صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
6. باب البكاء على الميت:
باب: میت پر رونے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 923 ترقیم شاملہ: -- 2135
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ إِحْدَى بَنَاتِهِ تَدْعُوهُ وَتُخْبِرُهُ، أَنَّ صَبِيًّا لَهَا أَوِ ابْنًا لَهَا فِي الْمَوْتِ، فَقَالَ لِلرَّسُولِ: ارْجِعْ إِلَيْهَا، فَأَخْبِرْهَا أَنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى، وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، فَمُرْهَا فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ "، فَعَادَ الرَّسُولُ، فَقَالَ: إِنَّهَا قَدْ أَقْسَمَتْ لَتَأْتِيَنَّهَا، قَالَ: فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَامَ مَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَانْطَلَقْتُ مَعَهُمْ، فَرُفِعَ إِلَيْهِ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَقَعْقَعُ كَأَنَّهَا فِي شَنَّةٍ، فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ ".
حماد بن زید نے عاصم احول سے، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے اور انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ کی بیٹیوں میں سے ایک نے آپ کو بلاتے ہوئے اور اطلاع دیتے ہوئے آپ کی طرف پیغام بھیجا کہ اس کا بچہ۔۔۔ یا اس کا بیٹا۔۔۔ موت (کے عالم) میں ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیام لانے والے سے فرمایا: ”ان کے پاس واپس جا کر ان کو بتاؤ کہ اللہ ہی کا ہے جو اس نے لے لیا اور اسی کا ہے جو اس نے دیا تھا اور اس کے ہاں ہر چیز کا وقت مقرر ہے، اور ان کو بتا دو کہ وہ صبر کریں اور اجر و ثواب کی طلب گار ہوں۔“ پیام رساں دوبارہ آیا اور کہا: انہوں نے (آپ کو) قسم دی ہے کہ آپ ان کے پاس ضرور تشریف لائیں۔ کہا: اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ کے ساتھ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا، آپ کے سامنے بچے کو پیش کیا گیا جبکہ اس کا سانس اکھڑا ہوا تھا، (جسم اس طرح مضطرب تھا) جیسے اس کی جان پرانے مشکیزے میں ہو تو آپ کی آنکھیں بہہ پڑیں، اس پر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! یہ کیا ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”یہ رحمت ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھی ہے اور اللہ اپنے بندوں میں سے رحم دل بندوں ہی پر رحم فرماتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2135]
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں موجود تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں میں سے ایک نے آپ کو بلانے کے لیے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیجااور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ ان کا بچہ یا بیٹا قریب المرگ ہے۔ (مر رہا ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغام بر سے فرمایا: ان سے پاس واپس جا کر ان کو بتاؤ کہ اللہ ہی کا ہے جو اس نے لیا اوراسی کا ہے۔ جو اس نے دیا ہے اور ہر چیز کا اس کے ہاں وقت مقرر ہے، اس لیے ان لیےان سن کہو صبر کریں اور ثواب کی نیت کریں“ پیغم بر دوبارہ آیا اور اس نے کہا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم دی ہے کہ آپ ان کے پاس ضرور پہنچیں اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سعد ابن عبادہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہما بھی اٹھ کھڑے ہوئے اور میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بچہ پیش کیا گیا اور اس کا سانس اکھڑا ہوا تھا، گویا وہ پرانی مشک میں ہے اور اس سے آواز پیدا ہورہی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئےاس پر حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: یہ کیا ہے؟ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے جواب دیا ”یہ رحمت و شفقت ہے جو اللہ نے اپنے بندوں کے دلوں میں رکھی ہے اور اللہ بھی اپنے انہی بندوں پر رحم فرماتا ہے جو رحم دل اور مہربان ہوتے ہیں“ [صحيح مسلم/كتاب الجنائز/حدیث: 2135]
ترقیم فوادعبدالباقی: 923
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
7448
| إنما يرحم الله من عباده الرحماء |
صحيح البخاري |
1284
| يرحم الله من عباده الرحماء |
صحيح مسلم |
2135
| يرحم الله من عباده الرحماء |
سنن أبي داود |
3125
| إنما يرحم الله من عباده الرحماء |
سنن ابن ماجه |
1588
| الرحمة التي جعلها الله في بني آدم وإنما يرحم الله |
المعجم الصغير للطبراني |
1054
| من لا يرحم لا يرحم |
أبو عثمان النهدي ← أسامة بن زيد الكلبي