🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم محمدعوامہ سے تلاش کل احادیث (39098)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم سعد الشژی سے تلاش کل احادیث (40754)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

177. في المتوفى عنها من قال: تعتد في بيتها
وہ عورت جس کا خاوند فوت ہوجائے جن حضرات کے نزدیک وہ اپنے خاوند کے گھر میں عدت گزارے گی
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 19188 ترقیم الشثری: -- 19946
١٩٩٤٦ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابو خالد الاحمر عن (سعد) (١) بن إسحاق عن زينب بنت كعب بن عجرة وكانت تحت ابي سعيد الخدري ان اخته (الفريعة) (٢) ابنة مالك (قالت: خرج زوجي) (٣) في طلب اعلاج له (فادركهم) (٤) (بطرف) (٥) (القدوم) (٦) (فقتلوه) (٧) فجاء نعي زوجي وانا في دار من دور الانصار (شاسعة) (٨) عن دور اهلي فاتيت (النبي ﷺ) (٩) فقلت: (يا رسول) (١٠) الله! إنه اتاني نعي زوجي وانا في دار (١١) شاسعة (١٢) عن دار اهلي، ولم يدع (مالا) (١٣) ينفق علي، ولا مال ورثته، ولا دار يملكها، فإن رايت ان تاذن فالحق دار اهلي او دار إخوتي، فإنه احب إلي واجمع ⦗٣٨٢⦘ إلي بعض امري (قال) (١٤) :" (فافعلي) (١٥) ان شئت"! قالت: فخرجت قريرة (عين) (١٦) لما قضى الله على لسان رسوله، حتى إذا كنت في المسجد او في بعض الحجرة، دعاني (فقال) (١٧) :"كيف زعمت؟" قالت: فقصصت عليه القصة، فقال:"امكثي في بيتك الذي كان فيه (نعي) (١٨) زوجك، حتى يبلغ الكتاب اجله" (قالت) (١٩) : (فاعتددت) (٢٠) فيه اربعة اشهر وعشرا (٢١) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، ز، ط، ك]: (سعيد).
(٢) في [ز]: (الفرجة)، وفي [هـ]: (فريعة).
(٣) تكرر في: [ك].
(٤) في [أ، ب]: (فأدرك).
(٥) في [س]: (في طرف).
(٦) في [س، ط]: (القدم).
(٧) في [س، ط]: (فقتاه).
(٨) في [س]: (شاشعة).
(٩) سقط من: [ز].
(١٠) في [س، ز، ط، ك]: (برسول).
(١١) زاد في [س، هـ]: (ودار إخوتي)، وفي [ك]: (ودار أخرجت).
(١٢) في [س]: (شاشعة).
(١٣) في [جـ، ع، ك]: (ما).
(١٤) سقط من: [ك].
(١٥) في [س]: (فعلي)، وفي [جـ]: (فافعل).
(١٦) في [جـ، ز، ك]: (عيني).
(١٧) في [هـ]: (فسأل).
(١٨) سقط من: [أ، س، ط، هـ].
(١٩) في [جـ]: (قال).
(٢٠) في [أ، ب، جـ، س، ط، هـ]: (فاعتدت).
(٢١) حسن؛ أبو خالد صدوق، وزينب معروفة العين، وذكرها ابن حبان في الثقات ٤/ ٢٧٠، وصحح حديثها الترمذي وجماعة، والحديث أخرجه أحمد (٢٧٠٨٧)، وأبو داود (٢٣٠٠)، والترمذي (١٢٠٤)، والنسائي ٦/ ٢٠٠، وابن حبان (٤٢٩٢)، والحاكم ٢/ ٢٠٨، وابن سعد ١/ ٣٦٧، والطبراني ٤/ (١٠٧٦)، ومالك (٥٩١)، والشافعي ٢/ ٥٣، والطحاوي ٣/ ٧٨، والدارمي (٢٢٨٧)، والبغوي (٣٨٦)، والطيالسي (١٦٦٤)، والبيهقي ٧/ ٤٣٤، وعبد الرزاق (١٢٠٧٥)، وابن الجارود (٧٥٩)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٣٣٢٩)، وابن عبد البر في التمهيد ٢١/ ٢٨ وسعد بن منصور (١٣٦٥).

حدثنا ابو بكر، قال: نا ابو خالد الاحمر ، عن سعد بن إسحاق , عن زينب بنت كعب بن عجرة وكانت تحت ابي سعيد الخدري , ان اخته فريعة ابنة مالك ، قالت: خرج زوجي في طلب اعلاج له فادركهم بطرف القدوم فقتلوه , فجاء نعي زوجي وانا في دار من دور الانصار شاسعة عن دور اهلي , فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم , فقلت: يا رسول الله , إنه اتاني نعي زوجي وانا في دار شاسعة عن دار اهلي، ودار إخوتي , ولم يدع مالا ينفق علي , ولا مالا ورثته , ولا دارا يملكها ؛ فإن رايت ان تاذن فالحق دار اهلي او دار إخوتي ؛ فإنه احب إلي واجمع لي في بعض امري؟ قال:" فافعلي إن شئت"، قالت: فخرجت قريرة عيني لما قضى الله على لسان رسوله حتى إذا كنت في المسجد , او في بعض الحجرة دعاني , فسال: كيف زعمت؟ قالت: فقصصت عليه القصة , فقال:" امكثي في بيتك الذي كان فيه زوجك حتى يبلغ الكتاب اجله" , قالت: فاعتددت فيه اربعة اشهر وعشرا
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی بہن حضرت فریعہ بنت مالک رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میرے خاوند اپنے عجمی غلاموں کی تلاش میں نکلے جو کہ فرار ہوگئے تھے۔ وہ انہیں مقام قدوم میں ملے جہاں انہوں نے میرے خاوند کو شہید کردیا۔ جب مجھے میرے خاوند کے انتقال کی خبر ملی تو اس وقت میں میں انصار کے ایک گھر میں تھی جو میرے اہل و عیال کے گھروں سے دور تھا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور میں نے عرض کیا کہ مجھے میرے خاوند کے انتقال کی خبر آپہنچی ہے اور میں ایک ایسے گھر میں ہوں جو میرے والدین اور میرے بھائیوں کے گھر سے دور ہے۔ میرے خاوند نے میرے لئے پیسے بھی نہیں چھوڑے جو مجھ پر خرچ کئے جائیں، نہ مال ہے جس کی میں وارث بنوں اور نہ ہی کوئی ایسا گھر ہے جس کے وہ مالک ہیں۔ اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں اپنے والدین اور اپنے بھائیوں کے گھر چلی جاؤں۔ یہ مجھے زیادہ پسند ہے اور اس میں میرے لئے زیادہ فائدہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جو چاہو کرلو۔ حضرت فریعہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فیصلہ سن کر میں اس حال میں باہرآئی کہ میری آنکھیں ٹھنڈی تھیں۔ پھر اس کے بعد میں مسجد میں تھی یا کسی کمرے میں تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ تم نے کیا فیصلہ کیا؟ میں نے سارا واقعہ سنایا تو آپ نے فرمایا کہ اس گھر میں ہی ٹھہری رہو جس میں تمہارے خاوند کے انتقال کی خبر آئی تھی یہاں تک کہ مدت پوری ہوجائے۔ وہ فرماتی ہیں کہ پھر میں نے چار مہینے اور دس دن وہیں گزارے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19946]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19946، ترقيم محمد عوامة 19188)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 19189 ترقیم الشثری: -- 19947
١٩٩٤٧ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابن (١) (عيينة) (٢) عن منصور عن إبراهيم عن ⦗٣٨٣⦘ علقمة ان نسوة من (همذان) (٣) قتل عنهن ازواجهن فقال عبد الله: يجتمعن (بالنهار) (٤) ويبتن في بيوتهن (٥) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س]: زيادة (أبي).
(٢) في [جـ]: (علية).
(٣) في [ط]: (همداني).
(٤) في [أ، ب]: (في النهار).
(٥) صحيح.

حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا ابن عيينة، عن منصور، عن إبراهيم، عن علقمة ان نسوة من همدان قتل عنهن ازواجهن , فقال عبد الله:" يجتمعن بالنهار , ويبتن في بيوتهن"
حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمدان کی کچھ عورتوں کے خاوندقتل کردیئے گئے تو حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے انہیں حکم دیا کہ وہ دن کو جمع ہوجایا کریں اور رات اپنے گھروں میں گزارا کریں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19947]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19947، ترقيم محمد عوامة 19189)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 19190 ترقیم الشثری: -- 19948
١٩٩٤٨ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابو (الاحوص) (١) عن منصور عن إبراهيم قال: توفي عن نسوة من همذان ازواجهن فاردن ان يجتمعن في بيت امراة منهن يعتددن فارسلن إلى ابن مسعود يسالنه قال: تعتد كل امراة في بيتها (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ]: (الأخوص).
(٢) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك ابن مسعود.

حدثنا ابو بكر، قال: نا ابو الاحوص ، عن منصور ، عن إبراهيم ، قال: توفي عن نسوة من همدان ازواجهن , فاردن ان يجتمعن في بيت امراة منهم يعتددن , فارسلن إلى ابن مسعود يسالنه؟ قال: " تعتد كل امراة في بيتها"
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمدان کی کچھ عورتوں کے خاوند قتل کردیئے گئے۔ انہوں نے ارادہ کیا کہ ان میں سے ایک عورت کے گھر میں عدت گزار لیں۔ اس بارے میں سوال کرنے کے لئے انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس کسی کو بھیجا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہر عورت اپنے گھر میں عدت گزارے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19948]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19948، ترقيم محمد عوامة 19190)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 19191 ترقیم الشثری: -- 19949
١٩٩٤٩ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابن علية عن ايوب عن يوسف بن ماهك عن امه (مسيكة) (١) ان امراة زارت اهلها، وهي في عدة (فتمخضت) (٢) (عندهن) (٣) ، (فبعثوني) (٤) إلى عثمان بعد (ما) (٥) صلى العشاء واخذ مضجعه فقلت: إن فلانة زارت اهلها، وهي في عدتها، وهي (تمخض) (٦) فما تامرني؟ (قال) (٧) : (فآمر ⦗٣٨٤⦘ بها) (٨) ان تحمل إلى (بيتها) (٩) في تلك الحال (١٠) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (سيكة).
(٢) في [أ، ب]: (فمتحضت)، والمراد: قرب الولادة.
(٣) في [خ]: (عندهم).
(٤) في [أ، ب، س]: (فنعت)، وفي [جـ، ز، ك]: (فبعثن)، وفي [ط، هـ]: (فبعث).
(٥) في [هـ]: (أن).
(٦) في [أ، ب]: (تمحض)، وفي [جـ]: (تحض).
(٧) في [س]: (فقال).
(٨) في [س]: (آمرها).
(٩) في [أ، ب]: (ابنتها).
(١٠) مجهول؛ لجهالة مسيكة.

حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا ابن علية، عن ايوب، عن يوسف بن ماهك، عن امه مسيكة، ان امراة زارت اهلها وهي في عدة , فتمخضت عندهن , فبعثوني إلى عثمان بعدما صلى العشاء واخذ مضجعه , فقلت: إن فلانة زارت اهلها، وهي في عدتها , وهي تمخض فما تامرني؟ قال:" فامر بها ان تحمل إلى بيتها في تلك الحال"
حضرت مسیکہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک عورت عدت میں اپنے گھروالوں سے ملاقات کرنے گئی۔ وہاں اس کے بچے کی ولادت کا وقت قریب آگیا۔ ان لوگوں نے مجھے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا کہ میں ان سے اس بارے میں سوال کروں۔ اس وقت وہ عشاء کی نماز پڑھ کر اپنے بستر پرجاچکے تھے۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ فلاں عورت اپنی عدت میں اپنے گھروالوں سے ملاقات کے لئے گئی تھی وہاں اسے بچے کی پیدائش کا درد ہونے لگا ہے۔ آپ اس کے بارے میں مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ اسے اسی حال میں اس کے گھر لے جایا جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19949]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19949، ترقيم محمد عوامة 19191)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 19192 ترقیم الشثری: -- 19950
١٩٩٥٠ - حدثنا ابو بكر قال: نا وكيع عن علي بن مبارك عن يحيى بن ابي كثير عن ابن ثوبان: ان امراة توفي عنها زوجها، وبها فاقة، فسالت (عمر: ان) (١) تاتي اهلها؟ فرخص لها ان تاتي اهلها بياض يومها (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عمران).
(٢) منقطع؛ ابن ثوبان لم يدرك عمر.

حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا وكيع، عن علي بن مبارك، عن يحيى بن ابي كثير، عن ابن ثوبان، ان امراة توفي عنها زوجها وبها فاقة , فسالت عمر ان تاتي اهلها؟" فرخص لها ان تاتي اهلها بياض يومها"
حضرت ابن ثوبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت کے خاوند کا انتقال ہوگیا اور وہ فاقہ کا شکار تھی۔ اس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اجازت چاہی کہ وہ اپنے گھروالوں کے پاس چلی جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اس بات کی رخصت دے دی کہ دن کی روشنی میں وہاں چلی جایا کرے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19950]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19950، ترقيم محمد عوامة 19192)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 19193 ترقیم الشثری: -- 19951
١٩٩٥١ - حدثنا ابو بكر قال: نا وكيع عن علي بن مبارك عن يحيى بن ابي كثير عن محمد بن عبد الرحمن ان امراة من الانصار توفي عنها زوجها فسالت زيد بن ثابت فلم يرخص لها إلا في بياض يومها (او) (١) ليلتها (٢) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (و).
(٢) صحيح.

حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا وكيع، عن علي بن مبارك، عن يحيى بن ابي كثير، عن محمد بن عبد الرحمن، ان امراة من الانصار توفي عنها زوجها , فسالت زيد بن ثابت،" فلم يرخص لها إلا في بياض يومها اوليلتها"
حضرت محمد بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انصار کی ایک عورت کا خاوند فوت ہوگیا۔ اس نے اپنے گھر والوں کے پاس جانے کے بارے میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے سوال کیا تو انہوں نے اسے روشنی میں ان کے پاس جانے کی اجازت دے دی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19951]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19951، ترقيم محمد عوامة 19193)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 19194 ترقیم الشثری: -- 19952
١٩٩٥٢ - حدثنا ابو بكر قال: نا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: كانت امراة تعتد من زوجها توفي عنها (فاشتكى) (١) ابوها فارسلت إلى ام سلمة تسالها: (اتاتي) (٢) اباها تمرضه؟ فقالت: إذا كنت (احد) (٣) طرفي النهار في بيتك (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: (فاستكى)، وفي [جـ، س]: (فأشكى).
(٢) في [س، هـ]: (تأتي).
(٣) في [جـ، س، ز، ط، ك]: (إحدى).
(٤) منقطع؛ إبراهيم لم يدرك أم سلمة.

حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا جرير، عن منصور، عن إبراهيم، قال: كانت امراة تعتد من زوجها ؛ توفي عنها , فاشتكى ابوها، فارسلت إلى ام سلمة تسالها: تاتي اباها تمرضه؟ فقالت:" إذا كنت احد طرفي النهار في بيتك"
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہوگیا تھا اور وہ عدت میں تھی۔ اس دوران اس عورت کے والد بیمار ہوگئے۔ اس نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیج کر سوال کیا کہ کیا وہ اپنے والد کی تیمارداری کے لئے جاسکتی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر دن کے ایک کنارے میں اپنے گھر میں رہو تو جاسکتی ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19952]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19952، ترقيم محمد عوامة 19194)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 19195 ترقیم الشثری: -- 19953
١٩٩٥٣ - حدثنا ابو بكر قال: نا وكيع عن إسماعيل قال: سمعت إبراهيم (يقول) (١) : المتوفى عنها زوجها لا تبيت (في غير) (٢) بيتها.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) في [خ]: (عن).

حدثنا ابو بكر، قال: نا وكيع، عن إسماعيل، قال: سمعت إبراهيم , يقول: " المتوفى عنها زوجها لا تبيت في غير بيتها"
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس عورت کا خاوند فوت ہوگیا ہو وہ اپنے گھر کے علاوہ کہیں رات نہیں رہ سکتی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19953]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19953، ترقيم محمد عوامة 19195)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 19196 ترقیم الشثری: -- 19954
١٩٩٥٤ - حدثنا ابو بكر قال: نا وكيع عن اسامة بن زيد عن نافع ان امراة توفي زوجها [ (فاعتدت) (١) في (غير) (٢) بيتها يوما، فامرها ابن عمر ان تقضيه] (٣) (٤) .

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (اعتدت)، وفي [ب]: (انقتعل).
(٢) سقط من: [أ، ب، س، هـ].
(٣) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٤) حسن؛ أسامة بن زيد صدوق.

حدثنا ابو بكر، قال: نا حدثنا ابو بكر، قال: نا وكيع، عن اسامة بن زيد، عن نافع، ان امراة توفي زوجها فاعتدت في غير بيتها يوما" فامرها ابن عمر ان تقضيه"
حضرت نافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت جس کا خاوند فوت ہوگیا تھا اس نے عدت کے دنوں میں سے ایک دن اپنے گھر کے علاوہ کہیں گزارا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے وہ دن قضا کرنے کا حکم دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19954]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19954، ترقيم محمد عوامة 19196)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عوامۃ: 19197 ترقیم الشثری: -- 19955
١٩٩٥٥ - (حدثنا ابو بكر قال: نا ابو اسامة عن هشام بن عروة قال: سالت ابي عن المتوفى عنها زوجها) (١) اتنتقل؟ قال: لا! إلا ان ينتقل اهلها (فتنتقل) (٢) معهم.

ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط ما بين المعكوفين من: [أ، ب].
(٢) في [س]: (فتنقل).

حدثنا ابو بكر، قال: نا ابو اسامة، عن هشام بن عروة، قال: سالت ابي عن " المتوفى عنها زوجها , اتنتقل؟ قال: لا! إلا ان ينتقل اهلها , فتنتقل معهم"
حضرت ہشام بن عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے سوال کیا کہ وہ عورت جس کا خاوند فوت ہوگیا ہو کیا وہ شہر چھوڑ سکتی ہے؟ انہوں نے فرمایا نہیں۔ البتہ اگر اس کے گھر والے چھوڑ رہے ہوں تو چھوڑ سکتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 19955]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 19955، ترقيم محمد عوامة 19197)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں