🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

172. من كره الزحام في (الجنازة)
بعض حضرات نے جنازے میں ازدحام کو ناپسند فرمایا ہے
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 12116 ترقیم الشثری: -- 12359
١٢٣٥٩ - حدثنا وكيع عن همام بن يحيى عن قتادة قال: شهدت جنازة في الاساورة فازدحموا على الجنازة وقال ابو (السوار) (١) العدوي: (ترى) (٢) هؤلاء ⦗١٩٣⦘ افضل (او) (٣) اصحاب محمد ﷺ، كان احدهم (إذا) (٤) راى محملا حمل وإلا اعتزل ولم يؤذوا احدا.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (المسور)، وفي [ص]: (سوار).
(٢) في [س، ط، هـ]: (نرى).
(٣) في [أ]: (و).
(٤) في [ز]: (إن).

حدثنا وكيع، عن همام بن يحيى، عن قتادة، قال: شهدت جنازة في الاساورة فازدحموا على الجنازة , فقال ابو السوار العدوي: ترى هؤلاء افضل او اصحاب محمد صلى الله عليه وسلم؟" كان احدهم إذا راى محملا حمل , وإلا اعتزل , ولم يؤذ احدا"
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ میں اس اورہ (بصرہ کے رہنے والے عجمی) میں سے ایک شخص کے جنازے میں شریک ہوا، انہوں نے جنازے کو کندھا دینے میں ازدحام کیا تو حضرت ابو السوار العدوی نے فرمایا: ان لوگوں کو دیکھو یہ افضل ہیں یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ؟ صحابہ کرام میں کوئی صحابی اگر جنازے کو کندھا دینا ممکن دیکھتا تو کندھا دیتا وگرنہ ہٹ جاتا اور کسی کو تکلیف نہ پہنچاتا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12359]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12359، ترقيم محمد عوامة 12116)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 12117 ترقیم الشثری: -- 12360
١٢٣٦٠ - حدثنا وكيع عن مهدي عن رجل يقال له: إسماعيل الجحدري قال: خرجنا في جنازة فشهدها الحسن قال: فراى قوما ازدحموا على السرير فقال الحسن: ما شان هؤلاء؟ إني لاظن الشيطان (حسر) (١) من الناس، فاتبعهم (ليحبط) (٢) اجورهم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (حسن)، وفي [س]: (حس).
(٢) في [أ]: (لتحبط).

حدثنا وكيع، عن مهدي، عن رجل يقال له إسماعيل الجحدري، قال: خرجنا في جنازة فشهدها الحسن، قال: فراى قوما ازدحموا على السرير , فقال الحسن:" ما شان هؤلاء؟ إني لاظن الشيطان حسر من الناس فاتبعهم ليحبط اجورهم".
حضرت اسماعیل الحجدری فرماتے ہیں کہ ہم ایک جنازے میں نکلے تو اس میں حضرت حسن بھی شریک تھے، انہوں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ چارپائی پر ازدحام کر رہے ہیں، حضرت حسن نے فرمایا: ان لوگوں کا کیا حال ہے؟ میرا گمان ہے کہ شیطان نے لوگوں میں خیر اور اجر کا احساس دیکھا تو ان کے ساتھ مل گیا اور ان کے دل میں وسوسہ ڈالا تاکہ وہ جنازے کو کندھا دینے میں ازدحام سے کام لیں اور اس سے دوسروں کو تکلیف ہو اور وہ ان کے اجر کو ضائع کر دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الجنائز/حدیث: 12360]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 12360، ترقيم محمد عوامة 12117)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں