مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
205. في اللقطة ما يصنع بها؟
پڑی ہوئی کوئی چیز ملے تو اُس کا کیا کرے؟
ترقیم عوامۃ: 22049 ترقیم الشثری: -- 22993
٢٢٩٩٣ - [حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو بكر بن عياش عن عبد العزيز بن رفيع قال: حدثني ابي قال: وجدت عشرة دنانير، فاتيت ابن عباس فسالته (عنها) (١) ، فقال: عرفها على الحجر سنة، فإن تعرف فتصدق بها، (فإن) (٢) جاء صاحبها (فخيره) (٣) الاجر او الغرم (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [أ، ح، ط]: (فإذا).
(٣) في [أ، ط]: (فخير).
(٤) حسن؛ رفيع صدوق.
حضرت رفیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے بیس دینار ملے، میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوا اور آپ سے اس کے متعلق دریافت کیا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اونچی جگہ اس کا ایک سال تک اعلان کرو، اگر کوئی نہ ملے تو صدقہ کردو پھر اگر اس کا مالک آجائے تو اس کو اختیار ہے۔ چاہے صدقہ کا اجر لے یا نقصان اپنا لے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22993]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22993، ترقيم محمد عوامة 22049)
ترقیم عوامۃ: 22050 ترقیم الشثری: -- 22994
٢٢٩٩٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا شريك عن عامر بن شقيق عن ابي وائل قال: اشترى عبد الله جارية بسبعمائة درهم، فغاب صاحبها فانشدها حولا -او قال: سنة- ثم خرج إلى المسجد فجعل يتصدق ويقول: اللهم فله، فإن ابي فعلي (١) ، ثم قال: هكذا افعلوا باللقطة او بالضالة (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: زيادة (وإليَّ).
(٢) ضعيف؛ لضعف عامر بن شقيق.
حضرت ابو وائل سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے سات سو دراہم میں باندی خریدی، باندی کا مالک غائب ہوگیا تو آپ نے ایک سال تک اس کی تشہیر کی پھر مسجد میں آئے اور وہ صدقہ کر دئیے اور فرمایا: اے اللہ! یہ اس کے لئے ہیں، اگر وہ انکار کر دے تو پھر میرے لئے ہیں۔ پھر فرمایا: گم شدہ اور ملی ہوئی شے کے ساتھ بھی اسی طرح کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22994]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22994، ترقيم محمد عوامة 22050)
ترقیم عوامۃ: 22051 ترقیم الشثری: -- 22995
٢٢٩٩٥ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن ابي زائدة عن محمد بن إسحاق عن (عمرو) (١) بن شعيب عن ابيه عن جده قال: سمعت رجلا من مرينة يسال النبي ﷺ فقال: ما نجد في السبيل العامرة من اللقطة؟ فقال: (عرفها حولا، فإن جاء صاحبها وإلا فهي لك) (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (عمر).
(٢) منقطع حكمًا؛ ابن إسحاق مدلس عنعن وقد تولع، أخرجه أحمد (٦٦٨٣)، وأبو داود (١٧٠٨)، والنسائي (٥/ ٤٤)، وابن خزيمة (٢٣٢٨)، والبيهقي (٦/ ١٩٧)، والبغوي (٢٢١١)، والطبراني في الأوسط (٥٢٦)، والدارقطني (٣/ ١٩٤)، وأبو عبيد في الأموال (٨٦٠)، وابن عساكر (٤٦/ ٧٧).
حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے مزینہ کے ایک شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے سنا کہ: جو پڑی ہوئی چیز ہمیں آباد (جہاں لوگوں کی آمد و رفت کثرت سے ہو) راستے میں ملے اس کا کیا کریں؟ آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر اس کا مالک مل جائے تو اچھا ہے اگر نہ ملے تو پھر وہ تیرے لئے ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22995]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22995، ترقيم محمد عوامة 22051)
ترقیم عوامۃ: 22052 ترقیم الشثری: -- 22996
٢٢٩٩٦ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا زيد بن حباب عن عبد الرحمن بن شريح قال: حدثني ابو قبيل عن عبد الله بن عمرو ان رجلا قال: التقطت دينارا، (فقال) (١) : لا ياوي الضالة إلا ضال، قال: فاهوى (به) (٢) الرجل ليرمي به (فقال) (٣) : لا تفعل، قال: فما اصنع (به) (٤) ؟ قال: تعرفه، فإن جاء صاحبه فرده ⦗١٢٦⦘ إليه وإلا فتصدق به (٥) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، جـ، ح، ط]: (قال)، وفي [ز]: (قالا).
(٢) سقط من [ط].
(٣) في [ز]: (قال).
(٤) سقط من: [ز].
(٥) صحيح.
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص کہنے لگا کہ مجھے ایک دینار ملا ہے۔ دوسرے شخص نے کہا کہ گم شدہ چیز کو گمراہ آدمی ہی ٹھکانہ دیتا ہے۔ وہ شخص اس کو مارنے کے لئے آگے بڑھا تو حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا ایسا مت کرو، اس نے دریافت کیا کہ پھر اس دینار کا کیا کروں؟ آپ نے فرمایا اس کی تشہیر کرو، اگر مالک مل جائے تو اس کو لٹا دو، وگرنہ اس کی طرف سے صدقہ کردو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22996]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22996، ترقيم محمد عوامة 22052)
ترقیم عوامۃ: 22053 ترقیم الشثری: -- 22997
٢٢٩٩٧ - [حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا (مسعر) (١) وسفيان عن حبيب بن ابي ثابت قال: سئل ابن عمر عن اللقطة، فقال: ادفعها إلى الامير] (٢) (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، هـ]: (مسعود)، في [ب]: (مسعر قال: حدثنا).
(٢) سقط الخبر من: [ط].
(٣) صحيح.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے لقطہ (گری پڑی ہوئی چیز) کے متعلق سوال کیا گیا آپ نے فرمایا امیر وقت کے حوالہ کردو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22997]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22997، ترقيم محمد عوامة 22053)
ترقیم عوامۃ: 22054 ترقیم الشثری: -- 22998
٢٢٩٩٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن ابي إسحاق عن ابي السفر عن رجل من بني رؤاس، قال: التقطت ثلاثمائة درهم فعرفتها تعريفا ضعيفا وانا يومئذ محتاج، فاكلتها حين لم اجد احدا يعرفها، ثم ايسرت فسالت عليا فقال: عرفها سنة، فإن جاء صاحبها فادفعها إليه، وإلا فتصدق بها، وإلا فخيره بين الاجر وبين ان تغرمها له (١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) مجهول؛ لإبهام الرجل.
حضرت ابو سفر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ بنی رُؤاس میں سے ایک شخص کہتے ہیں کہ مجھے تین سو دراہم ملے، میں نے ان کی تھوڑی سی تشہیر کروائی میں ان دنوں خود محتاج تھا۔ تشہیر کے بعد جب میں نے کسی کو نہ پایا تو میں نے وہ کھا لیئے، پھر بعد میں صاحب استطاعت ہوگیا تو میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق دریافت کیا؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایک سال تک ان کی تشہیر کرو، اگر مالک آجائے تو اس کے حوالے کردو، وگرنہ اس کی طرف سے صدقہ کردو، اور اس کو اختیار ہے کہ اس کا اجر (صدقہ) لے لے یا تُو اس کا نقصان پورا کر دے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22998]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22998، ترقيم محمد عوامة 22054)
ترقیم عوامۃ: 22055 ترقیم الشثری: -- 22999
٢٢٩٩٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا يونس (بن) (١) ابي إسحاق قال: سمعت هذا الحديث من ابي السفر عن رجل من بني (رؤاس) (٢) عن علي مثله إلا (انه) (٣) لم يقل: عرفها (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عن).
(٢) في [أ، جـ، ح، ط، ز]: (رواس).
(٣) في [ط]: (نه).
(٤) مجهول؛ لإبهام الرجل.
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح منقول ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 22999]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22999، ترقيم محمد عوامة 22055)
ترقیم عوامۃ: 22056 ترقیم الشثری: -- 23000
٢٣٠٠٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن إبراهيم بن عبد الاعلى عن سويد قال: كان عمر بن الخطاب يامر ان تعرف اللقطة سنة، فإن جاء صاحبها وإلا (تصدق) (١) بها، فإن جاء صاحبها (٢) خير (٣) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط]: (يتصدق)، وفي [ز]: (فتصدق).
(٢) في [أ، ح، ط]: زيادة (وإلا).
(٣) صحيح.
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ لقطہ کے متعلق حکم فرماتے تھے کہ ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر مالک آجائے تو ٹھیک وگرنہ اس کی طرف سے صدقہ کردو، اگر پھر اس کا مالک آجائے تو اختیار ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23000]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23000، ترقيم محمد عوامة 22056)
ترقیم عوامۃ: 22057 ترقیم الشثری: -- 23001
٢٣٠٠١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع (قال: حدثنا) (١) الاسود بن (شيبان) (٢) عن ابي نوفل (بن) (٣) ابي عقرب عن ابيه قال: التقطت بدرة فاتيت بها عمر بن الخطاب فقلت: يا امير المؤمنين (اغنها) (٤) عني، (فقال) (٥) : واف بها (الموسم) (٦) ، (فوافيت) (٧) بها الموسم (٨) فعرفتها، فلم اجد احدا يعرفها (٩) . فاغنها عني، فقال: إلا اخبرك بخير (سبلها) (١٠) تصدق بها، فإن جاء صاحبها فاختار المال غرمت له وكان الاجر لك، وإن اختار الاجر كان الاجر له ولك ما نويت (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ز]: (وكيع عن الأسود).
(٢) في [أ، جـ، ح، ز، ط]: (هلال)، وتقدم مثل هذا الإسناد باب الوصال من كتاب: الصيام برقم [٩٨٥٥]، وسيأتي في باب المرأة تزوج عبدها، من كتاب الحدود برقم [٣٠٦٧٩].
(٣) في [جـ]: (عن).
(٤) في [أ، ح، ط]: (أعنها).
(٥) في [ز]: (قال).
(٦) في [أ، ح، ط]: سقط.
(٧) في [أ، ح، ط، ز]: (فوفيت).
(٨) في [هـ]: زيادة (فقال: عرفها حولًا).
(٩) في [هـ]: زيادة (فأتيته فقلت).
(١٠) في [أ، ح]: (سبيلها)، وفي [ط]: (سبيل).
(١١) صحيح.
حضرت ابو عقرب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ مجھے پیسوں کی ایک تھیلی ملی۔ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے امیر المؤمنین! آپ میری طرف سے ان کی حفاظت کرنے کے لئے نائب بن جائیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایام حج میں اعلان کرنا، میں نے ایام حج میں اعلان کیا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایک سال تک تشہیر کرو۔ میں نے تشہیر کی لیکن مالک کو نہ پایا، میں پھر آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ میری طرف سے حفاظت کے لئے نائب بن جائیں، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تجھے ایک بہتر راستہ بتلاؤں، ان کو صدقہ کر دے، اگر پھر مالک آجائے اور مال مانگے تو نقصان کا ذمہ دار ہے، اور صدقہ کا اجر تجھے ملے گا، اور اگر وہ اجر کا طالب ہو تو اجر اس کو ملے گا اور تجھے وہی ملے گا جس کی تو نیت کرے گا۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23001]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23001، ترقيم محمد عوامة 22057)
ترقیم عوامۃ: 22058 ترقیم الشثری: -- 23002
٢٣٠٠٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن ابي زائدة عن زكريا عن الشعبي قال: تعرف اللقطة سنة، فإن لم تجد لها طالبا فاعطها اهل بيت من المسلمين فقراء (وقل) (١) لهم: هذه قرض من صاحبها عليكم، فإن جاء فهو احق بها، (وإن) (٢) لم يجيء فهي (صدقة) (٣) عليكم منه.
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ح، ز]: (وقيل)، وفي [جـ]: (وقل هم)، وفي [هـ]: (قل).
(٢) في [ز]: (فإن لم يج).
(٣) زائدة في: [جـ].
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لقطہ کی ایک سال تشہیر کی جائے گی، اگر اس کا مالک نہ ملے تو فقراء اہل بیت کو دے دے اور ان کو یہ کہہ دے کہ یہ تم پر اس کے مالک کی طرف سے قرض ہے اگر تو مالک آگیا تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ اور اگر وہ نہ آیا اس کی طرف سے تم پر صدقہ ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 23002]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23002، ترقيم محمد عوامة 22058)