مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
225. ما قالوا في الرجل يطلق امرأته ولها ولد صغير
اگر کوئی شخص کسی عورت کو طلاق دے اور اس کا چھوٹا بچہ ہو تو وہ کس کے پاس رہے گا؟
ترقیم عوامۃ: 19455 ترقیم الشثری: -- 20243
٢٠٢٤٣ - حدثنا ابو بكر قال: نا مروان بن معاوية عن عاصم عن عكرمة قال: (خاصم) (١) عمر ام عاصم في عاصم إلى ابي بكر، فقضى لها به ما لم يكبر او (تتزوج) (٢) ، فيختار (لنفسه) (٣) قال: هي اعطف والطف وارق و (احنا) (٤) وارحم (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (عاصم).
(٢) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (يتزوج).
(٣) في [س]: (نفسه).
(٤) في [هـ]: (أرضى)، وفي [ز]: (أحيا).
(٥) منقطع؛ عكرمة لم يسمع من عمر.
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ام عاصم کو فریق بنا کر حضرت عاصم کی پرورش کا مسئلہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پیش کیا۔ انہوں نے فیصلہ فرمایا کہ بچہ حضرت ام عاصم کے پاس رہے گا جب تک بالغ نہ ہوجائے اور یا جب تک شادی نہ کرلے۔ اور فرمایا کہ ماں بچے پر زیادہ مہربان، رحم کرنے والی، نرم دل اور شفقت کرنے والی ہوتی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20243]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20243، ترقيم محمد عوامة 19455)
ترقیم عوامۃ: 19456 ترقیم الشثری: -- 20244
٢٠٢٤٤ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابن عيينة عن يزيد بن يزيد (بن) (١) جابر عن إسماعيل بن (عبيد الله) (٢) عن عبد الرحمن بن (غنم) (٣) قال: شهدت عمر خير صبيا بين ابيه وامه (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (عن).
(٢) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (عبد اللَّه).
(٣) في [س]: (عم)، وفي [هـ]: (عمر).
(٤) صحيح.
حضرت عبد الرحمن بن غنم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بچے کو ماں اور باپ کے درمیان اختیار دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20244]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20244، ترقيم محمد عوامة 19456)
ترقیم عوامۃ: 19457 ترقیم الشثری: -- 20245
٢٠٢٤٥ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابن علية عن ايوب ويونس عن ابن سيرين عن ⦗٤٥٨⦘ شريح قال: الاب (احق) (١) ، و (الام) (٢) ارفق.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [خ]: (أحسن).
(٢) في [ط]: (الأمم).
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ باپ زیادہ حقدار ہے اور ماں زیادہ نرمی کرنے والی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20245]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20245، ترقيم محمد عوامة 19457)
ترقیم عوامۃ: 19458 ترقیم الشثری: -- 20246
٢٠٢٤٦ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابو معاوية عن زياد (بن) (١) سعد او (حدثت) (٢) عنه عن هلال بن ابي ميمونة عن (ابيه) (٣) عن ابي هريرة ان رسول الله ﷺ خير صبيا بين ابويه (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س، ط]: (عن).
(٢) في [س، ط، هـ]: (حدث)؛ والشك من أبي معاوية أو زياد بن سعد وفي سنن البيهقي ٣/ ٨، ومعرفة السنن والآثار ٦/ ١٢٢، أن الشك من سفيان بن عيينة.
(٣) هكذا رواه أبو معاوية، ورواه كذلك هارون بن معروف عن ابن عيينة عن زياد عند البيهقي ٣/ ٨، وانظر: تلخيص الحبير ٤/ ١٢، والبدر المنير ٨/ ٣٢٧، قال في معرفة علوم الحديث ١/ ١٨٥: قال أبو عبد اللَّه: هلال بن أبي ميمونة عن أبيه عن أبي هريرة أبو ميمونة اسمه أسامة، لكن صرح آخرون بأنه ليس أباه ففي شرح مشكل الآثار ٨/ ٩٧، من طريق ابن المبارك عن ابن عيينة عن زياد عن هلال بن أبي ميمونة عن أبي ميمونة قال: وليس بأبيه وفي أحاديث أبي عروبة الحراني ١/ ٣٨ (١٥): حدثنا المسيب عن ابن عيينة عن زياد بن سعد عن هلال بن أبي ميمونة عن أبي ميمونة وليس بأبيه)، وانظر: تهذيب الكمال ٢٤/ ٣٣٨ و ٣٣٩: قال: "وقيل: إنه والد هلال بن أبي ميمونة، والصحيح أنه ليس بوالده"، وفي تلقيح فهوم أهل الأثر ص ٤١١: "وأبو ميمونة هذا اسمه سلم الأعرابي وقد وهم بعضهم فقال: عن هلال بن أبي ميمونة عن أبيه فظنه أباه وليس كذلك؛ لأن هذا هلال بن علي وقيل: هلال بن أسامة، ويقال: هل بن علي بن أسامة، وأبو ميمونة اسمه سليم"، وانظر: تحفة الأحوذي ٤/ ٤٩٢، ومرقاة المفاتيح ٦/ ٤٩٤، وتعليق أحمد شاكر على مسند أحمد ١٣/ ٧٥ (٧٣٤٦).
(٤) محتمل الا نقطاع، أخرجه أحمد (٧٣٥٢)، والترمذي (١٣٥٧)، وأبو داود (٢٢٧٧)، والنسائي ٦/ ١٨٥، والدارمي (٢٢٩٣)، والحميدي ١٠٨٣، والطحاوي في شرح المشكل (٣٠٨٥)، والبيهقي ٨/ ٣، والحاكم ٤/ ٩٧، والشافعي في الأم ٥/ ٩٢، وابن حزم في المحلى ١٠/ ٣٢٦، وابن حبان كما في موارد الظمآن (١٢٠٠)، وأبو يعلى (٦١٣١).
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کو ماں باپ کے درمیان اختیار دیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20246]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20246، ترقيم محمد عوامة 19458)
ترقیم عوامۃ: 19459 ترقیم الشثری: -- 20247
٢٠٢٤٧ - حدثنا ابو بكر قال: نا (١) ابن علية عن يونس عن الحسن قال: هي احق بولدها وإن تزوجت.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة (يعلى).
حضرت حسن فرماتے ہیں عورت بچے کی زیادہ حق دار ہے خواہ شادی بھی کرلے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20247]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20247، ترقيم محمد عوامة 19459)
ترقیم عوامۃ: 19460 ترقیم الشثری: -- 20248
٢٠٢٤٨ - حدثنا ابو بكر قال: نا يعلى بن عبيد عن عبيدة عن إبراهيم قال: إذا طلق الرجل امراته فهي احق بولدها ما لم (تتزوج) (١) او تخرج به من الارض.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، ز، ط، ك]: (تزوج)، وفي [س]: (يتزوج).
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو عورت اس وقت تک بچے کی زیادہ حق دار ہے جب تک شادی نہ کرلے اور جب تک وہ علاقہ نہ چھوڑنا چاہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20248]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20248، ترقيم محمد عوامة 19460)
ترقیم عوامۃ: 19461 ترقیم الشثری: -- 20249
٢٠٢٤٩ - حدثنا ابو بكر قال: نا (عبيد الله) (١) عن إسرائيل عن جابر عن عامر عن مسروق انه خير صبيا بين ابويه: ايهما يختار.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س، هـ]: (عبد اللَّه).
حضرت مسروق رحمہ اللہ نے ماں باپ کے بارے میں بچے کو اختیار دیا تھا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20249]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20249، ترقيم محمد عوامة 19461)
ترقیم عوامۃ: 19462 ترقیم الشثری: -- 20250
٢٠٢٥٠ - حدثنا ابو بكر قال: نا وكيع عن علي بن مبارك عن يحيى (عن) (١) ابي ميمونة عن ابي هريرة قال: جاءت امراة إلى رسول الله ﷺ (قد) (٢) طلقها زوجها فارادت ان تاخذ ولدها قال: فقال رسول الله ﷺ:"استهما فيه"، فقال الرجل: من يحول بيني وبين ابني؟ فقال رسول الله ﷺ للابن:"اختر: ايهما شئت"، قال: فاختار امه فذهبت به (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س، ط، هـ]: (بن).
(٢) في [هـ]: (وقد).
(٣) صحيح؛ أبو ميمونة ثقة، أخرجه أحمد (٩٧٧١)، وأبو داود (٢٢٧٧)، والنسائي ٦/ ١٨٥، وابن ماجه (٢٣٥١)، والترمذي (١٣٥٧)، والشافعي في الأم ٥/ ٩٢، والحاكم ٤/ ٩٧، والحميدي (١٠٨٣)، والبيهقي ٨/ ٣، والدارمي (٢٢٩٣).
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ اس کے خاوند نے اسے طلاق دے دی تھی۔ وہ عورت اپنا بچہ لینا چاہتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میاں بیوی بچے کے بارے میں قرعہ اندازی کرلو۔ آدمی نے کہا کہ میرے اور میرے بچے کے درمیان کون حائل ہوسکتا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے سے فرمایا کہ جس کو چاہو اختیار کرلو۔ بچے نے ماں کو اختیار کرلیا اور وہ اسے لے کر چلی گئی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20250]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20250، ترقيم محمد عوامة 19462)
ترقیم عوامۃ: 19463 ترقیم الشثری: -- 20251
٢٠٢٥١ - حدثنا ابو بكر قال: نا حفص عن (مجالد) (١) عن الشعبي ان ابا بكر ⦗٤٦٠⦘ قضى بعاصم بن عمر لامه وقضى على عمر بالنفقة (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط]: (مجاهد).
(٢) ضعيف منقطع؛ مجالد ضعيف، والشعبي لم يدرك أبا بكر.
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عاصم بن عمر کا فیصلہ ان کی والدہ کے حق میں کیا اور بچے کانفقہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر لازم کیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20251]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20251، ترقيم محمد عوامة 19463)
ترقیم عوامۃ: 19464 ترقیم الشثری: -- 20252
٢٠٢٥٢ - حدثنا ابو بكر قال: نا محمد بن بشر قال: نا سعيد بن ابي عروبة عن قتادة عن سعيد بن المسيب ان عمر بن الخطاب طلق (١) ام عاصم ثم (اتى) (٢) عليها و (٣) في حجرها عاصم، فاراد ان ياخذه منها، فتجاذباه بينهما حتى بكى الغلام، فانطلقا إلى ابي بكر، فقال له ابو بكر: يا عمر! مسحها وحجرها وريحها خير له منك حتى يشب الصبي فيختار (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب]: زيادة (امرأته).
(٢) في [أ، ب، ز، ط، ك]: (أتانا)، وفي [س، هـ]: (أتاها).
(٣) في [ز]: زيادة (هي).
(٤) صحيح.
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت ام عاصم کو طلاق دے دی، پھر وہ ان کی گود میں سے حضرت عاصم کو لینے کے لئے آئے۔ ان دونوں نے بچے کو حاصل کرنا چاہا تو بچہ روپڑا۔ دونوں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ ماں کا پیار، ماں کی گود اور ماں کی خوشبو بچے کے لئے تم سے بہتر ہے۔ جب بچہ بڑا ہوگا تو وہ خود اختیار کرلے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب الطلاق/حدیث: 20252]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 20252، ترقيم محمد عوامة 19464)