🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

60. من قال: أمرها (بيدها) حتى تتكلم
جو حضرات فرماتے ہیں کہ عورت کے بولنے تک اسے اختیار رہے گا یعنی جب بات کی تو اختیار ختم ہوجائے گا
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18425 ترقیم الشثری: -- 19110
١٩١١٠ - حدثنا ابو بكر قال: نا جرير بن عبد الحميد عن منصور عن الحكم عن علي في رجل جعل امر امراته بيدها قال: هو لها حتى تتكلم، او جعل امر امراته ⦗١٩٠⦘ بيد رجل قال: هو بيده حتى (يتكلم) (١) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، هـ]: (تتكلم).
(٢) منقطع؛ الحكم لم يدرك عليًا.

حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا جرير بن عبد الحميد، عن منصور، عن الحكم، عن علي ، في رجل جعل امر امراته بيدها؟ قال:" هو لها حتى تتكلم". او جعل امر امراته بيد رجل؟ قال:" هو بيده حتى يتكلم"
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کا اختیار اس کے حوالے کردیا تو یہ اس وقت تک اس کے پاس رہے گا جب تک وہ کوئی بات نہ کرلے۔ اسی طرح اگر یہ اختیار کسی آدمی کے ہاتھ میں دیا تو یہ اس آدمی کے پاس بھی بات کرنے تک رہے گا، یعنی جب بات کی تو اختیار ختم ہوجائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19110]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19110، ترقيم محمد عوامة 18425)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18426 ترقیم الشثری: -- 19111
١٩١١١ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابو داود الطيالسي عن حماد بن سلمة عن حميد عن الحسن بن مسلم ان رجلا جعل امر امراته بيدها فقامت ولم تقض شيئا فرفع إلى ابن الزبير (فقال) (١) : على ما قمت؟ قالت: على ان لا ارجع إليه فابانها (عنه) (٢) (٣) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط].
(٢) في [هـ]: (منه).
(٣) منقطع؛ الحسن بن مسلم لا يروي عن ابن الزبير.

حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا ابو داود الطيالسي، عن حماد بن سلمة، عن حميد، عن الحسن بن مسلم، ان رجلا جعل امر امراته بيدها فقامت ولم تقض شيئا، فرفع إلى ابن الزبير، فقال: علام قمت؟ قالت: على ان لا ارجع إليه ," فابانها عنه"
حضرت حسن بن مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کا معاملہ اسی کو سونپ دیا وہ کھڑی ہوئی اور اس نے کوئی فیصلہ نہ کیا، یہ معاملہ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس پیش ہوا، انہوں نے عورت سے پوچھا کہ تم کس نیت سے کھڑی ہوئی تھیں؟ اس نے کہا کہ میں اس ارادے سے کھڑی ہوئی تھی کہ دوبارہ کبھی اس کے پاس نہ آؤں گی۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس عورت کو آدمی سے جدا کرادیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19111]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19111، ترقيم محمد عوامة 18426)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں