🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

19. باب قَبُولِ الصَّدَقَةِ مِنَ الْكَسْبِ الطَّيِّبِ وَتَرْبِيَتِهَا:
باب: پاک کمائی سے صدقہ کا قبول ہونا اور اس کا پرورش پانا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1014 ترقیم شاملہ: -- 2342
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا تَصَدَّقَ أَحَدٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ، وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ، إِلَّا أَخَذَهَا الرَّحْمَنُ بِيَمِينِهِ وَإِنْ كَانَتْ تَمْرَةً، فَتَرْبُو فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ حَتَّى تَكُونَ أَعْظَمَ مِنَ الْجَبَلِ، كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ ".
سعید بن یسار سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص پاکیزہ مال سے کوئی صدقہ نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ پاکیزہ مال ہی قبول فرماتا ہے، مگر وہ رحمان اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے، چاہے وہ کھجور کا ایک دانہ ہو، تو وہ اس رحمان کی ہتھیلی میں پھلتا پھولتا ہے، حتیٰ کہ پہاڑ سے بھی بڑا ہو جاتا ہے، بالکل اسی طرح جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بچھیرے یا اونٹ کے بچے کو پالتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2342]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو انسان پاکیزہ مال سے صدقہ کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ پاکیزہ مال ہی قبول فرماتا ہے۔ تو رحمن اسے اپنے دائیں ہاتھ سے لیتا ہے (قبول فرماتا ہے) وہ اگرچہ ایک کھجور ہی ہو۔ پھر وہ رحمان کی ہتھیلی میں پھلتا پھولتا ہے (بڑھتا ہے) حتی کہ پہاڑ سے بھی بڑا ہو جاتا ہے جیسے کہ تم میں سے کوئی اپنے بچھیرے (گھوڑے کا بچہ) یا ٹوڈے (اونٹ کا بچہ) کو پالتا پوستا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2342]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1014
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1014 ترقیم شاملہ: -- 2343
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَتَصَدَّقُ أَحَدٌ بِتَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ، إِلَّا أَخَذَهَا اللَّهُ بِيَمِينِهِ، فَيُرَبِّيهَا كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ قَلُوصَهُ، حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ أَوْ أَعْظَمَ "،
یعقوب بن عبدالرحمن القاری نے سہیل سے، انہوں نے اپنے والد (ابو صالح) سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی شخص اپنی پاکیزہ کمائی سے ایک کھجور بھی خرچ نہیں کرتا، مگر اللہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے قبول کرتا ہے اور اسے اس طرح پالتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بچھیرے یا اونٹ کے بچے کو پالتا ہے، حتیٰ کہ وہ (کھجور) پہاڑ کی طرح یا اس سے بھی بڑی ہو جاتی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2343]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی انسان پاک کمائی سے ایک کھجور بھی خرچ نہیں کرتا مگر اللہ اسے اپنے داہنے ہاتھ سے لیتا ہے اور اسے اس طرح پالتا پوستا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے یا اونٹ کو پالتا پوستا ہے حتی کہ وہ (کھجور)پہاڑ کی طرح بلکہ اس سے بھی بڑی ہو جاتی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2343]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1014
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1014 ترقیم شاملہ: -- 2344
وحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ . ح وحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْأَوْدِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، كِلَاهُمَا، عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ رَوْحٍ " مِنَ الْكَسْبِ الطَّيِّبِ، فَيَضَعُهَا فِي حَقِّهَا "، وَفِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ: " فَيَضَعُهَا فِي مَوْضِعِهَا "،
روح بن قاسم اور سلیمان بن بلال دونوں نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ (مذکورہ بالا) حدیث بیان کی، روح کی حدیث میں ہے: «من الكسب الطيب فيضعها في حقها» (حلال کمائی سے صدقہ کرتا ہے، پھر اس کو وہاں لگاتا ہے جہاں اس کا حق ہے) اور سلیمان کی حدیث میں ہے: «فيضعها في موضعها» (اور اسے اس کی جگہ پر خرچ کرتا ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2344]
امام صاحب اپنے دو اساتذہ سے یہی روایت سہیل کی سند سے بیان کرتے ہیں روح کی حدیث میں ہے۔ پاکیزہ کمائی سے اور اسے اللہ صحیح موقع و محل پر رکھتا ہے اور سلیمان کی حدیث میں فِي حَقِّهَا کی جگہ فَيَضَعُهَا فِي حَقِّهَا اسے اس کے محل پر رکھتا ہے (مقصد دونوں الفاظ کا ایک ہی ہے) [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2344]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1014
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1014 ترقیم شاملہ: -- 2345
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ يَعْقُوبَ، عَنْ سُهَيْلٍ.
ہشام بن سعد نے زید بن اسلم سے، انہوں نے ابو صالح سے، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح روایت کی جس طرح سہیل سے یعقوب کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2345]
امام صاحب یہی حدیث اپنے دوسرےاستاد سے یعقوب کی ہم معنی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2345]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1014
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1015 ترقیم شاملہ: -- 2346
وحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا، وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ، فَقَالَ: يَأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ سورة المؤمنون آية 51، وَقَالَ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ سورة البقرة آية 172، ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ، يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ يَا رَبِّ يَا رَبِّ، وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ ".
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک (مال) کے سوا (کوئی مال) قبول نہیں کرتا، اللہ نے مومنوں کو بھی اسی بات کا حکم دیا جس کا رسولوں کو حکم دیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ» اے پیغمبران کرام! پاک چیزیں کھاؤ اور نیک کام کرو، جو عمل تم کرتے ہو، میں اسے اچھی طرح جاننے والا ہوں اور فرمایا: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ» اے مومنو! جو پاک رزق ہم نے تمہیں عنایت فرمایا ہے، اس میں سے کھاؤ۔ پھر آپ نے ایک آدمی کا ذکر کیا جو طویل سفر کرتا ہے، بال پراگندہ اور جسم غبار آلود ہے۔ (دعا کے لیے) آسمان کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتا ہے، اے میرے رب! اے میرے رب! جبکہ اس کا کھانا حرام کا ہے، اس کا پینا حرام کا ہے، اس کا لباس حرام کا ہے اور اس کو غذا حرام کی ملی ہے، تو اس کی دعا کہاں سے قبول ہو گی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2346]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اے لوگو! اللہ تعالیٰ پاک ہے (ہر نقص و کمزوری سے) اور پاک مال ہی قبول فرماتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو اس بات کا حکم دیا ہے جس بات کا حکم رسولوں کو دیا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے رسولو! پاک چیزیں کھاؤ اور صحیح و درست کام کرو۔ (نیک کام کرو) جو کچھ تم کرتے ہو میں اس سے آگا ہوں (جانتا ہوں)مومنون آیت 51 اور فرمایا: اے مومنو! جو پاک رزق ہم نے تمھیں عنایت فرمایا ہے اس سے کھاؤ۔ بقرہ آیت 172۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے آدمی کا تذکرہ فرمایا جو طویل سفر کرتا ہے پرا گندہ بال غبارآلود آسمان کی طرف اپنے دونوں ہاتھ پھیلاتا ہے (اور کہتا ہے) اے میرے رب! اے میرے رب! حالانکہ اس کاکھانا حرام پینا حرام، اس کا لباس حرام اور اس کو غذا حرام کی دی گئی تو اس کی دعا کیسے قبول ہو گی۔؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2346]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1015
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں