قال: حدثني عبد الله بن ابي جعفر (ان) (١) (عمر بن عبد العزيز كتب: إذا اخذ) (٢) من الزرع العشر فليس فيه زكاة، (و) (٣) إن مكث عشر سنين.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (بن).
(٢) في [ح]: بياض.
(٣) في [ح، ك، ص، ز] زيادة: (و).
حدثنا ابن مبارك، عن ابن لهيعة، قال: حدثني عبد الله بن ابي جعفر، ان عمر بن عبد العزيز، كتب: " إذا اخذ من الزرع العشر فليس فيه زكاة وإن مكث عشر سنين"
حضرت عبد اللہ بن ابی جعفر سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے (زکوٰۃ وصول کرنے والوں کو) لکھا جب کھیتی سے عشر وصول کرلیا جائے تو پھر اس پر زکوٰۃ نہیں ہے اگرچہ وہ دس سال تک ٹھہری رہے (باقی رہے)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10389]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10389، ترقيم محمد عوامة 10205)
ترقیم عوامۃ: 10206 ترقیم الشثری: -- 10390
١٠٣٩٠ - حدثنا عبد السلام عن يونس عن الحسن قال: إذا اخرج صدقة الزرع والتمر وكل شيء انبتت الارض، فليس فيه زكاة حتى يحول (عليه) (١) الحول.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ك]: (عنه).
حدثنا عبد السلام، عن يونس، عن الحسن، قال: " إذا اخرج صدقة الزرع والتمر وكل شيء انبتت الارض فليس فيه زكاة حتى يحول عليه الحول"
حضرت حسن فرماتے ہیں کہ جب کھیتی، کھجور اور ہر وہ چیز جو زمین اگاتی ہے اس پر عشر وصول کرلیا جائے تو پھر اس پر زکوٰۃ نہیں ہے یہاں تک کہ اس پر سال گذر جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10390]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10390، ترقيم محمد عوامة 10206)
ترقیم عوامۃ: 10207 ترقیم الشثری: -- 10391
١٠٣٩١ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن (جريج) (١) قال: قلت لعطاء: طعام امسكه اريد اكله، فيحول عليه الحول، قال: ليس عليك فيه صدقة، لعمري إنا لنفعل ذلك، نبتاع الطعام (وما) (٢) (نزكيه) (٣) ، (فإن) (٤) كنت تريد بيعه فزكه إذا (بعته) (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (جريح).
(٢) في [ص]: (فما) وكذلك [ز].
(٣) في [أ، ص]: (تزكيه) وفي [ب]: (يزكيه).
(٤) في [ص، ز]: (وإن).
(٥) في [ص]: (بعثه).
حدثنا محمد بن بكر، عن ابن جريج، قال: قلت لعطاء: طعام امسكه اريد اكله فيحول عليه الحول , قال:" ليس عليك فيه صدقة، لعمري إنا لنفعل ذلك نبتاع الطعام وما نزكيه فإن كنت تريد بيعه فزكه إذا بعته"
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ: ہم کھانا اپنے پاس جمع رکھتے ہیں کھانے کی نیت سے اس پر سال گذر جاتا ہے (اس کا کیا حکم ہے)؟ آپ نے فرمایا اس کا آپ پر زکوٰۃ نہیں ہے پھر فرمایا میری زندگی کی قسم ہم لوگ اس طرح کرتے ہیں کہ کھانا خریدتے ہیں اور اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے، جب آپ کھانا فروخت کرنے کی نیت سے خریدو تو اس پر زکوٰۃ ادا کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10391]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10391، ترقيم محمد عوامة 10207)
ترقیم عوامۃ: 10208 ترقیم الشثری: -- 10392
١٠٣٩٢ - حدثنا محمد بن بكر عن ابن (جريج) (١) قال: قال لي عبد الكريم في الحرث: إذا اعطيت زكاته (اول مرة) (٢) فحال عليه (الحول) (٣) عندك فلا ⦗٢٣٤⦘ تزكه، (حسبك) (٤) الاولى.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ص]: (جريح).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [أ، ب، ح، ز، ك]: (حولًا).
(٤) في [ص]: (حبسك).
حدثنا محمد بن بكر، عن ابن جريج، قال: قال لي عبد الكريم:" في الحرث إذا اعطيت زكاته اول مرة فحال عليه الحول عندك فلا تزكه حسبك الاولى"
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ مجھے عبد الکریم نے فرمایا: جب تم کھیتی کی زکوٰۃ ایک بار ادا کردو پھر تمہارے پاس پڑی پڑی اس پر سال گذر جائے تو اس پر دوبارہ زکوٰۃ ادا مت کرنا بلکہ وہ پہلی زکوٰۃ ہی آپ کیلئے کافی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10392]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10392، ترقيم محمد عوامة 10208)