🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

136. من قال: لا يتزوج محدود إلا محدودة ومن رخص (في) ذلك
وہ مرد جس پر حد جاری ہوئی وہ کسی ایسی عورت سے ہی نکاح کرسکتا ہے جس پر حد جاری ہوئی یا کسی اور سے بھی کرسکتا ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 17207 ترقیم الشثری: -- 17792
١٧٧٩٢ - حدثنا ابو بكر عن معتمر بن سليمان عن عاصم عن الشعبي قال: (احل النساء للزاني: الزانية) (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (النساء والزاني الزانية)، وفي [أ، ب]: (النساء الزاني للزانية)، وفي [ط]: (النساء الزاني الزانية)، في [هـ]: (نكاح الزاني الزانية).
حدثنا ابو بكر، عن معتمر بن سليمان، عن عاصم، عن الشعبي، قال: " احل النساء للزاني الزانية"
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ زنا کار مرد کے لئے سب سے بہتر زانیہ ہی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن سے اس بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم چھپے ہوئے کے بارے میں فتویٰ نہیں دیتے۔ البتہ حد کا شکار شخص صرف اسی عورت سے شادی کرسکتا ہے جس پر حد جاری ہوئی ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17792]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17792، ترقيم محمد عوامة 17207)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 17793
١٧٧٩٣ - قال: وسالت الحسن فقال: (إنا) (١) لا (نفتي) (٢) في المستور ولكن المحدود لا يتزوج إلا محدودة.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، هـ]: (لنا).
(٢) في [أ، ب، ك]: (نعني)، وفي [أ، هـ، س]: (يعني).

قال: وسالت الحسن، فقال:" إنا لا نفتي في المستور، ولكن المحدود لا يتزوج إلا محدودة"
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17793، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 17208 ترقیم الشثری: -- 17794
١٧٧٩٤ - حدثنا ابن إدريس عن ليث عن ابن سابط ان عليا اتي بمحدود تزوج امراة غير محدودة ففرق بينهما (١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) ضعيف؛ ليث هو ابن أبي سُليم ضعيف.
حدثنا حدثنا ابن إدريس، عن ليث، عن ابن سابط، ان عليا اتي بمحدود تزوج امراة غير محدودة ففرق بينهما"
حضرت ابن سابط فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک ایسا شخص لایا گیا جس پر حد جاری ہوئی تھی اور اس نے ایک ایسی عورت سے شادی کی جس پر حد جاری نہیں ہوئی تھی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دونوں میں جدائی کرادی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17794]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17794، ترقيم محمد عوامة 17208)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 17209 ترقیم الشثری: -- 17795
١٧٧٩٥ - حدثنا بكار بن عبد الله عن موسى بن عبيدة عن اخيه عبد الله بن عبيدة ان مولاه لبني حارثة (جلدت) (١) حد الزنى فاراد رجل ان يتزوجها فاستشار ابا هريرة فقال: لا! إلا ان تكون عملت مثل عملها (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في: (خلدت).
(٢) ضعيف؛ لضعف موسى بن عبيدة.

حدثنا حدثنا بكار بن عبد الله، عن موسى بن عبيدة، عن اخيه عبد الله بن عبيدة، ان مولاة لبني حارثة جلدت حد الزنا، فاراد رجل ان يتزوجها فاستشار ابا هريرة، فقال:" لا , إلا ان تكون عملت مثل عملها"
حضرت عبد اللہ بن عبیدہ فرماتے ہیں کہ بنو حارثہ کی ایک باندی پر حد زنا جاری ہوئی۔ ایک آدمی نے اس عورت سے شادی کرنے کا ارادہ کیا اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تمہارا اس سے نکاح درست نہیں یہاں تک کہ تم بھی وہی عمل کرو جو اس نے کیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17795]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17795، ترقيم محمد عوامة 17209)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 17210 ترقیم الشثری: -- 17796
١٧٧٩٦ - حدثنا غندر عن شعبة عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب ان رجلا اراد ان يزوج (ابنته) (١) فقالت: إني اخشى ان افضحك، إني قد بغيت، فاتى عمر فقال: (اليس) (٢) قد تابت؟ قال: نعم! قال: فزوجها (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ، س]: (ابنة).
(٢) في [هـ، ط]: (أليست).
(٣) صحيح.

حدثنا حدثنا غندر، عن شعبة، عن قيس بن مسلم، عن طارق بن شهاب، ان رجلا اراد ان يزوج ابنة، فقالت: إني اخشى ان افضحك , إني قد بغيت , فاتى عمر، فقال:" اليست قد تابت؟" قال: نعم , قال:" فزوجها"
حضرت طارق بن شہاب کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیٹی کی شادی کرنے کا ارادہ کیا تو بیٹی نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ میں آپ کو رسوا کردوں گی کیونکہ میں نے بدکاری کا ارتکاب کیا ہے۔ وہ آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے پوچھا کہ کیا اس نے توبہ کرلی ہے؟ اس نے کہا جی ہاں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر اس کی شادی کرادے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 17796]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 17796، ترقيم محمد عوامة 17210)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں