مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
17. من كان يوقعه عليه ويلزمه الطلاق إذا وقت
جن حضرات کے نزدیک ایسی طلاق واقع ہوجاتی ہے اور اگر طلاق کو کسی وقت کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو اس وقت طلاق ہوجاتی ہے
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 18797
١٨٧٩٧ - (١) سئل عمر (عن رجل قال) (٢) : يوم اتزوج فلانة فهي علي (كظهر) (٣) امي قال: لا يتزوجها حتى يكفر (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، هـ]: زيادة (و).
(٢) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٣) في [هـ]: (ظهر)، وفي [أ، ط]: (الظهر).
(٤) منقطع؛ القاسم وعبد اللَّه لم يدركا عمر.
سئل عمر عن رجل قال : يوم اتزوج فلانة فهي علي ظهر امي؟ قال:" لا يتزوجها حتى يكفر"
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18797، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 18143 ترقیم الشثری: -- 18798
١٨٧٩٨ - حدثنا ابو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن محمد بن قيس عن إبراهيم عن الاسود انه (وقت) (١) امراة إن (تزوجها) (٢) (فسال) (٣) ابن (مسعود) (٤) (فقال) (٥) : اعلمها (بالطلاق) (٦) ثم تزوجها (٧) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (طلق).
(٢) في [ط]: (قبل تزوجها)، وفي [س، هـ]: (يتزوجها).
(٣) في [أ، ب، س، ط، ك]: (قال).
(٤) سقط في [س]: (مسعود).
(٥) في [ط]: (قال).
(٦) في [أ، ب، س، ط، ك]: (الطلاق).
(٧) صحيح.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا وكيع، عن سفيان، عن محمد بن قيس، عن إبراهيم، عن الاسود انه وقت امراة ان يتزوجها، فسال ابن مسعود فقال:" اعلمها بالطلاق , ثم تزوجها"
حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت اسود رحمہ اللہ نے ایک عورت کو کہا کہ اگر وہ اس سے شادی کریں تو اسے طلاق ہے پھر اس بارے میں انہوں نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ اسے پہلے طلاق کا بتادو پھر اس سے شادی کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 18798]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18798، ترقيم محمد عوامة 18143)
ترقیم عوامۃ: 18144 ترقیم الشثری: -- 18799
١٨٧٩٩ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابو اسامة عن (عمر) (١) بن حمزة انه سال ⦗١١٨⦘ سالما والقاسم وابا بكر بن عبد الرحمن وابا بكر بن (عمرو) (٢) بن حزم وعبد الله بن عبد الرحمن عن رجل قال: يوم اتزوج فلانة فهي طالق البتة، (فقالوا) (٣) كلهم: لا يتزوجها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، س]: (عمرو).
(٢) في [س]: (عمر).
(٣) في [ك]: (فقال).
حدثنا ابو بكر، قال: نا ابو اسامة، عن عمر بن حمزة، انه سال سالما , والقاسم , وابا بكر بن عبد الرحمن , وابا بكر بن عمرو بن حزم , وعبد الله بن عبد الرحمن، عن رجل , قال: يوم اتزوج فلانة فهي طالق البتة؟ فقالوا كلهم:" لا يتزوجها"
حضرت عمر بن حمزہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت قاسم، حضرت ابوبکر بن عبد الرحمن اور حضرت ابوبکر بن عمرو s سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا جس نے کہا کہ میں جس دن فلاں عورت سے شادی کروں اسے طلاق ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟ ان سب نے فرمایا کہ وہ اس سے شادی نہ کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 18799]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18799، ترقيم محمد عوامة 18144)
ترقیم عوامۃ: 18145 ترقیم الشثری: -- 18800
١٨٨٠٠ - حدثنا ابو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن منصور (١) عن شريح ان رجلا ساله عن رجل قال: يوم اتزوج فلانة فهي طالق فقال شريح: إذا سمعت بوادي (النوكاء حل به) (٢) ! يعني: انها طالق.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [خ]: (عن رجل)، ومنصور يروي عن شريح كما في مصنف عبد الرزاق (١١٢٥٨ و ١٢٠٩٤)، وأخبار القضاة ٢/ ٣١٦.
(٢) في [س]: (النكا حل به)؛ وفي [هـ]: (النداء ما حلت له).
حدثنا ابو بكر، قال: نا وكيع، عن سفيان، عن منصور، عن شريح , ان رجلا ساله عن رجل , قال: يوم اتزوج فلانة فهي طالق؟ فقال شريح:" إذا سمعت بوادي النوكاء ؛ حل به!" يعني: انها طالق"
حضرت شریح رحمہ اللہ سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ ایک آدمی نے کہا کہ میں جس دن فلاں عورت سے شادی کروں اسے طلاق ہے تو اس کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ جب وہ اس سے شادی کرے گا اسے طلاق ہوجائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 18800]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18800، ترقيم محمد عوامة 18145)
ترقیم عوامۃ: 18146 ترقیم الشثری: -- 18801
١٨٨٠١ - حدثنا ابو بكر قال: نا مروان بن معاوية عن سويد بن نجيح الكندي قال: سالت الشعبي عن رجل قال: (إن تزوجت) (١) فلانة فهي طالق، او يوم اتزوج فلانة فهي طالق، قال الشعبي: هو كما (قال) (٢) فقلت: إن عكرمة يزعم ان الطلاق بعد النكاح فقال: (جرمز) (٣) مولى ابن عباس.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ب، جـ]: (أتزوجت).
(٢) في [ط]: سقط من: (قال).
(٣) في [أ، ب]: (حرمن)، وفي [س، هـ]: (حرمز)، وانظر: النهاية لابن الأثير ١/ ٢٦٣، وتاج العروس ١٥/ ٥٧، ومعناه: نكص عن الجواب.
حدثنا ابو بكر، قال: نا مروان بن معاوية، عن سويد بن نجيح الكندي، قال: سالت الشعبي عن رجل , قال: إن تزوجت فلانة فهي طالق , او يوم اتزوج فلانة فهي طالق؟ قال الشعبي: هو كما قال": فقلت: إن عكرمة يزعم ان الطلاق بعد النكاح؟ فقال: حرمز مولى ابن عباس"
حضرت سوید بن نجیح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی رحمہ اللہ سے ایک آدمی کے بارے میں سوال کیا کہ اس نے کہا کہ اگر میں فلانی عورت سے شادی کروں تو اسے طلاق ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ جیسے اس نے کہا ہے ایسے ہی ہوگا۔ میں نے کہا کہ حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ طلاق نکاح کے بعد ہوتی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ جرمز ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 18801]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 18801، ترقيم محمد عوامة 18146)