مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
148. من كره للرجل أن يبيع البيع ويستثني بعضه
جو حضرات اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ کوئی شخص بیع کرے اور اس میں بعض مجہول حصہ مستثنیٰ کر لے
ترقیم عوامۃ: 21600 ترقیم الشثری: -- 22506
٢٢٥٠٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن علية عن ايوب عن (ابي) (١) الزبير عن جابر ان النبي ﷺ نهى عن (الثنيا) (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ، ح]: (ابن).
(٢) في [ز]: (الثنيات).
(٣) صحيح؛ أخرجه مسلم (١٥٣٦)، وأحمد (١٤٣٥٨).
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ بیع کر کے اس میں کچھ حصہ (مجہول) الگ کرلیا جائے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22506]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22506، ترقيم محمد عوامة 21600)
ترقیم عوامۃ: 21601 ترقیم الشثری: -- 22507
٢٢٥٠٧ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن علية عن ايوب عن عمرو بن شعيب قال: قلت لسعيد بن المسيب: ابيع (ثمرة) (١) ارضي واستثني؟ قال: لا تستثن إلا شجرا معلوما، ولا تبران من الصدقة.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ع]: (تمر)، وفي [هـ]: (ثمرة).
حضرت عمرو بن شعیب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ: میں اپنی زمین کے پھل فروخت کر کے اس میں سے کچھ حصہ الگ کرسکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا مستثنیٰ نہ کرو، اگر کرنا ہے تو ایک معین درخت الگ کرلو، لیکن اس کو بھی صدقہ سے بری نہ کرنا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے اس رائے کو پسند فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22507]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22507، ترقيم محمد عوامة 21601)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 22508
٢٢٥٠٨ - قال: فذكرته لمحمد بن سيرين فكانه اعجبه.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22508، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 21602 ترقیم الشثری: -- 22509
٢٢٥٠٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية وابن ابي زائدة عن ابن عون عن القاسم، قال: لولا ان ابن عمر كره (الثنيا) (١) وكان عندنا مرضيا (٢) ما راينا بذلك باسا (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (الثنيات).
(٢) في [ط]: زيادة (قال).
(٣) صحيح.
حضرت قاسم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بعض مجہول حصہ الگ کرنے کو ناپسند نہ کرتے اور ہماری اپنی مرضی ہوتی تو ہم لوگ اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے۔ ابن علیۃ راوی اضافہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے میں اس (معین) درخت کو فروخت نہیں کروں اس درخت (معین) کو فروخت نہیں کروں گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22509]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22509، ترقيم محمد عوامة 21602)
ترقیم عوامۃ: Not Found ترقیم الشثری: -- 22510
٢٢٥١٠ - زاد ابن علية عن ابن عون فتحدثنا ان ابن عمر كان يقول: لا ابيع هذه النخلة، ولا (ابيع) (١) هذه النخلة (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [هـ].
(٢) منقطع؛ ابن عون لم يدرك ابن عمر.
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22510، ترقيم محمد عوامة ---)
ترقیم عوامۃ: 21603 ترقیم الشثری: -- 22511
٢٢٥١١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عباد عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب انه كره ان (يشتري شيئا من النخل) (١) بكيل.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (بيع النخل)، وفي [أ، ح]: (يشتري من النخل)، وسقط من: [ط].
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ اس بات کو ناپسند فرماتے تھے کہ کھجور کے درختوں میں سے کچھ ماپ کر خریدے جائیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22511]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22511، ترقيم محمد عوامة 21603)
ترقیم عوامۃ: 21604 ترقیم الشثری: -- 22512
٢٢٥١٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو الاحوص عن (ابي حمزة) (١) قال: قلت لإبراهيم: (ابيع) (٢) الرجل الشاة و (استثني) (٣) بعضها، قال: لا، ولكن (قل) (٤) : ابيعك نصفها.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط]: (ابن عمرة).
(٢) في [أ، هـ]: (أيبيع).
(٣) في [أ، ح، هـ]: (يستثني).
(٤) في [هـ]: (يقول)، وفي [أ، ح]: (قال).
حضرت ابو حمزہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابراہیم سے عرض کیا کہ میں ایک آدمی کو بکری فروخت کر کے اس کا بعض حصہ مستثنیٰ کیا ہے، ایسا کرنا کیسا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ٹھیک نہیں۔ بلکہ آپ اس کو یوں کہو کہ میں نصف بکری آپ کو فروخت کرتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22512]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22512، ترقيم محمد عوامة 21604)
ترقیم عوامۃ: 21605 ترقیم الشثری: -- 22513
٢٢٥١٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الصمد (عن) (١) ابي الجارود قال: سالت جابر بن زيد عن الرجل يبيع البيع ويستثني بعضه، قال: لا يصلح ذلك.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح]: (عبد)، وفي [جـ، ز]: (بن)؛ وانظر: الكنى للبخاري ص ٢٠، والجرح والتعديل ٩/ ٣٥٥.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ آدمی کوئی چیز فروخت کرتا ہے اور اس میں سے کچھ مستثنیٰ کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا یہ ٹھیک نہیں ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22513]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22513، ترقيم محمد عوامة 21605)
ترقیم عوامۃ: 21606 ترقیم الشثری: -- 22514
٢٢٥١٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا عبد الاعلى عن يونس عن الحسن في الرجل يبيع ثمر ارضه ويستثني الكر، قال: كان يعجبه ان يعلم نخلا.
حضرت حسن رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ آدمی اپنی زمین سے کھجور کی بیع کرے اور ایک (یا کچھ) کُرّ مستثنیٰ کرلے، آپ نے فرمایا تعجب ہے کہ وہ کھجور کے درخت کو جانتا ہے (کہ وہ کتنی کھجور دے گا)۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22514]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22514، ترقيم محمد عوامة 21606)
ترقیم عوامۃ: 21607 ترقیم الشثری: -- 22515
٢٢٥١٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن حجاج قال: سالت ابا بكر بن ابي موسى عن رجل باع من رجل سلعة وقال: انا (شريكك) (١) فيها قال: فكره هذا البيع.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (شريك).
حضرت حجاج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوبکر بن ابو موسیٰ رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ ایک آدمی نے دوسرے کو سامان فروخت کیا اور اس نے کہا کہ میں سامان میں تیرا شریک ہوں؟ آپ نے اس بیع کو ناپسند فرمایا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22515]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22515، ترقيم محمد عوامة 21607)