مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
50. في الرجل تكون (له) امرأتان (نهى) (إحداهما) عن الخروج فخرجت التي لم (ينه) فقال: (فلانة) خرجت أنت طالق
ایک آدمی کی دو بیویاں ہو، وہ ایک کو نکلنے سے منع کرے، لیکن دوسری بیوی نکلے جسے نکلنے سے منع نہیں کیا تھا تو وہ سمجھے کہ وہ نکلی ہے جس کو منع کیا تھالہٰذا وہ کہے کہ اے فلانی! تو نکلی؟ تجھے طلا ق ہے تو کیا حکم ہے؟
ترقیم عوامۃ: 18351 ترقیم الشثری: -- 19027
١٩٠٢٧ - حدثنا ابو بكر قال: نا هشيم عن يونس عن الحسن في رجل له امراتان نهى (إحداهما) (١) عن الخروج فخرجت التي لم تنه (فظن) (٢) انها التي نهاها ان تخرج (فقال) (٣) : فلانة خرجت، انت طالق، قال: تطلق (التي) (٤) اراد ونوى.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (إحدهما)، وفي [ط، هـ]: (إحديهما).
(٢) في [أ، ب]: (فظهر).
(٣) في [س]: (قال).
(٤) في [ط، ك]: (الذي).
حدثنا ابو بكر، قال: نا هشيم، عن يونس، عن الحسن في رجل له امراتان نهى إحداهما عن الخروج فخرجت التي لم تنه فظن انها التي نهاها ان تخرج، فقال: فلانة خرجت انت طالق؟، فقال:" تطلق التي اراد ونوى".
حضرت حسن رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی کی دو بیویاں ہوں، وہ ایک کو نکلنے سے منع کرے، لیکن دوسری بیوی نکلے جسے نکلنے سے منع نہیں کیا تھا تو وہ سمجھے کہ وہ نکلی ہے جس کو منع کیا تھا لہٰذا وہ کہے کہ اے فلانی! تو نکلی؟ تجھے طلا ق ہے۔ تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ جس کی نیت کی ہے اسے طلا ق ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19027]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19027، ترقيم محمد عوامة 18351)
ترقیم عوامۃ: 18352 ترقیم الشثری: -- 19028
١٩٠٢٨ - حدثنا ابو بكر قال: نا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: ⦗١٧١⦘ (تطلقان) (١) جميعا، تطلق التي اراد بتسميته إياها، وتطلق هذه بقوله لها: انت طالق.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (تطلقا).
حدثنا ابو بكر، قال: نا هشيم، عن مغيرة، عن إبراهيم، قال:" تطلقان جميعا ؛ تطلق التي اراد بتسميته إياها , وتطلق هذه بقوله لها: انت طالق"
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی کی دو بیویاں ہوں، وہ ایک کو نکلنے سے منع کرے، لیکن دوسری بیوی نکلے جسے نکلنے سے منع نہیں کیا تھا تو وہ سمجھے کہ وہ نکلی ہے جس کو منع کیا تھا لہٰذا وہ کہے کہ اے فلانی! تو نکلی؟ تجھے طلا ق ہے۔ تو اس صورت میں دونوں کو طلاق ہوجائے گی، جس کا نام لیا اسے اس کے نام کی وجہ سے اور دوسری کو یہ کہنے کی وجہ سے کہ تجھے طلاق ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19028]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19028، ترقيم محمد عوامة 18352)
ترقیم عوامۃ: 18353 ترقیم الشثری: -- 19029
١٩٠٢٩ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبد الاعلى عن معمر عن الزهري انه قال في رجل قال لامراته: إن خرجت فانت طالق، (فاستعارت) (١) امراة ثيابها فلبستها فابصرها زوجها حين خرجت من الباب فقال: قد فعلت فانت طالق، قال: يقع طلاقه على امراته.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (فاستعادت).
حدثنا ابو بكر، قال: نا عبد الاعلى، عن معمر، عن الزهري، انه قال: في رجل قال لامراته: إن خرجت فانت طالق , فاستعارت امراة ثيابها فلبستها , فابصرها زوجها حين خرجت من الباب , فقال: قد فعلت فانت طالق؟ قال:" يقع طلاقه على امراته"
حضرت زہری رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر تو نکلی تجھے طلاق ہے۔ اس کے بعد کسی عورت نے اس کی بیوی کے کپڑے مانگے اور پہن کر باہر جانے لگی، اس کے خاوند نے دیکھ کر کہا کہ تو باہر نکل گئی۔ لہٰذا تجھے طلاق ہے تو یہ طلاق اس کی بیوی کو ہوجائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19029]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19029، ترقيم محمد عوامة 18353)
ترقیم عوامۃ: 18354 ترقیم الشثری: -- 19030
١٩٠٣٠ - حدثنا ابو بكر قال: نا عمر عن ابن (جريج) (١) عن عطاء قال: سمعته يقول: إن حلف رجل على امراته انها لا تخرج فخرجت امراة له اخرى فقيل له: امراتك فحسبها الاخرى فطلقها قال عطاء: ليس بشيء.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، س، ط]: (جريح).
حدثنا ابو بكر، قال: نا عمر، عن ابن جريج، عن عطاء، قال: سمعته يقول: " إن حلف رجل على امراته انها لا تخرج فخرجت امراة له اخرى , فقيل له: هذه امراتك فحسبها الاخرى فطلقها؟ قال عطاء: ليس بشيء"
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے اپنی بیوی کو قسم دی کہ وہ باہر نہیں نکلے گی۔ لیکن اس کی کوئی دوسری بیوی باہر نکلی، اسے کسی نے کہا کہ وہ تیری بیوی ہے۔ وہ یہ سمجھا کہ شاید یہ وہ ہے جسے نکلنے سے منع کیا تھا اور اس نے اسے طلاق دے دی توطلاق نہیں ہوگی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19030]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19030، ترقيم محمد عوامة 18354)
ترقیم عوامۃ: 18355 ترقیم الشثری: -- 19031
١٩٠٣١ - حدثنا ابو بكر قال: نا محمد بن يزيد عن ابي العلاء عن قتادة في رجل كانت له امراتان، فخرجت (إحداهما) (١) قال: من هذه؟ (قيل) (٢) : فلانة، قال: إنها طالق، وكانت التي لم تسم قال: قد وقع الطلاق عليهما جميعا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، ط]: (إحديهما).
(٢) في [ط]: (قيا).
حدثنا ابو بكر، قال: نا محمد بن يزيد، عن ابي العلاء، عن قتادة في رجل كانت له امراتان فخرجت إحداهما، قال: من هذه؟ قيل: فلانة , قال: إنها طالق وكانت التي لم تسم؟ قال:" قد وقع الطلاق عليهما جميعا"
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر ایک آدمی کی دو بیویاں تھیں، ان میں سے ایک باہر نکلی اور اس نے سوال کیا کہ یہ کون ہے؟ اسے بتایا گیا کہ فلانی ہے۔ اس نے کہا کہ اسے طلا ق ہے، حالانکہ جس کا نام لیا گیا یہ وہ نہیں تھی۔ تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ دونوں کو طلاق ہوجائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19031]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19031، ترقيم محمد عوامة 18355)
ترقیم عوامۃ: 18356 ترقیم الشثری: -- 19032
١٩٠٣٢ - حدثنا ابو بكر قال: نا شريك عن جابر عن عامر في رجل كانت له امراتان او مملوكتان، فدعا إحداهما فقال: انت طالق، فاجابته الاخرى قال: تطلق التي سمى، وإن (قال) (١) (لعبده) (٢) فمثل ذلك.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ط، هـ]: (كان).
(٢) في [س]: (بعبد).
حدثنا ابو بكر، قال: نا شريك، عن جابر، عن عامر، في رجل كانت له امراتان او مملوكتان فدعا إحداهما، فقال: انت طالق فاجابته الاخرى؟ قال:" تطلق التي سمى وإذا قال لعبده ؛ فمثل ذلك"
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی کی بیویاں یا دو باندیاں تھیں۔ اس نے ایک کو بلایا اور کہا کہ تجھے طلاق ہے۔ اسے دوسری نے جواب دیا تو اسے طلاق ہوگی جس کا اس نے نام لیا، اگر اپنے غلام سے کہا تب بھی یہی حکم ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19032]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19032، ترقيم محمد عوامة 18356)