🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

271. ما قالوا في تزويج الأبكار وما ذكر في ذلك
باکرہ عورتوں سے نکاح کی فضیلت
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 17990 ترقیم الشثری: -- 18633
١٨٦٣٣ - حدثنا ابو بكر قال: (نا) (١) ابو اسامة عن حماد بن زيد قال: نا عاصم قال: (قال) (٢) عمر بن الخطاب: عليكم بالابكار من النساء فإنهن اعذب افواها (وافتح) (٣) ارحاما وارضى (باليسير) (٤) (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (ثنا)، وفي [ز]: (حدثني).
(٢) سقط من: [هـ].
(٣) في [هـ]: (وأصح)، وفي [خ]: (أفيح).
(٤) في [س]: (باليسر).
(٥) منقطع؛ عاصم لم يدرك عمر.

حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا ابو اسامة، عن حماد بن زيد، قال: نا عاصم، قال عمر بن الخطاب : " عليكم بالابكار من النساء فإنهن اعذب افواها وافيح ارحاما وارضى باليسير"
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ باکرہ عورتوں سے نکاح کو ترجیح دو کیونکہ ان کی گفتگو زیادہ شیریں ہوتی ہے، زیادہ بچے پیدا کرنے والی ہوتی ہیں اور وہ تھوڑے پر راضی ہوجاتی ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 18633]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18633، ترقيم محمد عوامة 17990)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 17991 ترقیم الشثری: -- 18634
١٨٦٣٤ - حدثنا الفضل بن دكين قال: (نا) (١) سفيان عن عمرو بن قيس عن رجل عن ابن مسعود قال: تزوجوا الابكار فإنهن اقل (خبا) (٢) واشد ودا (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، ز، ك]: (أنا).
(٢) في [ز، ك]: (حيًا)، وفي [أ، ب]: (حبًا)، وفي [س، ط]: (جا).
(٣) مجهول؛ لإبهام الراوي عن ابن مسعود.

حدثنا حدثنا الفضل بن دكين، قال: نا سفيان، عن عمرو بن قيس، عن رجل، عن ابن مسعود ، قال: " تزوجوا الابكار فإنهن اقل خبا واشد ودا"
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ باکرہ عورتوں سے شادی کرنے کو ترجیح دو، کیونکہ یہ تھوڑے پر گزارا کرنے والی اور زیادہ محبت کرنے والی ہوتی ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 18634]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18634، ترقيم محمد عوامة 17991)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 17992 ترقیم الشثری: -- 18635
١٨٦٣٥ - حدثنا إسماعيل بن عياش عن عبد الله بن عثمان بن خثيم عن مكحول قال: قال رسول الله ﷺ: (١) "عليكم (بالجواري) (٢) (الشواب) (٣) فانكحوهن فإنهن اطيب افواها، واعز اخلاقا (وافتح) (٤) ارحاما (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س، ز، ك]: زيادة (قال).
(٢) في [جـ، س، ز، ط، ك، هـ]: (بالجوار).
(٣) في [س]: (السواب)، وفي [أ، ب]: (السوت).
(٤) في [ب، س، هـ]: (وأصح)، وفي [خ]: (أفيح)، وانظر: سنن سعيد بن منصور (١/ ٥١٣)، ومصنف عبد الرزاق (١٠٣٤٢).
(٥) مرسل؛ مكحول تابعي.

حدثنا إسماعيل بن عياش ، عن عبد الله بن عثمان بن خثيم ، عن مكحول ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " عليكم بالجواري الشواب فانكحوهن، فإنهن اطيب افواها واعز اخلاقا وافيح ارحاما"
حضرت مکحول رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نوجوان لڑکیوں سے نکاح کرنے کو ترجیح دو کیونکہ وہ زیادہ شیریں گفتگو والی ہوتی ہیں، اچھے اخلاق والی ہوتی ہیں اور زیادہ بچے پیدا کرنے والی ہوتی ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 18635]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18635، ترقيم محمد عوامة 17992)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 17993 ترقیم الشثری: -- 18636
١٨٦٣٦ - حدثنا محمد بن عبيد عن الاعمش عن سالم عن جابر قال: (قال) (١) : سالني رسول الله ﷺ:"بكرا تزوجت ام (ثيبا) (٢) ؟"، قال: قلت: لا، بل (ثيبا) (٣) قال:"فهلا جارية تلاعبها وتلاعبك" (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [س].
(٢) في [ك]: (ثيب).
(٣) في [أ، ب، ز، ك]: (ثيب)، وفي [س]: (ثبيًا).
(٤) صحيح؛ أخرجه مسلم (٧١٥)، وأحمد (١٤٣٧٤)، وأصله في البخاري (٥٠٧٩).

حدثنا محمد بن عبيد ، عن الاعمش ، عن سالم ، عن جابر ، قال: قال: سالني رسول الله صلى الله عليه وسلم: " بكرا تزوجت ام ثيبا؟" قال: قلت: لا بل ثيبا، قال:" فهلا جارية تلاعبها وتلاعبك!"
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میری شادی کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے سوال کیا کہ تم نے باکرہ سے شادی کی یا ثیبہ سے؟ میں نے کہاثیبہ سے، آپ نے فرمایا کہ باکرہ سے کیوں نہیں کی وہ تمہارے ساتھ دل لگی کرتی اور تم اس کے ساتھ۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 18636]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18636، ترقيم محمد عوامة 17993)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 17994 ترقیم الشثری: -- 18637
١٨٦٣٧ - حدثنا (عبيدة) (١) بن حميد عن الاسود بن قيس العبدي عن (نبيح) (٢) ابن عبد الله (العنزي) (٣) عن جابر بن عبد الله قال: مشيت مع النبي ﵇ (٤) فقال:"الك امراة يا جابر؟" (قلت) (٥) : نعم! (فقال) (٦) : ⦗٧٦⦘" (ثيبا) (٧) نكحت ام بكرا؟"، (قال) (٨) : تزوجتها وهي ثيب، فقال النبي ﵇ (٩) :"فلولا (تزوجتها) (١٠) جارية تلاعبها"، قال: قلت (له) (١١) : (قتل ابي) (١٢) معك يوم كذا (و) (١٣) كذا، (وترك) (١٤) (جواريا) (١٥) (فكرهت) (١٦) ان اضم إليهن جارية، فتزوجت ثيبا (تقصع) (١٧) (قمل) (١٨) (إحداهن) (١٩) ، (وتخيط) (٢٠) (درع) (٢١) (إحداهن) (٢٢) إذا (تخرق) (٢٣) فقال رسول الله ﷺ:" (فإنك) (٢٤) نعما رايت" (٢٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س، هـ]: (عبد).
(٢) في [س]: (صح)، وفي [ب]: (سح).
(٣) في [أ، ب، س، ز، ك]: (العري).
(٤) في [جـ، ب، ز]: ﷺ.
(٥) في [ز، ك]: (فقلت).
(٦) في [جـ]: (قال)، وفي [ط]: (فقا).
(٧) في [جـ، ز، ك]: (أثيبًا).
(٨) في [هـ]: (قلت).
(٩) في [ب، جـ، ز]: ﷺ.
(١٠) في [س، ف، هـ]: (تزوجت).
(١١) سقط من: [س، ب].
(١٢) في [هـ]: (قيل لي)، وفي [ك]: (فتك أبي)، وفي [س]: (قبل إني معك)، وفي [ط]: (قيل إني)، وفي [جـ]: (قيل له).
(١٣) في [س]: (يوم).
(١٤) في [س، ط، هـ]: (وذكر).
(١٥) في [أ، ب]: (حوايًا).
(١٦) في [ك]: (وكرهت).
(١٧) في [ط]: (بقطع)، وفي [س]: (يطلع)، وفي [هـ]: (تقطع).
(١٨) في [س]: (قبل).
(١٩) في [هـ]: (احديهن)، وفي [س، ط]: (احدهن).
(٢٠) في [س، ط]: (ويخيط).
(٢١) في [جـ]: (دراع)، وفي [ط]: (ذرع).
(٢٢) في [هـ]: (إحديهن)، وفي [س، ط]: (احدهن).
(٢٣) في [أ، ب]: (تحرق)، وفي [ط]: (نخرق).
(٢٤) في [س]: (إنك).
(٢٥) صحيح؛ أخرجه أحمد (١٤٨٦١)، وأصله في البخاري (٢٤٠٦)، ومسلم (٧١٥).

حدثنا عبيد بن حميد ، عن الاسود بن قيس العنزي ، عن نبيح بن عبد الله العنزي ، عن جابر بن عبد الله ، قال: مشيت مع النبي عليه السلام، فقال:" الك امراة يا جابر؟" قلت: نعم , فقال:" ثيبا نكحت ام بكرا؟" قلت: تزوجتها وهي ثيب , فقال النبي عليه السلام،" فلولا تزوجت جارية تلاعبها" قال: قلت له: قتل ابي معك يوم كذا وكذا وترك جواري فكرهت ان اضم إليهن جارية، فتزوجت ثيبا تقصع قمل إحداهن وتخيط درع إحداهن إذا تخرق، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" فإنك نعما رايت"
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا کہ آپ نے مجھ سے فرمایا کہ اے جابر! کیا تمہاری بیوی ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے ثیبہ سے شادی کی یا باکرہ سے؟ میں نے کہا کہ ثیبہ سے شادی کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے نوجوان لڑکی سے شادی کرتے تاکہ تم اس سے دل لگی کرتے۔ میں نے کہا کہ میرے والد فلاں جنگ میں آپ کی معیت میں جامِ شہادت نوش کرگئے، ان کی چھوٹی چھوٹی بیٹیاں ہیں، میں نے ان کے ساتھ ایک اور نوجوان کو لانا پسند نہ کیا۔ میں نے ایک ثیبہ سے شادی کی تاکہ وہ ان کی جوؤیں بھی نکالے اور اگر ان کا کپڑا پھٹ جائے تو اسے بھی سی دے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے صحیح بات سوچی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب النكاح/حدیث: 18637]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18637، ترقيم محمد عوامة 17994)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں