مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
123. من كره المسألة ونهى عنها (وشدد) فيها
سوال کرنے کی ممانعت اور اس پر وعید اور تشدید
ترقیم عوامۃ: 10781 ترقیم الشثری: -- 10986
١٠٩٨٦ - حدثنا محمد بن بشر والفضل بن دكين عن مسعر عن عبيد بن الحسن عن ابن (معقل) (١) قال: من سال تكثرا جاء يوم القيامة وفي وجهه خموش.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، ص]: (مغفل).
حدثنا محمد بن بشر، والفضل بن دكين، عن مسعر، عن عبيد بن الحسن، عن ابن معقل، قال: " من سال تكثرا جاء يوم القيامة وفي وجهه خموش"
حضرت ابن ابی لیلیٰ سے مروی ہے کہ حضرت ابو ذر کے پاس ایک سائل آیا تو آپ نے اس کو کچھ عطا فرمایا، آپ کو (لوگوں نے) کہا آپ نے اسکو (کیوں) دیا حالانکہ وہ تو خوشحال ہے؟ آپ نے فرمایا وہ سائل ہے اور ہر سوال کرنے والوں کا حق ہوتا ہے اور وہ قیامت کے دن ضرور تمنا کریں گے (کہ وہ سوال نہ کرتے) بیشک ان کے ہاتھ میں (قیامت کے دن) گرم پتھر ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10986]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10986، ترقيم محمد عوامة 10781)
ترقیم عوامۃ: 10782 ترقیم الشثری: -- 10987
١٠٩٨٧ - حدثنا حفص وابو معاوية عن الاعمش عن مجاهد عن ابن ابي ليلى قال: (جاء) (١) سائل فسال (ابا ذر) (٢) فاعطاه شيئا فقيل له تعطيه وهو موسر فقال: إنه سائل وللسائل حق، وليتمنين يوم القيامة انها كانت رضفة في يده (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، هـ]: (جاءه).
(٢) سقطت من: [ب، هـ]، وفي [أ، ح، هـ]: [إن أذن)؛ وانظر: الدر المنثور ٢/ ٩٣.
(٣) صحيح.
حدثنا حفص، وابو معاوية، عن الاعمش، عن مجاهد، عن ابن ابي ليلى، قال: جاءه سائل فسال فاعطاه شيئا , فقيل له: تعطيه وهو موسر؟ فقال:" إنه سائل، وللسائل حق، وليتمنين يوم القيامة انها كانت رضفة في يده"
حضرت عطاء بن یسار فرماتے ہیں کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان پہنچا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس حال میں سوال کرے کہ اس کے پاس چالیس درہم یا اس کے برابر مال ہو پس وہ لوگوں سے چمٹ کر، پیچھے پڑ کر سوال کرنے والا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10987]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10987، ترقيم محمد عوامة 10782)
ترقیم عوامۃ: 10783 ترقیم الشثری: -- 10988
١٠٩٨٨ - حدثنا ابن (عيينة) (١) عن (زيد) (٢) بن (اسلم) (٣) عن عطاء بن يسار ⦗٣٨١⦘ (يبلغ) (٤) به النبي ﷺ:"من سال وله اوقية او عدلها فهو يسال الناس إلحافا" (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب]: (عليه).
(٢) في [ص]: (يزيد).
(٣) في [أ، ب، ح]: (مسلم).
(٤) في [أ]: (أنه بلغ).
(٥) مرسل، وقد رواه متصلًا عن رجل من بني أسد؛ أحمد (١٦٤١١) وأبو داود (١٦٣٧) والنسائي ٥/ ٩٨ والطحاوي ٢/ ٢١ والبغوي (١٦٠١) وأبو عبيد في الأموال (١٧٣٤) ومالك ٢/ ٩٩٩.
حدثنا ابن عيينة ، عن زيد بن اسلم ، عن عطاء بن يسار , يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم: " من سال وله اوقية او عدلها فهو يسال الناس إلحافا"
حضرت ابو سعید سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا زکوٰۃ کسی غنی کے لیے حلال نہیں سوائے تین صورتوں کے، یا تو وہ اللہ کے راستہ میں ہو، یا وہ مسافر ہو، یا اس کے کسی پڑوسی کو زکوٰۃ دی گئی ہو اور وہ س کو ہدیہ کر دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الزكاة/حدیث: 10988]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 10988، ترقيم محمد عوامة 10783)