مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
64. ما قالوا في الرجل يطلق امرأته البتة
اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو قطعی طلاق دے تو کیا حکم ہے؟
ترقیم عوامۃ: 18452 ترقیم الشثری: -- 19142
١٩١٤٢ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابو خالد الاحمر عن يحيى بن سعيد قال: قال ابو بكر: سالني عمر بن عبد العزيز عن البتة فقلت له: إن ابان بن عثمان كان يقول: هي واحدة فقال عمر: لو كان الطلاق الفا ما ابقت البتة منه شيئا.
حدثنا ابو بكر، قال: نا ابو خالد الاحمر، عن يحيى بن سعيد، قال: قال ابو بكر: سالني عمر بن عبد العزيز عن البتة , فقلت له:" إن ابان بن عثمان , كان يقول:" هي واحدة". فقال عمر:" لو كان الطلاق الفا ما ابقت البتة منه شيئا!"
حضرت ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے مجھ سے طلاق قطعی کے بارے میں سوال کیا تو میں نے ان سے کہا کہ ابان بن عثمان فرمایا کرتے تھے کہ ایک طلاق ہوگی۔ حضرت عمر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر طلاقیں ایک ہزار بھی ہوں تو طلاق قطعی دینے سے ایک طلاق بھی باقی نہیں رہے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19142]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19142، ترقيم محمد عوامة 18452)
ترقیم عوامۃ: 18453 ترقیم الشثری: -- 19143
١٩١٤٣ - حدثنا ابو بكر قال: نا إسماعيل بن عياش عن يحيى بن سعيد عن ابي بكر (١) بن عمرو بن حزم قال: قال عمر بن عبد العزيز: يا ابا بكر! البتة، ما يقول الناس فيها؟ فقلت له: كان ابان بن عثمان يجعلها واحدة فقال عمر: لو (كان) (٢) الطلاق الفا ما ابقت البتة منه شيئا، من قال: البتة، فقد رمى بالغاية القصوى.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب، س، ز]، وزاد في [ط، هـ]: (ابن محمد).
(٢) في [أ، ب، جـ، ك]: (أن).
حدثنا ابو بكر، قال: نا إسماعيل بن عياش، عن يحيى بن سعيد، عن ابي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، قال: قال عمر بن عبد العزيز:" يا ابا بكر"! البتة، ما يقول الناس فيها؟ فقلت له: كان ابان بن عثمان" يجعلها واحدة"، فقال عمر: لو كان الطلاق الفا ما ابقت البتة منه شيئا , من قال البتة فقد رمى بالغاية القصوى!"
حضرت ابوبکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے مجھ سے طلاق قطعی کے بارے میں سوال کیا کہ لوگ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں، میں نے ان سے کہا کہ ابان بن عثمان رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے کہ ایک طلاق ہوگی۔ حضرت عمر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر طلاقیں ایک ہزار بھی ہوں تو طلاق قطعی دینے سے ایک طلاق بھی باقی نہیں رہے گی۔ جس نے قطعی کا لفظ کہا اس نے انتہاء کو چھو لیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19143]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19143، ترقيم محمد عوامة 18453)
ترقیم عوامۃ: 18454 ترقیم الشثری: -- 19144
١٩١٤٤ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبد الاعلى عن (سعيد) (١) عن قتادة ان زيد بن ثابت كان يقول: في البتة ثلاث (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط].
(٢) منقطع؛ لانقطاع ما بين قتادة وزيد.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا عبد الاعلى، عن سعيد، عن قتادة، ان زيد بن ثابت ، كان يقول: " في البتة:" ثلاث"
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ طلاق قطعی تین طلاقیں ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19144]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19144، ترقيم محمد عوامة 18454)