🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

20. باب الْحَثِّ عَلَى الصَّدَقَةِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ أَوْ كَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ وَأَنَّهَا حِجَابٌ مِنَ النَّارِ:
باب: ایک کھجور یا ایک کام کی بات بھی صدقہ ہے اور دوزخ سے آڑ کرنے والا ہے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1016 ترقیم شاملہ: -- 2347
حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ أَبِي إسحاق ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَتِرَ مِنَ النَّارِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ ".
عبداللہ بن معقل نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے جو شخص آگ سے محفوظ رہنے کی استطاعت رکھے، چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے کیوں نہ ہو، وہ ضرور (ایسا) کرے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2347]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو شخص آگ سے بچ سکتا ہے، اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے ہی کے ذریعے سہی، تو وہ ایسا کرے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2347]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1016
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1016 ترقیم شاملہ: -- 2348
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ اللَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ، فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ، وَيَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ، وَيَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ، فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ "، زَادَ ابْنُ حُجْرٍ، قَالَ الْأَعْمَشُ: وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَمِثْلَهُ، وَزَادَ فِيهِ: " وَلَوْ بِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ، وقَالَ إسحاق: قَالَ الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَ .
علی بن حجر سعدی، اسحاق بن ابراہیم اور علی بن خشرم میں سے علی بن حجر نے کہا: ہمیں عیسیٰ بن یونس نے حدیث بیان کی اور باقی دونوں نے کہا: ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں اعمش نے خیثمہ کے واسطے سے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی نہیں، مگر عنقریب اللہ اس طرح اس سے بات کرے گا کہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا۔ اور اپنی دائیں جانب دیکھے گا، تو اسے وہی کچھ نظر آئے گا جو اس نے آگے بھیجا اور اپنی بائیں جانب دیکھے گا، تو وہی کچھ دکھائی دے گا جو اس نے آگے بھیجا اور اپنے آگے دیکھے گا، تو اسے اپنے منہ کے سامنے آگ دکھائی دے گی، اس لیے آگ سے بچو، اگرچہ آدھی کھجور کے ذریعے ہی سے کیوں نہ ہو۔ (علی بن حجر نے اضافہ کیا: اعمش نے کہا: مجھے عمرو بن مرہ نے خیثمہ سے اسی جیسی حدیث بیان کی اور اس میں اضافہ کیا: چاہے پاکیزہ بول کے ساتھ (بچو)۔ اسحاق نے کہا: اعمش نے کہا: عمرو بن مرہ سے روایت ہے (کہا) خیثمہ سے روایت ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2348]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر شخص سے اللہ تعالیٰ یقیناً اس طرح گفتگو فرمائے گا کہ اس کے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا، وہ اپنے دائیں دیکھے گا تو اسے اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال ہی نظر آئیں گے اور اپنے بائیں دیکھے گا تب بھی آگے بھیجے ہوئے اعمال ہی دکھائی دیں گے اور اپنے آگے دیکھے گا تو اسے اپنے سامنے آگ ہی دکھائی دے گی، اس لیے آگ سے بچو، اگرچہ آدھی کھجور ہی کے ذریعے سہی۔ ابن حجر کی روایت میں یہ اضافہ ہے (اگر پاکیزہ بول یا اچھی بات سے ہی سہی) اسحاق کی روایت میں اعمش اور خثیمہ کے درمیان عمرو بن مرہ کا اضافہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2348]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1016
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1016 ترقیم شاملہ: -- 2349
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّارَ فَأَعْرَضَ وَأَشَاحَ، ثُمَّ قَالَ: " اتَّقُوا النَّارَ "، ثُمَّ أَعْرَضَ وَأَشَاحَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ كَأَنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا، ثُمَّ قَالَ: " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ " وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو كُرَيْبٍ كَأَنَّمَا، وَقَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ.
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب دونوں نے کہا: ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے عمرو بن مرہ سے، انہوں نے خیثمہ سے، انہوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگ کا تذکرہ فرمایا، تو چہرہ مبارک ایک طرف موڑا اور اس میں مبالغہ کیا، پھر فرمایا: آگ سے بچو۔ پھر رخ مبارک پھیرا اور دور ہونے کا اشارہ کیا، حتیٰ کہ ہمیں گمان ہوا جیسے آپ اس (آگ) کی طرف دیکھ رہے ہیں، پھر فرمایا: آگ سے بچو، چاہے آدھی کھجور کے ساتھ، جسے (یہ بھی) نہ ملے، تو اچھی بات کے ساتھ۔ ابو کریب نے کانما (جیسے) کا (لفظ) ذکر نہیں کیا اور کہا: ہمیں ابو معاویہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2349]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ کا تذکرہ کیا اور منہ پھیر لیا، اور ڈرایا یا چوکنا کیا۔ پھر فرمایا: آگ سے بچو۔ پھر اعراض کیا اور رخ پھیر لیا حتی کہ ہم نے گمان کیا گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ رہے ہیں۔ پھر فرمایا: آگ سے بچو! اگرچہ کھجور کے ٹکڑے کے سبب، جس کے پاس اتنی بھی سکت نہ ہو تو اچھے بول کے باعث۔ ابوکریب کی روایت میں «كَأَنَّمَا» کا لفظ نہیں ہے اور «عَنْ أَعْمَشَ» کی جگہ «حَدَّثَنَا أَعْمَشُ» ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2349]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1016
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1016 ترقیم شاملہ: -- 2350
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ النَّارَ، فَتَعَوَّذَ مِنْهَا وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ، ثُمَّ قَالَ: " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ ".
شعبہ نے عمرو بن مرہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آگ کا ذکر کیا، تو اس سے پناہ مانگی اور تین بار اپنے چہرہ مبارک کے ساتھ دور ہونے کا اشارہ کیا، پھر فرمایا: آگ سے بچو، چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے (بچو)، اگر تم (یہ بھی) نہ پاؤ، تو اچھی بات کے ساتھ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2350]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگ کا تذکرہ فرمایا، اس سے پناہ طلب کی اور رخ بدل لیا، اس طرح تین دفعہ کیا۔ پھر فرمایا: آگ سے بچو خواہ کھجور کے ٹکڑے کے سبب، اگر یہ بھی نہ مل سکے تو اچھے اور پاکیزہ بول کے سبب۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2350]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1016
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1017 ترقیم شاملہ: -- 2351
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَدْرِ النَّهَارِ، قَالَ: فَجَاءَهُ قَوْمٌ حُفَاةٌ عُرَاةٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ أَوِ الْعَبَاءِ، مُتَقَلِّدِي السُّيُوفِ عَامَّتُهُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ كُلُّهُمْ مِنْ مُضَرَ، فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا رَأَى بِهِمْ مِنَ الْفَاقَةِ، فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلَّى، ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ:" يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ سورة النساء آية 1 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا سورة النساء آية 1 وَالْآيَةَ الَّتِي فِي الْحَشْرِ اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ سورة الحشر آية 18 تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِينَارِهِ مِنْ دِرْهَمِهِ مِنْ ثَوْبِهِ مِنْ صَاعِ بُرِّهِ مِنْ صَاعِ تَمْرِهِ، حَتَّى قَالَ: وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ"، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بِصُرَّةٍ كَادَتْ كَفُّهُ تَعْجِزُ عَنْهَا بَلْ قَدْ عَجَزَتْ، قَالَ: ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتَّى رَأَيْتُ كَوْمَيْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِيَابٍ، حَتَّى رَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَهَلَّلُ كَأَنَّهُ مُذْهَبَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَلَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ، وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وِزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ"،
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے عون بن ابی جحیفہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے منذر بن جریر سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم دن کے ابتدائی حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ کے پاس کچھ لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن، سوراخ کر کے دھاری دار چادریں یا عبائیں گلے میں ڈالے اور تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، ان میں سے اکثر، بلکہ سب کے سب مضر قبیلے سے تھے، ان کی فاقہ زدگی کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رخ نور غمزدہ ہو گیا، آپ اندر تشریف لے گئے، پھر باہر نکلے، تو بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان دی اور اقامت کہی، آپ نے نماز ادا کی، پھر خطبہ دیا اور فرمایا: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ» اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا۔۔۔ آیت کے آخر تک «إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا» اور وہ آیت جو سورہ حشر میں ہے: «اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ» اللہ سے ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ اس نے کل کے لیے آگے کیا بھیجا ہے۔ (پھر فرمایا) آدمی پر لازم ہے کہ وہ اپنے دینار سے، اپنے درہم سے، اپنے کپڑے سے، اپنی گندم کے ایک صاع سے، اپنی کھجور کے ایک صاع سے۔۔۔ حتیٰ کہ آپ نے فرمایا: چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے سے صدقہ کرے۔ (جریر نے) کہا: تو انصار میں سے ایک آدمی ایک تھیلی لایا، اس کی ہتھیلی اس (کو اٹھانے) سے عاجز آنے لگی تھی، بلکہ عاجز آگئی تھی، کہا: پھر لوگ ایک دوسرے کے پیچھے آنے لگے، یہاں تک کہ میں نے کھانے اور کپڑوں کے دو ڈھیر دیکھے، حتیٰ کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک دیکھا، وہ اس طرح دمک رہا تھا جیسے اس پر سونا چڑھایا ہوا ہو۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اسلام میں کوئی اچھا طریقہ رائج کیا، تو اس کے لیے اس کا (اپنا بھی) اجر ہے اور ان کے جیسا اجر بھی جنہوں نے اس کے بعد اس (طریقے) پر عمل کیا، اس کے بغیر کہ ان کے اجر میں کوئی کمی ہو اور جس نے اسلام میں کسی برے طریقے کی ابتدا کی، اس کا بوجھ اسی پر ہے اور ان کا بوجھ بھی جنہوں نے اس کے بعد اس پر عمل کیا، اس کے بغیر کہ ان کے بوجھ میں کوئی کمی ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2351]
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم دن کے آغاز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن، گلے میں دھاری دار اونی چادریں یا عبائیں پہنے ہوئے اور تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، ان میں سے اکثر بلکہ سب کے سب مضر قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے، ان کے فقر و فاقہ کو دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رخِ انور متغیر ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لے گئے پھر باہر نکلے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان اور اقامت کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ کر خطبہ دیا اور فرمایا: اے لوگو! اپنے اس رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ﴾ [سورة النساء: 1] پوری آیت پڑھی، بے شک اللہ تم پر نگہبان اور محافظ ہے اور سورہ حشر کی آیت ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَلْتَنظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ﴾ [سورة الحشر: 18] پڑھی اور فرمایا: اللہ سے ڈرو اور ہر نفس غور و فکر کرے اس نے آنے والے کل کے لیے آگے کیا بھیجا ہے اور اللہ کے (غضب اور نافرمانی سے) بچو، (ہر آدمی اپنا دینار، درہم، اپنا کپڑا، اپنا گندم کا صاع، کھجور کا صاع صدقہ کرے) حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (خواہ کھجور کا ٹکڑا ہی صدقہ کرے) تو ایک انصاری ایک تھیلی لایا اس کا ہاتھ اس کو اٹھانے سے بے بس اور عاجز ہو رہا تھا بلکہ عاجز ہو ہی گیا تھا، پھر لوگ لگاتار لا رہے تھے حتیٰ کہ میں نے غلہ اور کپڑوں کے دو ڈھیر دیکھے یہاں تک کہ میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارکہ (خوشی و مسرت) سے جگ مگ کر رہا تھا گویا کہ اس پر سونے کا جھول پھیرا گیا ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اسلام میں اچھا طریقہ اپنایا تو اسے اس کا اجر ملے گا اور ان لوگوں کا اجر بھی جنہوں نے (اسے دیکھ کر) اس کے بعد اس پر عمل کیا، بغیر اس کے کہ اجر و ثواب میں کسی قسم کی کمی ہو، اور جس نے اسلام میں غلط راہِ عمل اختیار کی (بری چال اپنائی) اس پر اس کا گناہ اور بوجھ ہوگا اور اس کے بعد (اس کے دیکھا دیکھی) جو اس پر عمل کریں گے ان کا گناہ بھی بغیر اس کے کہ ان کے گناہ میں کسی قسم کی کمی واقع ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2351]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1017
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1017 ترقیم شاملہ: -- 2352
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَا جَمِيعًا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُنْذِرَ بْنَ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرَ النَّهَارِ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مُعَاذٍ مِنَ الزِّيَادَةِ، قَالَ: " ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ خَطَبَ "،
ابو اسامہ اور معاذ عنبری دونوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے عون بن ابی جحیفہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے منذر بن جریر سے سنا، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم دن کے ابتدائی حصے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس (حاضر) تھے۔۔۔ (آگے ابن جعفر کی حدیث کی طرح ہے۔ اور ابن معاذ کی حدیث میں اضافہ ہے، کہا: پھر آپ نے ظہر کی نماز ادا فرمائی، پھر خطبہ دیا)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2352]
امام صاحب دو اور اساتذہ سے یہی حدیث بیان کرتے ہیں کہ حضرت جریر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم دن کے آغاز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے جیسا کہ ابن جعفر کی روایت گزر چکی ہے۔ امام صاحب کے استاد ابن معاذ کی حدیث میں اتنا اضافہ ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھی، پھر خطاب فرمایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2352]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1017
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1017 ترقیم شاملہ: -- 2353
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأُمَوِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ قَوْمٌ مُجْتَابِي النِّمَارِ، وَسَاقُوا الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ، وَفِيهِ: فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ صَعِدَ مِنْبَرًا صَغِيرًا، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ فِي كِتَابِهِ يَأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ سورة النساء آية 1 " الْآيَةَ،
عبدالملک بن عمیر نے منذر بن جریر سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کی خدمت میں ایک قوم درمیان میں سوراخ کر کے اون کی دھاری دار چیتھڑے گلے میں ڈالے آئی۔۔۔ اور پورا واقعہ بیان کیا اور اس میں ہے: آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر ایک چھوٹے سے منبر پر تشریف لے گئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے: «یَا أَیُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمْ» ’اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو۔‘ آیت کے آخر تک۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2353]
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک قوم اون کی دھاری دار تہبند باندھے آئی۔ اور پورا واقعہ بیان کیا اور اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر چھوٹے منبر پر چڑھ گئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرمائی، پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ﴾ اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو [سورة النساء: 1] ، الآیۃ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2353]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1017
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1017 ترقیم شاملہ: -- 2354
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، وأبي الضحى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنْ الْأَعْرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمُ الصُّوفُ، فَرَأَى سُوءَ حَالِهِمْ قَدْ أَصَابَتْهُمْ حَاجَةٌ، فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ.
عبدالرحمان بن ہلال عبسی نے حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: بدوؤں میں سے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کے جسم پر اونی کپڑے تھے، آپ نے ان کی بدحالی دیکھی، وہ فاقہ زدہ تھے۔۔۔ پھر ان (سابقہ راویان حدیث) کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2354]
حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ بدوی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اون پہنے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بدحالی دیکھی کہ وہ حاجت مند ہیں، پھر مذکورہ بالا حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2354]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1017
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں