🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

64. ما قالوا في الرجل يطلق امرأته البتة
اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو قطعی طلاق دے تو کیا حکم ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18444 ترقیم الشثری: -- 19132
١٩١٣٢ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابن إدريس عن الشيباني عن الشعبي قال: شهد عبد الله بن شداد (عند) (١) عروة بن (المغيرة) (٢) (ان) (٣) عمر جعلها واحدة وهو احق بها (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، هـ]: (عن)؛ وانظر: الاستذكار (٦/ ١٣).
(٢) في [س، هـ]: (مغيرة).
(٣) في [س]: (عن).
(٤) صحيح.

حدثنا ابو بكر، قال: نا ابن إدريس، عن الشيباني، عن الشعبي، قال: شهد عبد الله بن شداد، عند عروة بن مغيرة، ان عمر " جعلها واحدة وهو احق بها"،
حضرت عروہ بن مغیرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قطعی طلاق کو ایک طلاق قرار دیا اور خاوند کو رجوع کا حق دار ٹھہرایا۔ جبکہ رائش بن عدی رحمہ اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں گواہی دی کہ انہوں نے طلاق قطعی کو تین طلاقیں قرار دیا۔ جبکہ حضرت شریح رحمہ اللہ کے نزدیک اس کی نیت کا اعتبار ہوگا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19132]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19132، ترقيم محمد عوامة 18444)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 19133
١٩١٣٣ - وان (الرايش) (١) بن عدي (٢) شهد على علي انه جعلها ثلاثا (٣) (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (الدوس)، وفي [هـ]: (الورس)، وفي [أ]: (الدائس)، وفي [جـ]: (الرائش)، وفي الأم ٧/ ١٧٢، ومصنف عبد الرزاق (١١١٨١)، ومعرفة السنن للبيهقي ٥/ ٤٧٦: (رياش)، وفي الاستذكار ٦/ ١٣: (الرائش)، وفي طبقات ابن سعد ٦/ ٢٢٧: (الرياش).
(٢) في [أ، ب، ط]: زيادة (أنه).
(٣) في [س]: (جعل ثلاث).
(٤) مجهول؛ لجهالة الرايش.

وان الرايش بن عدي شهد على علي انه جعلها ثلاثا،
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19133، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 19134
١٩١٣٤ - وان شريحا قال: نيته.
وان شريحا، قال: نيته
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19134، ترقيم محمد عوامة ---)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18445 ترقیم الشثری: -- 19135
١٩١٣٥ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابن إدريس عن داود عن الشعبي قال: لما ارسل عروة إلى شريح اعتل عليه فعزم عليه ليقولن فقال: إن الله سن ⦗١٩٦⦘ (سننا) (١) وإن الناس قد ابتدعوا وإنهم (عمدوا) (٢) إلى بدعهم فخلطوها بالسنن، فإذا انتهى إليك من ذلك شيء (فميزوا) (٣) ، السنن، فامضوها على وجهها والحقوا البدع باهلها، اما (طالق) (٤) فمعروفة، واما البتة فبدعة (نوقفه) (٥) على بدعته، فإن شاء تاخر وإن شاء تقدم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (سنتنا)، وفي [ط]: (سبنا).
(٢) في [أ]: (عدوا).
(٣) في [س]: (فميروا).
(٤) في [س]: (طاق).
(٥) في [أ]: (نوفف)، وفي [ب، ط]: (توقف)، وفي [س]: (توقق)، وفي [ك]: (يوقف).

حدثنا ابو بكر، قال: نا ابن إدريس، عن داود، عن الشعبي، قال: لما ارسل عروة إلى شريح اعتل عليه فعزم عليه: ليقولن , فقال: " إن الله سن سننا، وإن الناس قد ابتدعوا وإنهم عمدوا إلى بدعهم فخلطوها بالسنن، فإذا انتهى إليك من ذلك شيء فميزوا السنن، فامضوها على وجهها والحقوا البدع باهلها ؛ اما طالق فمعروفة، واما البتة فبدعة يوقف على بدعته، فإن شاء تاخر وإن شاء تقدم"
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ رحمہ اللہ نے اس بارے میں حضرت شریح رحمہ اللہ سے استفسار کیا، انہوں نے کوئی جواب دینے سے معذرت کی تو حضرت عروہ رحمہ اللہ کے اصرار پر انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے دین پر عمل کرنے کے لئے شریعت کو مقرر کیا لیکن لوگوں نے اس میں بہت سی نئی باتیں ایجاد کر ڈالیں، انہوں نے بدعتوں کو سنتوں کے ساتھ خلط کرلیا، جب تمہارے پاس ایسا کوئی معاملہ آئے تو سنتوں کو الگ کرکے ان کے مطابق فیصلہ کرلیاکرو اور بدعتوں کواربابِ بدعت کے سپرد کردو۔ باقی جہاں تک طلاق کا معاملہ ہے تو وہ ایک معروف چیز ہے جبکہ قطعی ہونا ایک بدعت ہے جس کا مدار آدمی کی نیت پر ہے چاہے تو تقدم کرے اور چاہے توتاخر۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19135]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19135، ترقيم محمد عوامة 18445)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18446 ترقیم الشثری: -- 19136
١٩١٣٦ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابن علية عن ايوب عن نافع ان (رجلا) (١) جاء (بظئر) (٢) (له) (٣) إلى عاصم بن عمر وابن الزبير فقال: إن ظئري هذا طلق امراته البتة قبل ان يدخل بها فهل عندكما بذلك علم؟ او هل (تجدان) (٤) له رخصة (فقالا) (٥) : لا و (لكنا) (٦) تركنا ابن (عباس) (٧) وابا هريرة عند عائشة فاتهم فسلهم ثم ارجع إلينا فاخبرنا، فاتاهم فسالهم فقال له ابو هريرة: لا تحل له حتى ⦗١٩٧⦘ تنكح زوجا غيره (و) (٨) قال: ابن عباس: (بتت) (٩) وذكر (من) (١٠) عائشة متابعة لهما (١١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [جـ].
(٢) في [أ، ب، جـ]: (بطر).
(٣) سقط من: [أ، ب، س، ط، هـ].
(٤) في [أ]: (تجدا).
(٥) في [س]: (فقال).
(٦) في [أ، ب]: (ولكننا).
(٧) سقط من: [ط].
(٨) سقط من: [ط].
(٩) في [أ، ب، جـ]: (فثلاثا).
(١٠) في [أ، ب]: (عن).
(١١) صحيح.

حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا ابن علية، عن ايوب، عن نافع، ان ابن عمر جاء بظئر إلى عاصم بن عمر وابن الزبير، فقال: إن ظئري هذا طلق امراته البتة قبل ان يدخل بها , فهل عندكما بذلك علم؟ , او هل تجدان له رخصة، فقالا: لا ولكنا تركنا ابن عباس وابا هريرة عند عائشة , فاتهم , فسلهم ثم ارجع إلينا فاخبرنا , فاتاهم فسالهم , فقال له ابو هريرة:" لا تحل له حتى تنكح زوجا غيره"، وقال ابن عباس: بتت وذكر من عائشة متابعة لهما
حضرت نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما اپنی رضاعی ماں کے خاوند کو حضرت عاصم بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس لائے اور فرمایا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو دخول سے پہلے طلاق قطعی دے دی ہے، آپ کے پاس اس بارے میں کوئی علم ہے؟ یا آپ کے پاس اس بارے میں کوئی رخصت ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ ہمیں تو علم نہیں، تم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما، حضرت ابوہریرہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رضی اللہ عنہ م کے پاس جاؤ اور ان سے سوال کرو، پھر آکر ہمیں بھی بتاؤ۔ وہ گئے اور ان سے سوال کیا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب تک وہ دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے اس کے لئے حلال نہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وہ بائنہ ہوگئی۔ جبکہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے بھی انہی حضرات کی متابعت کو نقل کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19136]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19136، ترقيم محمد عوامة 18446)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18447 ترقیم الشثری: -- 19137
١٩١٣٧ - حدثنا ابو بكر قال: نا شريك عن سالم عن سعيد في البتة: إن نوى واحدة فواحدة، وإن نوى (ثلاثا) (١) (فثلاث) (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (فثلاثًا).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (ثلاثًا).

حدثنا ابو بكر، قال: نا شريك، عن سالم، عن سعيد في البتة:" إن نوى واحدة ؛ فواحدة , وإن نوى ثلاثا ؛ فثلاث"
حضرت سعید رحمہ اللہ طلاقِ قطعی کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اگر ایک کی نیت کی تو ایک طلاق اور اگر تین کی نیت کی تو تین طلاقیں ہوں گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19137]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19137، ترقيم محمد عوامة 18447)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18448 ترقیم الشثری: -- 19138
١٩١٣٨ - حدثنا ابو بكر قال: نا جرير بن عبد الحميد عن منصور عن إبراهيم قال: إن نوى طلاقا فادنى ما يكون من نيته في ذلك واحدة بائن، إن شاء وشاءت تزوجها وإن نوى (ثلاثا) (١) فثلاث.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، س، ك]: (فثلاثا).
حدثنا ابو بكر، قال: نا جرير بن عبد الحميد، عن منصور، عن إبراهيم، قال: " إن نوى طلاقا فادنى ما يكون من نيته في ذلك واحدة بائن، إن شاء وشاءت تزوجها , وإن نوى ثلاثا، فثلاث".
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر طلاق کی نیت کی ہے تو اس کی نیت کا کم از کم یعنی ایک طلاق بائنہ تو ہوجائے گی اگر چاہیں تو دوبارہ نکاح کرلیں اور اگر تین کی نیت کی تو تین طلاقیں ہوجائیں گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19138]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19138، ترقيم محمد عوامة 18448)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18449 ترقیم الشثری: -- 19139
١٩١٣٩ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابو الاحوص عن مغيرة عن إبراهيم قال: (يسال) (١) عن نيته.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (سئل).
حدثنا ابو بكر، قال: نا ابو الاحوص، عن مغيرة، عن إبراهيم، قال:" يسال عن نيته".
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی نیت کا پوچھا جائے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19139]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19139، ترقيم محمد عوامة 18449)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18450 ترقیم الشثری: -- 19140
١٩١٤٠ - حدثنا ابو بكر قال: نا حاتم بن وردان عن برد عن مكحول قال: هي ثلاث.
حدثنا ابو بكر، قال: نا حاتم بن وردان، عن برد، عن مكحول، قال:" هي ثلاث".
حضرت مکحول رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تین طلاقیں ہوں گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19140]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19140، ترقيم محمد عوامة 18450)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 18451 ترقیم الشثری: -- 19141
١٩١٤١ - حدثنا ابو بكر قال: نا إسماعيل بن عياش عن (عبيد الله) (١) بن عبيد عن مكحول والزهري قالا: ثلاث.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [خ]: (عبد اللَّه).
حدثنا ابو بكر، قال: نا إسماعيل بن عياش، عن عبيد الله بن عبيد , عن مكحول، والزهري، قالا:" ثلاث"
حضرت مکحول رحمہ اللہ اور حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تین طلاقیں ہوں گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19141]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19141، ترقيم محمد عوامة 18451)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں