مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
47. في النفقة تضم إلى رأس المال
خرچ کو رأس المال کے ساتھ ملایا جائے گا
ترقیم عوامۃ: 20779 ترقیم الشثری: -- 21624
٢١٦٢٤ - حدثنا ابو بكر قال: (نا) (١) عبدة بن سليمان عن سعيد بن ابي عروبة عن خالد الحذاء عن ابي معشر عن إبراهيم عن ابن مسعود (٢) كان لا يرى باسا ان يبيع الرجل المتاع العشرة (اثني) (٣) عشرة ما لم ياخذ للنفقة ربحا (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (ثنا).
(٢) في [جـ]: زيادة (أنه).
(٣) في [أ، ب، ز، ك]: (اثنا).
(٤) منقطع؛ إبراهيم لا يروي عن ابن مسعود.
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس بات کو درست قرار دیتے تھے کہ آدمی دس کی چیز کو بارہ میں بیچے جب تک کہ خرچ پر نفع نہ لے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21624]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21624، ترقيم محمد عوامة 20779)
ترقیم عوامۃ: 20780 ترقیم الشثری: -- 21625
٢١٦٢٥ - حدثنا ابو بكر قال: (نا) (١) عبدة (٢) عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب انه كره إذا باع الرجل المتاع مرابحة ان (٣) ياخذ للنفقة ربحا.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ب، جـ]: (ثنا).
(٢) في [ع]: زيادة (بن سليمان).
(٣) في [جـ]: زيادة (لم).
حضرت سعید بن مسیب نے اس بات کو مکروہ قرار دیا کہ آدمی بیع مرابحہ کرتے ہوئے خرچ پر بھی نفع لے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21625]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21625، ترقيم محمد عوامة 20780)
ترقیم عوامۃ: 20781 ترقیم الشثری: -- 21626
٢١٦٢٦ - حدثنا ابو بكر قال: نا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة عن الحسن انه كان لا يرى بذلك باسا.
حضرت حسن اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21626]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21626، ترقيم محمد عوامة 20781)
ترقیم عوامۃ: 20782 ترقیم الشثری: -- 21627
٢١٦٢٧ - حدثنا ابو بكر قال: (ثنا) (١) عبد الوهاب الثقفي عن ايوب عن محمد انه كان لا يرى باسا ان ياخذ للنفقة (ربحا) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز، س، ك]: (نا).
(٢) في [ط]: (ريحًا).
حضرت محمد خرچ پر نفع لینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21627]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21627، ترقيم محمد عوامة 20782)
ترقیم عوامۃ: 20783 ترقیم الشثری: -- 21628
٢١٦٢٨ - حدثنا ابو بكر قال: نا وكيع عن سفيان عن خالد عن ابن سيرين قال: لا باس ان يحسب النفقة على المتاع.
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ خرچ کو سامان میں شمار کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21628]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21628، ترقيم محمد عوامة 20783)
ترقیم عوامۃ: 20784 ترقیم الشثری: -- 21629
٢١٦٢٩ - حدثنا ابو بكر قال: نا ابو معاوية عن عبد الرحمن بن عجلان قال: قلت لإبراهيم: إنا نشتري المتاع، ثم (نزيد) (١) عليه (القصارة) (٢) والكراء، ثم (نبيعه) (٣) (بزيادة) (٤) قال: لا باس.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [س]: (يزيد).
(٢) في [أ، ب، جـ، ز]: (العصارة).
(٣) في [س]: (يبيعه).
(٤) في [ط]: (بدهنازده)، وفي [س]: (مدهنارده)، وفي [جـ]: (به مرابحه)، وفي [هـ]: (بدهيازده).
حضرت عبدا لرحمن بن عجلان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم سے سوال کیا کہ ہم لوگ سامان خریدتے ہیں اور پھر اس پر بار برداری اور کرایہ وغیرہ ڈال کر اسے نفع کے ساتھ بیچتے ہیں کیا یہ درست ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ اس میں کچھ حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21629]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21629، ترقيم محمد عوامة 20784)
ترقیم عوامۃ: 20785 ترقیم الشثری: -- 21630
٢١٦٣٠ - حدثنا ابو بكر قال: نا (عبيد الله) (١) عن حنظلة عن طاوس انه سئل عن الرجل يشتري (البر) (٢) (فيتكارى) (٣) له، اياخذ له ربحا؟ قال: إذا بين.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ، س]: (عبيد اللَّه).
(٢) في [أ، ب، هـ]: (البر).
(٣) في [س]: (فيكارى).
حضرت طاوس سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی گندم خریدتا ہے اور پھر اس کا کرایہ بھی ادا کرتا ہے، کیا اس پر نفع لے گا؟ انہوں نے فرمایا کہ جب اس کو بیان کر دے تو کوئی حرج نہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21630]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21630، ترقيم محمد عوامة 20785)
ترقیم عوامۃ: 20786 ترقیم الشثری: -- 21631
٢١٦٣١ - حدثنا ابو بكر قال: نا يزيد بن هارون عن عبد الملك عن عطاء في الرجل يبيع مرابحة، ياخذ ربحا (للكراء) (١) ؟ قال: ياخذ ربح ما ⦗٣٦٠⦘ (نقد) (٢) في الارض التي خرج منها إن شاء، وما (نقد) (٣) في (البلد) (٤) الذي باع فيه فلا ياخذ (ربحه) (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (لكراء)، وفي [س]: (بكراء).
(٢) في [أ، ب، س، ط، ز، هـ]: (نفد).
(٣) في [أ، ب، س، ط، ز، هـ]: (نفد).
(٤) في [س، ز]: (البلدة).
(٥) في [ط، هـ]: (ربحًا).
حضرت عطاء سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی کسی چیز کو نفع کے ساتھ بیچتا ہے اور کرائے پر بھی منافع لیتا ہے تو کیا یہ درست ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ جو کچھ اس نے اس زمین پر خرچ کیا ہے جس سے وہ نکلا ہے اس کا نفع تو لے گا اور جو کچھ اس نے اس شہر میں خرچ کیا جہاں بیچا ہے اس کا نفع نہیں لے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 21631]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 21631، ترقيم محمد عوامة 20786)