مصنف ابن ابي شيبه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم عوامہ
ترقيم الشژي
عربی لفظ
اردو لفظ
447. في القاضي ما ينبغي أن يبدأ به في قضائه
قاضی کے لئے فیصلہ میں کس چیز سے آغاز اور ابتداء کرنا بہتر ہے
ترقیم عوامۃ: 23442 ترقیم الشثری: -- 24488
٢٤٤٨٨ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن (ابي) (١) عون عن الحارث بن (عمرو) (٢) (الهذلي) (٣) عن رجال من اهل حمص (من) (٤) اصحاب معاذ (عن) (٥) معاذ ان النبي ﷺ لما بعثه قال (له) (٦) :"كيف تقضي؟" قال: اقضي بما في كتاب الله، قال:"فإن جاءك امر ليس في كتاب الله" قال: اقضي بسنة رسول الله ﷺ (٧) ، قال:"فإن لم تكن سنة من رسول الله (٨) ؟" قال: اجتهد رايي، قال:"الحمد لله (الذي) (٩) وفق رسول (رسول) (١٠) الله ﷺ" (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط]: (ابن).
(٢) في [ط]: (عمر)، وكذلك [ح، أ].
(٣) في [أ، ح، ط، هـ]: (الهمداني).
(٤) سقط من: [ط].
(٥) في [ز]: (بن).
(٦) في [جـ، ز]: زيادة (له).
(٧) سقط من: [أ، ح، ز].
(٨) زيادة في [جـ]: ﷺ.
(٩) سقط من: [ط].
(١٠) سقط من: [ط]، وفي [ز]: (رسو).
(١١) مجهول، وصححه وحسنه جماعة لتلقي أهل العلم له بالقبول، أخرجه أحمد (٢٢٠٦١)، والترمذي (١٣٢٧)، وأبو داود (٣٥٩٢)، وابن ماجه (٥٥)، والطيالسي (٥٥٩)، وابن سعد ٢/ ٣٤٧، والدارمي (١٦٨)، وعبد بن حميد (١٢٤)، والعقيلي ١/ ٢١٥، والبيهقي ١٠/ ١١٤، والخطيب في الفقيه ١/ ١٨٨، وابن عبد البر في جامع بيان العلم ٢/ ٥٥، والطبراني ٢٠/ ٣٦٢، والمزي ٥/ ٢٦٦.
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کو یمن کی طرف قاضی بنا کر بھیجا تو ان سے دریافت فرمایا: کیسے فیصلہ کرو گے؟ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی معاملہ ایسا آجائے جو کتاب اللہ میں نہ ہو؟ حضرت معاذ نے فرمایا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر وہ معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی نہ ہو؟ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں اپنی رائے کے مطابق فیصلہ کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے رسول اللہ کے قاصد کو اس بات کی توفیق عطاء فرمائی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24488]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24488، ترقيم محمد عوامة 23442)
ترقیم عوامۃ: 23443 ترقیم الشثری: -- 24489
٢٤٤٨٩ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو معاوية عن الشيباني عن محمد بن (عبيد الله) (١) الثقفي قال: لما بعث رسول الله ﷺ معاذا إلى اليمن قال:"يا معاذ! ⦗٥١٧⦘ بم تقضي؟" قال: اقضي بكتاب الله، قال:"فإن جاءك امر ليس في كتاب الله"، (قال: اقضي بما قضى (به) (٢) نبيه ﷺ، قال:"فإن جاءك امر ليس في كتاب الله) (٣) ولم يقض فيه نبيه (ولم) (٤) يقض فيه الصالحون؟" قال: اؤم الحق جهدي، قال: فقال رسول الله ﷺ:"الحمد لله الذي جعل (رسول) (٥) رسول الله ﷺ (٦) يقضي بما يرضى به رسول الله ﷺ (٧) " (٨) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [هـ]: (عبد اللَّه).
(٢) سقط من: [ز].
(٣) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٤) ناقصة، وفي [ح]: (ولم).
(٥) سقط من: [ط].
(٦) سقط من: [ز].
(٧) سقط من: [أ، ز].
(٨) مرسل؛ محمد بن عبيد اللَّه الثقفي تابعي.
حضرت محمد بن عبید اللہ سے مروی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف قاضی بنا کر بھیجا تو فرمایا اے معاذ! کیسے فیصلہ کرو گے؟ حضرت معاذ نے فرمایا: کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا، حضور 5 نے فرمایا: اگر کوئی ایسا معاملہ آجائے جو قرآن میں نہ ہو؟ حضرت معاذ نے فرمایا: میں رسول 5 کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کروں گا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی معاملہ ایسا آجائے جو قرآن میں بھی نہ ہو، اور اس کے متعلق نبی 5 نے بھی فیصلہ نہ کیا ہو اور اس کے متعلق متقدمین نیک لوگوں کا فیصلہ بھی موجود نہ ہو؟ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں اپنی کوشش اور رائے سے درست فیصلہ کروں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے رسول اکرم 5 کے قاصد کو اس کے مطابق فیصلہ کرنے کی توفیق دی جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راضی ہیں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24489]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24489، ترقيم محمد عوامة 23443)
ترقیم عوامۃ: 23444 ترقیم الشثری: -- 24490
٢٤٤٩٠ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن الشعبي عن شريح ان عمر بن الخطاب ﵁ كتب (إليه) (١) : إذا جاءك شيء في كتاب الله فاقض به، ولا يلفتنك عنه الرجال، (فإن) (٢) (جاءك) (٣) امر ليس في كتاب الله فانظر سنة رسول الله ﷺ فاقض بها، فإن جاءك (ما) (٤) ليس في كتاب الله وليس فيه (سنة) (٥) من رسول الله ﷺ (٦) فانظر ما اجتمع (عليه الناس) (٧) فخذ ⦗٥١٨⦘ (به، فإن جاءك ما ليس في كتاب الله ولم يكن فيه سنة من رسول الله ﷺ ولم يتكلم فيه احد قبلك فاختر) (٨) اي الامرين شئت: إن شئت ان تجتهد (برايك) (٩) وتقدم فتقدم، وإن شئت ان (تتاخر) (١٠) فتاخر، ولا ارى التاخر إلا خيرا لك (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ط، جـ، أ].
(٢) في [ز]: (وإن).
(٣) في [ح]: (جاء).
(٤) بدل (ما): (أمر) في [جـ].
(٥) سقط من: [ز].
(٦) سقط من: [أ، ح].
(٧) في [أ، هـ، ح]: (الناس عليه).
(٨) سقط من: [أ، ح، ز، ط].
(٩) في [ز]: (رأيك)، وكذلك في [جـ].
(١٠) في [جـ، ز]: (تأخر).
(١١) صحيح؛ أخرجه النسائي ٨/ ٢٣١، الدارمي (١٦٧)، وأبو نعيم ٤/ ١٣٦، والبيهقي ١٠/ ١١٠، وأبو نعيم ٤/ ١٣٦، وابن عبد البر في جامع بيان العلم ٢/ ٥٦.
حضرت شریح فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو لکھا، اگر کوئی معاملہ ایسا ہو جو قرآن میں ہو تو اس کے مطابق فیصلہ کرو اور آپ کو لوگ اس سے آزمائش میں مبتلا نہ کردیں، اور اگر کوئی معاملہ ایسا آجائے جو قرآن میں نہ ہو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو دیکھ کر اس کے مطابق فیصلہ کرو، اور اگر کوئی معاملہ ایسا ہو جو نہ قرآن میں ہو اور نہ ہی رسول اکرم 5 کی سنت میں ہو تو پھر دیکھو جس چیز پر لوگوں کا اجماع ہوا ہے اس فیصلہ کو لے لو، اور اگر کوئی معاملہ ایسا آجائے جو نہ قرآن میں ہو، نہ ہی سنت رسول اللہ میں ہو اور نہ ہی آپ سے پہلے کسی نے اس کے متعلق فیصلہ کیا ہو تو پھر دو میں سے ایک معاملہ کو اختیار کرنا، اگر اپنی رائے سے اجتہاد کر کے لوگوں سے آگے نکلتا چاہتے ہو تو تم آگے نکل سکتے ہو اور اگر خود کو موخر رکھنا چاہو تو موخر بھی رہ سکتے ہو۔ میں موخر رہے میں ہی تمہاری بھلائی سمجھتا ہوں۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24490]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24490، ترقيم محمد عوامة 23444)
ترقیم عوامۃ: 23445 ترقیم الشثری: -- 24491
٢٤٤٩١ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابو معاوية عن الاعمش عن عمارة عن عبد الرحمن بن (يزيد) (١) قال: اكثروا على (٢) عبد الله ذات يوم فقال: يا ايها الناس! قد اتى علينا زمان لسنا نقضي، ولسنا هناك، ثم إن الله (قدر ان بلغنا) (٣) من الامر ما ترون، فمن عرض له منكم (قضاء) (٤) بعد اليوم فليقض بما في كتاب الله، فإن جاءه امر ليس في كتاب الله فليقض بما قضى (به) (٥) نبيه ﷺ، [فإن جاءه امر ليس في كتاب الله ولم يقض به نبيه (فليقض بما قضى به الصالحون، فإن اتاه امر ليس في كتاب الله ولم يقض به رسول الله ﷺ) (٦) ] (٧) ولم يقض به الصالحون فليجتهد (رايه) (٨) ولا (يقول) (٩) : ⦗٥١٩⦘ إني ارى وإني اخاف، فإن الحلال بين والحرام بين، وبين ذلك امور (مشتبهات) (١٠) فدع ما يريبك إلى ما لا يريبك (١١) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) سقط من: [ز].
(٢) في [ز]: زيادة (أكثروا).
(٣) في [هـ، أ، ط]: (قد رأى).
(٤) في [ح]: (قضى).
(٥) سقط من: [ز].
(٦) سقط ما بين القوسين من: [أ، ح، ط، ز].
(٧) سقط ما بين المعكوفين من: [جـ].
(٨) في [أ، هـ]: (برأيه).
(٩) في [ط]: (تقول).
(١٠) في [هـ]: (متشابهات).
(١١) صحيح.
حضرت عبد الرحمن بن یزید سے مروی ہے کہ ایک دن لوگ حضرت عبد اللہ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: اے لوگو! تحقیق ہم پر ہم پر ایسا وقت گزرا ہے کہ نہ ہم فیصلہ کر یا اور نہ ہی فیصلہ کی جگہ موجود ہوئے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے امارت کا کام ہمارے مقدر میں کردیا۔ جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو۔ پس آج کے بعد تم میں سے جس کو عہد ہ قضاء پیش کیا جائے، تو اس کو چاہیئے قرآن کے مطابق فیصلہ کرے، اور اگر کوئی ایسا معاملہ آجائے جو قرآن میں نہ ہو تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق فیصلہ کرے، اور اگر کوئی ایسا معاملہ آجائے جو قرآن و حدیث میں نہ ہو تو جو صالحین نے فیصلہ کیا ہے اس کے مطابق فیصلہ کرو، اور اگر کوئی معاملہ ایسا ہو جو قرآن و سنت میں نہ ہو اور صالحین نے بھی اس کے متعلق فیصلہ نہ فرمایا ہو تو پھر اپنی رائے کے مطابق اجتہاد کرو، اور وہ یوں نہ کہے کہ میں ڈرتا ہوں، میں ڈرتا ہوں، بیشک حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں، پس شک میں ڈالی والی شے کو چھوڑ دو اور یقینی شے کو اختیار کرو۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24491]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24491، ترقيم محمد عوامة 23445)
ترقیم عوامۃ: 23446 ترقیم الشثری: -- 24492
٢٤٤٩٢ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن ابي زائدة عن الاعمش عن عمارة عن عبد الرحمن بن يزيد عن عبد الله مثل حديث (ابي) (١) معاوية (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [أ، ح، ط]: (ابن).
(٢) صحيح.
حضرت عبد اللہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24492]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24492، ترقيم محمد عوامة 23446)
ترقیم عوامۃ: 23447 ترقیم الشثری: -- 24493
٢٤٤٩٣ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن ابي زائدة عن الاعمش عن القاسم عن ابيه عن عبد الله نحوه إلا انه زاد فيه"فإن اتاه امر لا يعرفه (فليقر) (١) ولا يستحي" (٢) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [جـ]: (فيقر)، وفي [ع]: (فليفر).
(٢) صحيح.
حضرت عبد اللہ سے اسی طرح مروی ہے مگر اس میں اتنا اضافہ ہے کہ اگر کوئی ایسا معاملہ آجائے جس کو وہ نہ جانتا ہو تو اس کو اقرار کرلینا چاہیے (یعنی مان لے کہ میں اس معاملہ کو نہیں جانتا) اور شرم نہیں کرنی چاہیے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24493]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24493، ترقيم محمد عوامة 23447)
ترقیم عوامۃ: 23448 ترقیم الشثری: -- 24494
٢٤٤٩٤ - حدثنا ابو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن (عبيد الله) (١) بن ابي (يزيد) (٢) قال: كان ابن عباس إذا سئل عن الامر، وكان في القرآن اخبر به، وإن لم يكن في القرآن فكان عن رسول الله ﷺ، اخبر به، فإن لم يكن فعن ابي بكر وعمر ﵄ (٣) ، فإن لم يكن قال: فيه برايه (٤) .
ريفرينس و تحكيم الحدیث:
(١) في [ط، ز، ح، أ، جـ]: (عبد اللَّه).
(٢) في [ز]: (زائدة).
(٣) سقط من: [جـ].
(٤) صحيح.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے جب کوئی چیز دریافت کی جاتی اور وہ قرآن میں ہوتی اس کے متعلق بتا دیتے، اور اگر قرآن میں نہ ہوتی اور حدیث رسول میں ہوتی اس کو بتا دیتے، اور اگر اس میں نہ ہوتی تو حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہ ما کے اقوال میں دیکھتے اور اگر اس میں بھی نہ ملتی تو پھر اپنی رائے سے اجتہاد کرتے۔ [مصنف ابن ابي شيبه/كتاب البيوع والأقضية/حدیث: 24494]
تخریج الحدیث: (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 24494، ترقيم محمد عوامة 23448)