مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
16. الرجل يسن الرجل السكنى
ایک آدمی دوسرے کو کسی مکان میں ٹھہرا لے تو کیا حکم ہے؟
ترقیم عوامۃ: 20483 ترقیم الشثری: -- 21314
٢١٣١٤ - حدثنا علي بن مسهر عن (عبد الله) (١) عن نافع ان حفصة بنت عمر اسكنت اسماء بنت زيد حجرة لها حياتها، فلما توفيت حفصة قبض ابن عمر الحجرة (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ، س، ط]: (عبيد اللَّه).
(٢) ضعيف؛ لضعف عبد اللَّه.
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہ نے اسماء بنت یزید کو ان کی پوری زندگی کے لیے اپنے کمرے میں ٹھہرایا۔ جب حضرت حفصہ کا انتقال ہوگیا تو وہ کمرہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حاصل کرلیا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21314]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21314، ترقيم محمد عوامة 20483)
ترقیم عوامۃ: 20484 ترقیم الشثری: -- 21315
٢١٣١٥ - حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن خالد الحذاء قال: كتب عمر بن عبد العزيز ان السكنى عارية. فإذا قال: هي له و (لعقبه) (١) ، (فهي له و (لعقبه) ) (٢) (٣) ما بقيت منهم امراة، فإذا انقرضوا جميعا رجعت إلى ورثته.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (تعقبه).
(٢) في [س]: (تعقبه).
(٣) سقط من: [ع].
حضرت عمر بن عبد العزیز نے خط میں لکھا کہ رہائش عاریہ کی چیز ہے۔ اگر رہائش دینے والا کہے کہ یہ اس کے لیے اور اس کے بعد آنے والوں کے لیے ہے تو یہ اس کے لیے اور اس کے بعد آنے والوں کے لیے ہوگی۔ جب تک ان میں سے ایک عورت بھی باقی رہے۔ اگر ایک عورت بھی باقی نہ رہے تو ورثاء کی طرف لوٹ جائے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21315]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21315، ترقيم محمد عوامة 20484)
ترقیم عوامۃ: 20485 ترقیم الشثری: -- 21316
٢١٣١٦ - حدثنا ابن ابي زائدة عن عبد الملك عن عطاء في الرجل يسكن الرجل له و (لعقبه) (١) ثم يموت. قال: لاتستطيع ورثته ان يخرجوه ولا عقبه ما بقي منهم احد.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (تعقبه).
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے کسی آدمی کو اور اس کے بعد والوں کو اپنے کسی مکان میں ٹھہرایا پھر وہ مرگیا تو ورثاء اسے اور اس کے بعد والوں کو نکال نہیں سکتے جب تک ان میں سے ایک فرد بھی باقی ہو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21316]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21316، ترقيم محمد عوامة 20485)
ترقیم عوامۃ: 20486 ترقیم الشثری: -- 21317
٢١٣١٧ - حدثنا وكيع عن السائب (بن) (١) عمر عن ابن ابي مليكة قال: كانت عائشة إذا اسكنت قالت: اسكنتك ما بدا لي (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س، ز، ط، هـ]: (عن).
(٢) صحيح.
حضرت ابن ابی ملیکہ فرماتی ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جب کسی کو اپنے کسی مکان میں ٹھہراتیں تو فرماتیں کہ میں تمہیں اس وقت تک کے لیے ٹھہراتی ہوں جب تک مناسب سمجھوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21317]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21317، ترقيم محمد عوامة 20486)
ترقیم عوامۃ: 20487 ترقیم الشثری: -- 21318
٢١٣١٨ - حدثنا ابن ابي زائدة عن حجاج عن عثمان ابن اخي شريح عن شريح قال: السكنى (على) (١) ما اشترط صاحبها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، س، ط، هـ].
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ کسی کو رہائش دینے کا معاملہ صاحب مکان کی صوابدید پر ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21318]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21318، ترقيم محمد عوامة 20487)
ترقیم عوامۃ: 20488 ترقیم الشثری: -- 21319
٢١٣١٩ - حدثنا حفص عن حجاج (عن عثمان) (١) عن شريح بنحوه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [أ، ب].
ایک اور سند سے یونہی منقول ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21319]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21319، ترقيم محمد عوامة 20488)
ترقیم عوامۃ: 20489 ترقیم الشثری: -- 21320
٢١٣٢٠ - حدثنا حفص عن اشعث عن الحسن والشعبي (قالا) (١) : (السكنى) (٢) عارية.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، ز، ط، ك]: (قال).
(٢) في [س]: (لا سكنى إلا).
حضرت حسن اور حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ رہائش عاریہ کی چیز ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21320]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21320، ترقيم محمد عوامة 20489)
ترقیم عوامۃ: 20490 ترقیم الشثری: -- 21321
٢١٣٢١ - (حدثنا) (١) هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: سالته عن رجل اسكن رجلا داره، فمات المسكن و (المسكن) (٢) قال: يرجع إلى (ورثة) (٣) المسكن؛ قال: قلت: يا (ابا) (٤) عمران (اليس) (٥) كان (يقال) (٦) : من ملك شيئا حياته فهو لورثته من بعده، قال: إنما (ذلك) (٧) في العمرى، فاما السكنى والغلة والعارية فإنها ترجع إلى ورثتها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ، س، ز]: (ثنا).
(٢) في [أ، ب]: (الساكن)، وفي [جـ، س، ز، ط، ك]: (السكن).
(٣) في [س، ك]: (ورثته).
(٤) في [ط، هـ]: (وأنا)، وفي [أ، ب]: (فأنا).
(٥) في [أ، ب، هـ]: (السر).
(٦) في [ب، هـ]: (يقول).
(٧) في [جـ، ك]: (ذاك)، وكذلك [ط].
حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم سے سوال کیا کہ اگر ایک آدمی کسی کو اپنے گھر میں ٹھہرائے، پھر ٹھہرانے والا اور ٹھہرا ہوا انتقال کر جائے تو کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ مکان ورثاء کے پاس آجائے گا۔ میں نے عرض کیا اے ابو عمران! کیا یہ نہیں کہا جاتا تھا کہ جو شخص کسی کو تاحیات کسی چیز کا مالک بنائے تو وہ اس کے بعد اس کے ورثاء کی ہوتی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ یہ آباد کی جانے والی زمینوں میں ہوتا ہے۔ رہائش، غلہ اور عاریہ ورثاء کی طرف لوٹتے ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21321]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21321، ترقيم محمد عوامة 20490)
ترقیم عوامۃ: 20491 ترقیم الشثری: -- 21322
٢١٣٢٢ - حدثنا عبد الاعلى عن معمر عن الزهري قال: إذا وهب الرجل شيئا فقال: هو لك ولعقبك، فهو له ولورثته، وإذا قال: هي لك حياتك، فهي راجعة إليه.
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ اگر ایک آدمی نے کسی کو کوئی چیز سپرد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تیرے لیے اور تیرے گھر والوں کے لیے ہے، تو وہ اس کے لیے اور اس کے ورثاء کے لیے ہوگی اور اگر یہ کہا کہ یہ تیری زندگی میں تیرے لیے ہے تو یہ ہدیہ کرنے والے کے ورثاء کی طرف لوٹے گی۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21322]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21322، ترقيم محمد عوامة 20491)
ترقیم عوامۃ: 20492 ترقیم الشثری: -- 21323
٢١٣٢٣ - حدثنا ابن ابي (غنية) (١) عن ابيه عن الحكم قال: السكنى عارية.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، س]: (عتبة)، وفي [جـ]: (عقبه)، وفي [ط]: (عنبة).
حضرت ابراہیم فرماتے ہیں کہ رہائش عاریہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21323]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21323، ترقيم محمد عوامة 20492)