مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
49. من كان يرى طلاق المكره جائزا
جو حضرات مجبور کئے گئے شخص کی طلاق کو درست سمجھتے تھے
ترقیم عوامۃ: 18343 ترقیم الشثری: -- 19019
١٩٠١٩ - حدثنا ابو بكر قال: نا هشيم عن سيار قال: قلت للشعبي: إنهم يزعمون انك لا ترى طلاق المكره شيئا، قال: إنهم يكذبون علي.
حدثنا ابو بكر، قال: نا هشيم، عن سيار، قال: قلت للشعبي: " إنهم يزعمون انك لا ترى طلاق المكره شيئا؟ قال: إنهم يكذبون علي"
حضرت سیار رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی رحمہ اللہ سے کہا کہ لوگ آپ کے بارے میں کہتے ہیں کہ آپ مجبور کئے گئے شخص کی طلاق کو درست نہیں سمجھتے؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ مجھ پر جھوٹ گھڑتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19019]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19019، ترقيم محمد عوامة 18343)
ترقیم عوامۃ: 18344 ترقیم الشثری: -- 19020
١٩٠٢٠ - حدثنا ابو بكر قال: نا هشيم عن (مغيرة) (١) عن إبراهيم قال: طلاق المكره جائز.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (المغيرة).
حدثنا ابو بكر، قال: نا هشيم، عن المغيرة، عن إبراهيم، قال: " طلاق المكره جائز".
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجبور کئے گئے شخص کی طلاق ہوجاتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19020]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19020، ترقيم محمد عوامة 18344)
ترقیم عوامۃ: 18345 ترقیم الشثری: -- 19021
١٩٠٢١ - حدثنا ابو بكر قال: نا (هشيم) (١) عن الاعمش عن إبراهيم قال: هو جائز، إنما هو شيء (افتدى) (٢) به نفسه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، س، هـ]: (هشام).
(٢) في [أ، ب]: (أفتلا).
حدثنا ابو بكر، قال: نا هشام، عن الاعمش، عن إبراهيم، قال:" هو جائز , إنما هو شيء افتدى به نفسه"
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجبور کئے گئے شخص کی طلاق ہوجاتی ہے۔ یہ اس نے اپنی جان کا فدیہ دیا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19021]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19021، ترقيم محمد عوامة 18345)
ترقیم عوامۃ: 18346 ترقیم الشثری: -- 19022
١٩٠٢٢ - حدثنا ابو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن علي بن زيد عن سعيد بن المسيب انه كان يجيز طلاق المكره.
حدثنا ابو بكر، قال: نا يزيد بن هارون، عن حماد بن سلمة، عن علي بن زيد، عن سعيد بن المسيب انه كان " يجيز طلاق المكره"
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجبور کئے گئے شخص کی طلاق ہوجاتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19022]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19022، ترقيم محمد عوامة 18346)
ترقیم عوامۃ: 18347 ترقیم الشثری: -- 19023
١٩٠٢٣ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبد الله بن المبارك عن رجل قد سماه عن ابن سيرين عن شريح قال: طلاق المكره جائز.
حدثنا ابو بكر، قال: نا عبد الله بن المبارك، عن رجل قد سماه، عن ابن سيرين، عن شريح، قال: " طلاق المكره جائز"
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجبور کئے گئے شخص کی طلاق ہوجاتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19023]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19023، ترقيم محمد عوامة 18347)
ترقیم عوامۃ: 18348 ترقیم الشثری: -- 19024
١٩٠٢٤ - حدثنا ابو بكر قال: نا حسين بن محمد عن جرير بن حازم عن (ايوب) (١) عن ابي قلابة قال: طلاق المكره جائز.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [خ، ع]: (ليث).
حدثنا ابو بكر، قال: نا حسين بن محمد، عن جرير بن حازم، عن ايوب، عن ابي قلابة، قال: " طلاق المكره جائز"
حضرت ابو قلابہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجبور کئے گئے شخص کی طلاق ہوجاتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19024]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19024، ترقيم محمد عوامة 18348)
ترقیم عوامۃ: 18349 ترقیم الشثری: -- 19025
١٩٠٢٥ - حدثنا ابو بكر قال: نا حفص (بن) (١) غياث عن ليث عن حماد عن إبراهيم قال: لو وضع السيف على مفرقه ثم طلق لاجزت طلاقه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (عن).
حدثنا ابو بكر، قال: نا حفص بن غياث، عن ليث، عن حماد، عن إبراهيم، قال: " لو وضع السيف على مفرقه، ثم طلق ؛ لاجزت طلاقه"
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کے سر پر تلوار رکھی جائے اور پھر وہ طلاق دے دے تو میں اس طلاق کو واقع قرار دے دوں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19025]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19025، ترقيم محمد عوامة 18349)
ترقیم عوامۃ: 18350 ترقیم الشثری: -- 19026
١٩٠٢٦ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابن إدريس عن (حصين) (١) عن الشعبي في ⦗١٧٠⦘ الرجل يكره على امر من امر (العتاق) (٢) (او) (٣) الطلاق، قال: إذا (اكرهه) (٤) السلطان جاز، وإذا (اكرهه) (٥) اللصوص لم يجز.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، هـ]: (حسين).
(٢) في [ط]: (التعاق).
(٣) في [ط]: (لو).
(٤) في [س]: (كرهه).
(٥) في [س]: (كرهه)، وفي [هـ]: (أكرهته).
حدثنا ابو بكر، قال: نا ابن إدريس، عن حصين، عن الشعبي، في الرجل يكره على امر من امر العتاق او الطلاق، قال:" إذا اكرهه السلطان ؛ جاز , وإذا اكرهته اللصوص ؛ لم يجز"
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کسی آدمی کو طلاق یا عتاق پر مجبور کیا گیا تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر سلطان نے مجبور کیا تو درست ہے اور اگر چوروں نے مجبور کیا تو درست نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19026]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19026، ترقيم محمد عوامة 18350)